میرے خیال میں یہ شعر اس طرح ہے : نفرتیں مٹاؤ محبتیں پھیلاو لوگو
کسی کو چاہو کسی کا پیار بن کے رہو
توقیر — اکتوبر 10، 2006 7:18 شام
بحث کرنے سے میرا کوئی فائدہ نہیں ۔
شمشاد — اکتوبر 10، 2006 7:26 شام
نفرتیں مٹاو محبتیں پھلادو لوگوں
کی کو چاہو کس کا پیار بن کے رہو لیکن یہ ‘ پھلا دو لوگوں “ کیا ہے اور پھر ‘ کی کو چاہو“ اور مزید یہ کہ “ کس کا پیار“ غزل آپ کی ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں، لیکن نہ تو یہ بحر میں ہے اور نہ وزن میں
تیشہ — اکتوبر 10، 2006 8:48 شام
صیح کہہ رہے ہیں ۔
سپینوزا — اکتوبر 10، 2006 9:02 شام
آپ لوگوں نے تو کچھ عجیب سی بحث شروع کر دی ادھر۔ خیر میرے نک پر امید ہے کہ اب کسی کو اعتراض نہ ہو گا۔ “پیار کرو گے“ سے “نفرت کرو گے“ کیا تھا اور اب “منصور حلاج“ رکھ لیا ہے۔
زیک — اکتوبر 10، 2006 9:52 شام
خوشآمدید منصور حلاج۔ اتنی سی دیر میں اتنے سارے نک
شاہد احمد خان — اکتوبر 10، 2006 9:55 شام
خوش آمدید منصور حلاج ثانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
یوں ہی دل کے چاہے پر
نام بدل لینے سے
دل کے نہاںخانوںمیں
دیپ جل اٹھیں گے کیا یوں ہی دل کے چاہے پر
چل پڑو گے ہر رستے
تم بھٹک نہ جاو گے
کیسے لوٹپاو گے یوں ہی دل کے چاہے پر
سولی کون چڑھتا ہے
زہر کون پیتا ہے
کون موت ، جیتا ہے یوں ہی دل کے چاہے پر
بن گئے ہو منصور گر تم
سوچ لینا اس راہ میں
جھوٹ چل نہیں سکتا
سپینوزا — اکتوبر 10، 2006 10:02 شام
شکریہ شاہد۔ آپ کی نظم پسند آئی مگر “انا الحق“ کا تو سفر ہی بہت کٹھن ہے۔ شاید رومی نے کہا تھا کہ یہ تو خود کو مٹا دینے کا نام ہے۔
سپینوزا — اکتوبر 10، 2006 10:11 شام
زکریا نے کہا:
خوشآمدید منصور حلاج۔ اتنی سی دیر میں اتنے سارے نک
شکریہ زکریا۔ اصل میں پرانے نکس پر بہت اعتراض ہوئے تھے۔ میں نے سوچا کہ لوگوں کو ناراض کر کے یہاں نہیں رہا جا سکتا۔
شاہد احمد خان — اکتوبر 10، 2006 10:23 شام
منصور ثانی انا الحق کا سفر صرف ایک لا یعنی اصطلاحہے ۔ انا الحق سیدھا سا کلمہ کفر ہے ۔۔ حق اللہ کا اللہ کے لئے انا الحق کا مطلب ہے “میں حق ہوں“ “منصور کے پردے میں خدا بول رہا ہے “ اس پر سوچیئے گا بھائی بھلا اللہ کی کبریائی کو کسی انسان کے پردے سے بولننے کی کیا ضروت ہے ،، یہ تو سراسر اللہ پر بہتان ہے ۔۔ آپ کو یا کسی اور کو اس بارے میںکوئی اعتراضہو تو میں دور کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔انشاءاللہ
دوست — اکتوبر 11، 2006 12:08 صبح
منصور حلاج مجبور تھا۔
اس کا دوش نہیں تھا اس کے بس کی بات ہی نہیں تھی جو اسے دے دیا گیا تھا۔
شاہد احمد خان — اکتوبر 11، 2006 1:24 صبح
میرے دوست ،، کائنات میں اللہ سوہنے کے بعد اگر کسی کا مقام ہے تو وہ صرف اور صرف نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفٰی صلی علیہ وسلم کی ذات با برکات ہے ،، جب اللہ نے ان کو ان کے ظرف سے زیادہ بوجھ نہیں اٹھانے دیا۔۔ جب موسیٰ جیسا نبی طور پر نور کی تجلی کی ایک جھلک کو نہ سہار سکا ،، تو یہ منصور حلاج کس کھیت کی مولی ہے کہ اللہ جل شانہ اس کو اس کے ظرف سے زیادہ عطا کر دیں ،، اور معاف کیجئے گا کیا اللہ تعالیٰ کو علم نہیںتھا کہ منصور کا ظرف اتنا چھوٹا ہے ۔۔ اللہ کو واحد لا شریک ماننا ہی ایمان کا پہلا اور سب سے بلند درجہ ہے،، اس لئے منصور حلاج کی کہانی اور اس جیسی خرافات سے دور رہنے کی دعا کرنی چاہیئے ۔۔ ۔۔ اللہ ہمارے ایمان کو سلامت رکھیں ۔۔ آمین
الف عین — اکتوبر 11، 2006 2:20 صبح
لو بات کہاں سے کہاں پہنچ گئ، تو اب پتہ چلا کہ یہ پ ک گ ہی نے نیا نِک اختیار کیا ہے، امید ہے کہ یہ محض نِک رہے گا جیسا کہ شاہد میاں نے بہت اچھی باتیں کہی ہیں یہاں۔
لیکن ایسی عرفیت والے لوگ اپنا نام بتائے بغیر اپنی شاعری بھی پوسٹ کر دیتے ہیں اور اگر میں اسے اپنے جریدے کے لئے منتخب کروں تو کیسے کروں جب تک یہ تخلیق کار اپنا اصل نام ذ پ نہ کرے۔
اب ادھر ایک احمد فراز آ گئے ہیں، وہ بھی کوئ غزل پوسٹ کر دیں تو کیا وہ احمد فراز کے نامۂ اعمال میں پہنچ جائے گی؟؟
سپینوزا — اکتوبر 11، 2006 3:10 صبح
کیا مسئلہ ہے؟ یہ کن باتوں میں پڑ گئے آپ لوگ؟ کفر تک بات پہنچ گئی۔ جس شخص کے بارے میں آپ یہ بات کر رہے ہیں اس کو کس تشدد سے مارا گیا کچھ اسی کا خیال کر لیں اور چپ رہیں۔ کتنی دفعہ کہوں کہ یہ ایک نک ہے اور کچھ نہیں۔
محب علوی — اکتوبر 11، 2006 9:06 صبح
منصور حلاج نے کہا:
کس کو معلوم ہے کہ “محب علوی“ اصل نام ہے کہ محض ایک نک (معذرت محب، آپ کو تنگ کرنا مقصد نہیں مگر آپ کا نک یہاں بہترین مثال تھا)۔
یار میرا نام تو تم نے بہت ہی اچھال دیا ہے زیادہ پسند آگیا ہے تو ویسے ہی بتا دو نہیں تو میں خود ہی کچھ سوچ لوں اس کا۔ ویسے میرا نک بہترین مثال کس طرح سے ہے کچھ اس پر روشنی ڈالیں گے ، دوست اور فریب کا نک نظر سے نہیں گزرا کیا ویسے بہت لوگوں کو معلوم ہے کہ “محب علوی “ اصل نام ہے کہ نک۔
سپینوزا — اکتوبر 11، 2006 2:45 شام
محب: “دوست“ اور “فریب“ سے تو صاف ظاہر ہے کہ نک ہیں کیونکہ اصل نام ہو نہیں سکتے۔ “محب علوی“ البتہ اصل نام لگتا ہے۔ عام طور سے نک یکلفظی ہوتے ہیں یا پھر کسی اصل یا fictional انسان کا نام استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کم ہی ہوتا ہے کہ کوئی عام سا مکمل نام نک کے طور پر استعمال کیا جائے۔
محب علوی — اکتوبر 11، 2006 2:52 شام
فریب تو نہیں البتہ دوست محمد نام میں نے سنا ہے کئی بار۔ محب علوی اصل نام لگتا ہے مگر نک ہے یہ کیسے پتہ چلا اور کیا کیا پتہ چلا یہ بھی کچھ اشاروں میں پتہ چل جائے تو لطف رہے گا میں چاہ رہا ہوں کہ اگر مجھ پر تحقیق ہوئی ہی ہے تو تھوڑی اور ہوجائے
سپینوزا — اکتوبر 11، 2006 7:23 شام
محب آپ کو انٹرویو پڑھا تھا وہیں سے پتہ چلا۔ خود کو اتنا اہم نہ سمجھیں کہ دوسرے آپ کے بارے میں تحقیق کریں گے۔
قیصرانی — اکتوبر 11، 2006 9:04 شام
خوش آمدید منصور حلاج، ایک مشورہ ہے کہ آپ کے پیغامات سے بہت واضح طور پر آپ کے اصل نام کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ پلیز تھوڑا سا محتاط رہیں
زیک — اکتوبر 11، 2006 10:16 شام
خوشآمدید منصور حلاج۔ تاریخی نام چنا ہے آپ نے۔ میری طرف سے معذرت قبول کریں کہ آپ کو اچھے طریقے سے خوشآمدید نہیں کہہ سکا۔ امید ہے کہ آپ آتے رہیں گے۔