ٹیوہ بھی بنیادی طور پہ تُکا ہوتا ہے ۔ پنجاب کے کچھ علاقوں میں جب کسی کی کوئی چیز گُم ہو جاتی ہے تو وہ ایک بابا جی کا پاس جاتے ہیں جو ڈبہ گُھما کے بتاتے ہیں کہ آپ کی مطلوبہ چیز فلاں نے چوری کی اور فلاں جگہ سے ملے گی ۔ اسے ٹیوہ لگانا کہتے ہیں ۔
اگر تو بابا جی کا کہا ہوا سچ ہو جائے تو چیز مل جاتی ہے ورنہ بابا جی خود غائب ہو جاتے ہیں
اس ڈی بریفنگ کا کوئی لنک ملے گا؟

یہاں سب اراکین سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے 
