میں اور میرا نام

نبیل — اپریل 8، 2009 1:45 شام
مجذوب سے اچھا تخلص تو تجاذب ہے ، جاذب و مجذوب دونوں کے معنوں پر محیط ہے;)
اور ہاں حالیہ جاذب صاحب محفل پر خوش آمدید
اگر انگریزی تخلص رکھنا ممکن ہو ہو تو اوسموسس تخلص رکھا جا سکتا ہے۔ اس میں تجاذب کے ہی معنی پائے جاتے ہیں۔ :)
سلیمان جاذب — اپریل 8، 2009 1:54 شام
اپنا تعارف تو پیش کیجیے پھر ہم سوچتے ہیں صاحب۔ میں آپ کے بارے میں مکمل نہیں جانتا ۔

جی اب میں اپنا تعارف کہاں سے شروع کروں
مغزل — اپریل 8، 2009 1:54 شام
بابا جانی کے علاوہ دو شخصیات کے نام میں لے سکتی ہوں جن سے آپ ڈرتے ہیں:notworthy:

جی ہاں ایک تو تم ہو اور ایک زے (میری بیگم )
۔۔ مگر تم سے اتنا تو نہیں ڈرتا ۔ کہ دھمکانے لگ جاؤ
سلیمان جاذب — اپریل 8، 2009 1:55 شام
مجذوب سے اچھا تخلص تو تجاذب ہے ، جاذب و مجذوب دونوں کے معنوں پر محیط ہے;)
اور ہاں حالیہ جاذب صاحب محفل پر خوش آمدید

آُپ نے پہلی بار خوش آمدید کہا یا دوبارہ آنے پر
سلیمان جاذب — اپریل 8، 2009 1:56 شام
جی ہاں ایک تو تم ہو اور ایک زے (میری بیگم )
۔۔ مگر تم سے اتنا تو نہیں ڈرتا ۔ کہ دھمکانے لگ جاؤ

اس کا مطلب ہے دھمکانے والا کام ہماری بھابھی کا ہے
مغزل — اپریل 8، 2009 2:08 شام
ہر شریف آدمی بیوی سے ڈرتا ہے ۔
ویسے آپ ’’ شریف ‘‘ تخلص کیوں نہیں کر لیتے۔؟
سلیمان جاذب — اپریل 8، 2009 2:20 شام
ہر شریف آدمی بیوی سے ڈرتا ہے ۔

ویسے ابھی تک میری بیوی نہیں ہے۔
الف عین — اپریل 8، 2009 5:25 شام
بھئ ویسے ضروری تو نہیں کہ جاذب کو بدلا ہی جائے، جو تخلص بھی رکھیں گے، اس نام کا بر صغیر میں کہیں نہ کہیں سے نکل ہی آے گا۔ بدلنا ہی ہے تو کچھ مشورے دو۔
میں بھی پہلے اصل نام سے ہی لکھتا تھا، تقریبا دو سال تک اسی نام سے شائع ہوا۔ بعد میں بشیر بدر کہنے لگے کہ اختروں کی بھیڑ میں تم کھو جاؤ گے، اس لئے اس سے پیچھا چھڑا لو۔
تو میں نے مشورہ مانتے ہوئے دو نام سوچے، والدین کی نسبت سے، اعجاز صادق۔۔ لیکن اس نام کے ایک صاحب علی گڑھ میں ہی تھے۔۔ اور والدہ کے نام عبیدہ کی مناسبت سے اعجاز عبید، اور پھر اسی کو پسند کیا۔ ویسے عبیدوں کی بھی کمی نہیں، لیکن اعجاز عبید تو میں سمجھتا ہوں کہ دنیا میں واحد ہی ہیں۔۔
سلیمان جاذب — اپریل 9، 2009 6:42 صبح
عبید صاحب میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں اور بشیر بدر کی بات کی تائید اس لئے ہی تو میں سوچ رہا ہوں کہ دل لیا جائے ابھی تو کوئی زیادہ دیر نہیں ہوئی ابھی ممکن ہے ۔
ابو کاشان — اپریل 9، 2009 6:51 صبح
بھئ ویسے ضروری تو نہیں کہ جاذب کو بدلا ہی جائے، جو تخلص بھی رکھیں گے، اس نام کا بر صغیر میں کہیں نہ کہیں سے نکل ہی آے گا۔ بدلنا ہی ہے تو کچھ مشورے دو۔
میں بھی پہلے اصل نام سے ہی لکھتا تھا، تقریبا دو سال تک اسی نام سے شائع ہوا۔ بعد میں بشیر بدر کہنے لگے کہ اختروں کی بھیڑ میں تم کھو جاؤ گے، اس لئے اس سے پیچھا چھڑا لو۔
تو میں نے مشورہ مانتے ہوئے دو نام سوچے، والدین کی نسبت سے، اعجاز صادق۔۔ لیکن اس نام کے ایک صاحب علی گڑھ میں ہی تھے۔۔ اور والدہ کے نام عبیدہ کی مناسبت سے اعجاز عبید، اور پھر اسی کو پسند کیا۔ ویسے عبیدوں کی بھی کمی نہیں، لیکن اعجاز عبید تو میں سمجھتا ہوں کہ دنیا میں واحد ہی ہیں۔۔

ویسے انکل الف عین بھی منفرد ہے۔ مخففات کے قلمی نام کم ہی ہیں شاید۔ یا اردو میں اس کا رواج نہیں ہے ۔ اس تناظر میں میں ن م راشد کو ہی جانتا ہوں۔
مغزل — اپریل 9، 2009 6:51 صبح
ہاں تو آپ اپنی پسند کے کچھ تخلص تو بتائیں تاکہ ہمیں خبر ہو کہ ‌آپ کی منشا کیا ہے
مغزل — اپریل 9، 2009 6:58 صبح
ویسے انکل الف عین بھی منفرد ہے۔ مخففات کے پین نیم کم ہی ہیں شاید۔ یا اردو میں اس کا رواج نہیں ہے ۔ اس تناظر میں میں ن م راشد کو ہی جانتا ہوں۔

میرا نام محمد محمود مغل ہے مگر پی ٹی وی میں ایک اور صاحب میرے ہم نام نکل آئے مگر ان کے نام کے آگے سابقہ ڈاکٹر کا تھا اسی مغالطے میں ایک خاتون (شاعرہ ادیبہ ) کوئی چار برس ہم سے فون پر رابطے میں رہیں ۔۔ شعر و ادب پر گفتگو رہتی مگر چند ماہ پہلے رمضان میں‌ ان کا کوئی پروگرام آنا تھا جو نہ آسکا اس دن موصوفہ نے ہم سے پوچھا کہ آپ کا پروگرام کیا ہو ا۔۔ میں نے لاعلمی کا اظہار کیا تب جا کر کھلا کہ موصوفہ کسی اور محمود سے بات کرتی رہیں ۔۔ ہاا ہہا۔۔ سو تخفیف کرکے اسے م۔م۔مغل کردیا ۔ مگر اس نام پر بھی لوگ اعتراض کرتے ہیں کی صاحب کیا اس میں تنافر نہیں ؟؟
اب آپ ہی کہیں کہ کوئی کدھر جائے ۔۔؟
سلیمان جاذب — اپریل 9، 2009 7:02 صبح
ہاں تو آپ اپنی پسند کے کچھ تخلص تو بتائیں تاکہ ہمیں خبر ہو کہ ‌آپ کی منشا کیا ہے
ابھی دیکھیں کہ دو چار سامنے آئے ہیں ایک تو یہ کہ ’’ ج‘“ سے اگر آغاز ہو تو بہت اچھی بات ہے کیسے میں نے سوچا تھا
جاوید ، جنید ، وغیرہ اور جاذب کو جاذبی کرنے کا خیال بھی دل میں آیا لیکن صرف خیال ہی رہا مزید آگے پیش رفت نہ ہو سکی
جیہ — اپریل 9، 2009 7:30 صبح
میرا نام محمد محمود مغل ہے مگر پی ٹی وی میں ایک اور صاحب میرے ہم نام نکل آئے مگر ان کے نام کے آگے سابقہ ڈاکٹر کا تھا اسی مغالطے میں ایک خاتون (شاعرہ ادیبہ ) کوئی چار برس ہم سے فون پر رابطے میں رہیں ۔۔ شعر و ادب پر گفتگو رہتی مگر چند ماہ پہلے رمضان میں‌ ان کا کوئی پروگرام آنا تھا جو نہ آسکا اس دن موصوفہ نے ہم سے پوچھا کہ آپ کا پروگرام کیا ہو ا۔۔ میں نے لاعلمی کا اظہار کیا تب جا کر کھلا کہ موصوفہ کسی اور محمود سے بات کرتی رہیں ۔۔ ہاا ہہا۔۔ سو تخفیف کرکے اسے م۔م۔مغل کردیا ۔ مگر اس نام پر بھی لوگ اعتراض کرتے ہیں کی صاحب کیا اس میں تنافر نہیں ؟؟
اب آپ ہی کہیں کہ کوئی کدھر جائے ۔۔؟

یعنی کہ 4 برس انہیں قصدا عمدا خاتون کو مغآلطے میں رکھا۔ لگتا ہے خاتون کی آواز میٹھی ہے:callme:
سلیمان جاذب — اپریل 9، 2009 7:37 صبح
شکر ہے بھابھی جان کو پتہ نہیں چلا
مغزل — اپریل 9، 2009 10:57 صبح
شکر ہے بھابھی جان کو پتہ نہیں چلا

انہیں دو سال سے تو پتہ ہے ، بلکہ میری کئی ایک فین کے فون بھی گھر کے نمبر پر آتے ہیں۔
عموما وہی بات کرتی ہیں بعد میں میری باری آتی ہے ۔۔
مغزل — اپریل 9، 2009 10:59 صبح
یعنی کہ 4 برس انہیں قصدا عمدا خاتون کو مغآلطے میں رکھا۔ لگتا ہے خاتون کی آواز میٹھی ہے:callme:

نہ صاحب، اب ایسا بھی نہیں۔
انہیں میں نے مغالطے میں نہیں رکھا وہ خود رہیں۔۔
مجھ سے تو انہوں نے میرا پورا پوچھا اور اس کے بعد گفتگو رہی ۔
ویسے ۔۔ اب ایسا نہیں ہوتا ،
موصوفہ شہر کے بڑے نقاد اور شاعر کے خانوادے سے ہیں۔
مغزل — اپریل 9، 2009 11:00 صبح
ابھی دیکھیں کہ دو چار سامنے آئے ہیں ایک تو یہ کہ ’’ ج‘“ سے اگر آغاز ہو تو بہت اچھی بات ہے کیسے میں نے سوچا تھا
جاوید ، جنید ، وغیرہ اور جاذب کو جاذبی کرنے کا خیال بھی دل میں آیا لیکن صرف خیال ہی رہا مزید آگے پیش رفت نہ ہو سکی

جاذبی سے جمیل جالبی یاد آتے ہیں ۔ ( اب ہم بھی اعتراض کریں گے ) :rollingonthefloor:
آپ اپنا تخلص نامعلوم کیوں نہیں رکھ لیتے ہزارو ں نامعلوم شعراء کے اشعار بھی آپ کے کھاتے میں آجائیں گے۔:rollingonthefloor:
جیہ — اپریل 9، 2009 11:36 صبح
نہ صاحب، اب ایسا بھی نہیں۔
انہیں میں نے مغالطے میں نہیں رکھا وہ خود رہیں۔۔
مجھ سے تو انہوں نے میرا پورا پوچھا اور اس کے بعد گفتگو رہی ۔
ویسے ۔۔ اب ایسا نہیں ہوتا ،
موصوفہ شہر کے بڑے نقاد اور شاعر کے خانوادے سے ہیں۔

سیریس ہونا منع ہے
محمد وارث — اپریل 9، 2009 12:22 شام
السلام علیکم سلیمان جاذب صاحب، میرے خیال میں 'جاذب' تخلص میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اگر آپ اسے صرف اس وجہ سے بدلنا چاہ رہے ہیں کہ یہ تخلص اور شعرائے کرام کا بھی ہے کیونکہ اسطرح تو ہوتا ہے اسطرح کے کاموں میں، اور ایک ایک تخلص کئی کئی شعرا نے استعمال کیا ہے، ویسے 'سلیمان جاذب جذبی' کے بارے میں کیا خیال ہے :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D9%86%D8%A7%D9%85.20718/page-2