میں اور میرا نام

سلیمان جاذب — اپریل 27، 2009 6:54 صبح
جناب آپ نے بچوں کے نام والی کتب سے حوالہ دیا ہے ، اس کی صحت پر شکوک ہیں کہ اسناد نہیں ہوتی :
جازم
جازم . [ زِ ] (ع ص ) برنده و قطع کننده . (منتهی الارب ) (آنندراج ). || عزم استوار کننده . (آنندراج ) : تاش جازم بود که یک حمله ٔ دیگر برد که خاتمه ٔ کار باشد.(ترجمه ٔ تاریخ یمینی ص 65). سلطان اگرچه بر استخلاص سجستان و استصفاء آن نواحی جازم بود... آن کار فراهم گرفت . (ترجمه ٔ تاریخ یمینی ص 200). جازم شد که اول خاطر از وی بپردازد و بیضه ٔ ملک و آشیانه ٔ دولت او به صرصر قهر برباد دهد. (ترجمه ٔ تاریخ یمینی ص 261). || ساکن کننده حرف متحرک را. (آنندراج ). حرفی که چون بر فعل معرب درآید حرف آخر آن را ساکن گرداند. رجوع به جازمة و حروف جازمه شود. || بعیر جازم ؛ شتر سیرآب . || سقاء جازم ؛ مشک پر.(منتهی الارب ) (آنندراج ). ج ، جوازم . (منتهی الارب ).
(لغت دھخدا ایران)
جازم شدن
جازم شدن . [ زِ ش ُ دَ ] (مص مرکب ) دل بر کاری نهادن . یکدل شدن بر کاری . قاطع بودن بر کاری .
- جازم شدن بر ؛ دل نهادن بر. یکدل شدن بر.
اردو لغت بورڈ کی لغت کے مطابق:
جازِم [جا + زِم] (عربی)
ج ز م جازِم
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی بطور اسم صفت مستعمل ہے۔
1854ء میں ذوق کے "دیوان" میں مستعمل ملتا ہے۔
صفت ذاتی ( مذکر - واحد )
جنسِ مخالف: جازِمَہ [جا + زِمَہ]
جمع استثنائی: جازَمین [جا + زَمِین]
1. قاطع، پختہ، پکا۔
"میں اس سوال کا جازم جواب نہیں دے سکتا" ( 1945ء، حکیم الامۃ، 54 )
2. [ نحو ] فعل مضارع کو جزم (سکون) دینے والا عامل (لم، ان، وغیرہ)۔
ع جازم فعل مضارع ان دلم لماّ و لام ( 1845ء، ذوق، دیوان، 274 )
میری ذاتی رائے میں یہ نام نا مناسب ہے آپ کے لیے کہ نام کے اثرات کا واقع ہونا اصل سے ثابت ہے۔

آپ کی تحریر نظر سے گزری
خوب ہے میں بھی کسی مستند لغت سے تلاش کرتا ہوں اس کے معانی
سلیمان جاذب — اپریل 27، 2009 6:56 صبح
تازہ اطلاع کے مطابق احمد خلیل جازم نامی ایک شاعر موجود ہیں، کہ جس نام سے آپ فرار اختیار کررہے ہیں ، وہ ،،۔ اب بھی آڑے آرہا ہے ۔
نام کا اثر یہ کہ موصوف بہت عمدہ شعر کہنے والے ہیں مگر اس دقیق تخلص کے اختیا ر کرنے پر منظر میں اپنی جگہ نہ بنا پائے
مجھے لگتا ہے دنیا میں نام ملنا مشکل ہو گیا ہے یعنی ہر نام پہلے سے موجود ہے چلو کوئی جازم بھی نکل ہی آیا
ًمغل بھائی معاملہ سنگین ہوتا جا رہا ہے کیا کیا جائے
زینب — اپریل 27، 2009 7:18 صبح
نہیں مغل بھائی ابھی تک کوئی قابل ذکر نام سامنے نہیں آیا تلاش میں ہوں اور آپ کی نظر میں کوئی ہے تو پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چپ کر کے "جامن" کر دو اللہ اللہ خیر سلہ:rollingonthefloor:
سلیمان جاذب — اپریل 27، 2009 7:24 صبح
چپ کر کے "جامن" کر دو اللہ اللہ خیر سلہ:rollingonthefloor:
اس مشورہ پع کیا کہوں جامن یا جزاک اللہ
زینب — اپریل 27، 2009 7:29 صبح
میں نے کہا‌ہے چپ کر کے رکھ لیں۔۔۔۔۔۔۔۔کرنا تو آپ نے خبطیوں والا ہی کام ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے تو سارے شاعر خبطی لگتے ہیں مغل بھائی اور فیصل بھائی سمیت:rollingonthefloor:
جامن رکھ لیں کتنا اچھا کھٹا میٹھا سا نام ہے نا۔نام لیتے ہی منہ میں پانی بھر آئے:rollingonthefloor:
سلیمان جاذب — اپریل 27، 2009 7:34 صبح
میں نے کہا‌ہے چپ کر کے رکھ لیں۔۔۔۔۔۔۔۔کرنا تو آپ نے خبطیوں والا ہی کام ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے تو سارے شاعر خبطی لگتے ہیں مغل بھائی اور فیصل بھائی سمیت:rollingonthefloor:
جامن رکھ لیں کتنا اچھا کھٹا میٹھا سا نام ہے نا۔نام لیتے ہی منہ میں پانی بھر آئے:rollingonthefloor:

کیا بات ہے ویسے آپ بھی تو خنطی ہیں ہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انکار مت کیجئے گا
اگر جامن سمجھ کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔:blushing:
زینب — اپریل 27، 2009 7:37 صبح
توبہ کریں جھے کوئی شوق نہیں بکھرے بال اور ملگجے کپڑے ہننے کا میرا شمار خبطیوں میں‌نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جامن سمجھ کر کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
سلیمان جاذب — اپریل 27، 2009 7:41 صبح
توبہ کریں جھے کوئی شوق نہیں بکھرے بال اور ملگجے کپڑے ہننے کا میرا شمار خبطیوں میں‌نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کس زمانے کی بات ہے جی آج کل ایسے شاعر نہیں ہوتے
اچھا تو آپ جو زور جامن پر لگا رہی رہیں ہیں وجہ کی ہے ؟
مغزل — اپریل 27، 2009 8:16 صبح
میرے خیال میں ستاروں، پتھروں، ناموں وغیرہ وغیرہ کے انسانی زندگی پر کچھ اثرات نہیں ہوتے، یہ سب واہمے اور توہمات ہیں، اگر ایسا کچھ ہوتا تو 'خادم' نامی کوئی آدمی کبھی قعرِ مذلت سے نہ نکل سکتا، اور 'عالم' اور 'فاضل' نامی آدمی کبھی جاہل نہ ہوتے۔
جازِم تخلص میں بھی قطعاً کوئی مضائقہ نہیں ہے اگر آپ کو اچھا لگتا ہے تو اسے ضرور رکھیں، اور مطلب بھی کچھ برا نہیں ہے، پختہ، پکا وغیرہ تو بہت اچھے مطالب ہیں!

وارث صاحب ، ستاروں پتھروں کے خواص اور اثرات پر تو بحث نہیں ، کہ اسلام میں ان پر یقین رکھنے سے ممانعت ہے ، یہ الگ قصہ کہ ان کے علوم کا صحیح ہونا ثابت ہے ، مگر چونکہ اسلام میں ممانعت ہے سو ممانعت ۔۔ مگر ناموں کے اثرا ت کے حوالے سے میں آپ کی بات سے متفق نہیں کہ احادیث کے استدلال سے ان اثر ثابت ہے ۔۔ ( فقط واللہ اعلم ابالصواب)
جازم کے معانی ہم نے بھی پیش کردیے ہے میری ذاتی رائے میں یہ مناسب تخلص نہیں ، آپ کی بات سے بھی اختلاف نہیں کہ آپ کا نکتہ نظر واضح ہے ،
مغزل — اپریل 27، 2009 8:19 صبح
آپ کی تحریر نظر سے گزری
خوب ہے میں بھی کسی مستند لغت سے تلاش کرتا ہوں اس کے معانی

میری رائے وہی ہے کہ ان چکروں میں مت پڑیں ، اصل چیز آپ کا کام ہے ، نام تو ایک ایسے بیسوں مل جائیں گے ، مگر پھر بھی چونکہ آپ مطمعن نہیں سو جو مناسب خیال کریں رکھ لیں جازم بھی رکھ سکتے ہیں میں نے تو صرف معانی و مطالب کی بات کی تھی ۔ بہت شکریہ ، وارث صاحب غالب کی نسبت سے اسد تخلص کرتے ہیں تو کیا اسد کے نام سے کہا گیا کلام غالب یا وارث صاحب کے کلام میں شمار ہوجائے گا ؟؟ ۔۔نہیں ۔۔ بالکل اسی طرح آپ سلیمان جاذب کو ہی روا رکھ سکتے ہیں، جاذب قریشی آج کل جس طرح کی شاعری کر رہے ہیں اس سے تو آپ کا امکان اور بھی روشن ہے ۔ میں جاذب قریشی ( گو کہ وہ ہم سے بہت سینئر ہیں) کا شعر نقل کیے دیتا ہوں:
تیری آنکھیں تو خوبصورت ہیں
ان کی آواز بھی سنا مجھ کو
بتائیے کیا آپ کا کلام اس سے میل کھاتا ہے ؟؟ :grin:
سلیمان جاذب — اپریل 27، 2009 12:51 شام
مغل بھائی آپ صحیح فرماتے ہیں اصل کام ہوتا ہے نام نہیں اور میں نے بھی بارہا سوچا پھر چھوڑ دیا ابھی کتاب آنے والی ہے تو سوچا تبدیل کر ہی لیں لیکن لگتا ہے اللہ میاں کو کچھ ایسا ہی منظور ہے
مغزل — اپریل 27، 2009 12:56 شام
بس بھیا یہی ہم کہنا چاہ رہے تھے ۔ اب دیکھیں‌نا ۔۔ آپ نے جتنا کام کیا وہ سلیمان جاذب کے نام سے کیا ۔ اب جب طباعت کی باری آئی تو آپ یہ کریڈٹ کسی اور نام کو دینا چاہ رہے ہیں ، بھئی نام کا بھی کوئی حق ہوتا ہے کہ نہیں ۔۔؟؟ ۔۔ امید ہے آپ میرا مطمحِ نظر جان گئے ہونگے
سلیمان جاذب — اپریل 28، 2009 8:34 صبح
مغل بھا ئی آپ کی بات سے میں بھی متفق ہوں اور سنائیں کچھ نیا
مغزل — اپریل 28، 2009 10:20 صبح
شکریہ سلیمان صاحب ۔، بس جناب نیا تازہ کچھ نہیں‌ایک ادبی جریدے میں ’’ نوکری‘‘ کی امید ہے ۔ دعا کیجے گا۔
سلیمان جاذب — مئی 3، 2009 9:18 صبح
شکریہ سلیمان صاحب ۔، بس جناب نیا تازہ کچھ نہیں‌ایک ادبی جریدے میں ’’ نوکری‘‘ کی امید ہے ۔ دعا کیجے گا۔
ماشااللہ اچھی بات ہے مغل بھائی اچھی بات ہے کب جوائن کر رہے ہیں آپ ؟
زینب — مئی 5، 2009 10:18 شام
یہ کس زمانے کی بات ہے جی آج کل ایسے شاعر نہیں ہوتے
اچھا تو آپ جو زور جامن پر لگا رہی رہیں ہیں وجہ کی ہے ؟

جامن بہت اچھا فروٹ ہے نام لیتے ہی منہ میں پانی بھر آتا ہے ۔۔۔۔۔۔اسی لیے یاد آرہی تھی جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے کیا فیصلہ ہوا نام کا۔۔۔۔۔۔۔۔
مغزل — مئی 6، 2009 7:15 صبح
ماشااللہ اچھی بات ہے مغل بھائی اچھی بات ہے کب جوائن کر رہے ہیں آپ ؟

اب تو ’’ جوائن ‘‘ کر ہی لیا ہے صاحب، انشا اللہ بہت جلد شمارہ آئے گا۔ میں نے محفل کے دوستوں‌کا کلام بھی جمع کیا ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D9%86%D8%A7%D9%85.20718/page-4