یہ خوب کہا. مجھے تو اس شعر سے صرف ایک ہی بات یاد آتی ہے کہ شاید غلطی سے داغ سے منسوب ہو گیا ہے.
ادب کا ربط روزمرہ کے حالات و واقعات سے قائم کرنا میرے لیے کافی مشکل ہے.
We should always remember that the work of art is invariably the creation of a new world, so that the first thing we should do is to study that new world as closely as possible, approaching it as something brand new, having no obvious connection with the worlds we already know.
ماخذ:
E316K -- Bremenاس سلسلے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ربط تو قاری کو کچھ اجازت ہوتی ہے ، کہاں سے کہاں جوڑ دے۔
نابوکوو کے لیے یہ رائے ہے، تو نابوکوو کو تو ویسے بھی دھیان سے پڑھنا پڑتا ہے۔
باقی اس رائے سے کافی حد تک اتفاق ہے، عظیم اور تہہ دار لٹریچر کو ایسے ہی پڑھنا چاہیے، تعصبات اور پہلے سے قائم کئے گئے خیالات کے بغیر۔ لیکن ایک تو مسئلہ یہ ہے کہ بڑے لکھنے والے کا تخیل ظاہر ہے ایک عام پڑھنے والے سے بہت اونچا ہی ہو گا ، تو مجھے ایسے کسی مصنف کی بات سمجھنے کے لیے توجہ دینی پڑے گی۔
دوسرا مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ کچھ تو پڑھنے والے کی صوابدید اور ذوق پر ہے ، وہ جیسے مرضی تشریح کرے۔ ایک مصور نے تصویر بنا کر رکھ ددی، اب وہ کتنا ہی تقاضا کر سکتا ہے کہ لوگ اس تصویر کو اس کی پسند کی نظر سے دیکھیں۔
تیسری بات یہ کہ ہم جتنے مرضی وسیع النظر ہونے کی کوشش کریں پڑھنے کے دوران لیکن ہمارا ایک فریم آف ریفرنس تو رہے گا اپنے ذہن کا۔ بہرحال عام زندگی پر لکھی گئی تحریریں ہم ایسے نہیں پڑھتے جیسے ایپک فینٹیسی یا مانگا۔
لیکن پھر بھی پڑھنے کے دوران کوشش کرنی تو چاہیے کہ ہم وہی دیکھیں جو ادیب ہمیں دکھانا چاہ رہا ہے۔ کائنڈنیس ٹو آتھرز والی بات بہت اچھی لگی مجھے۔
ارے بھئی داغ کا شعر بھی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے، اور میرے جوتے بھی
