نمرہ صاحبہ کا انٹرویو

نمرہ — جولائی 23، 2018 6:41 شام
کیا آپ نے ڈکنز کا ناول ڈیوڈ کوپرفیلڈ پڑھا ہے؟
کیا ایک منکسر المزاج شخص کا امریکہ میں گزارہ ممکن ہے؟
یوریا ہیپ کی بات کر رہے ہیں کیا؟ روایتی مشرقی انکسار اس طرح تو نہیں چل سکتا، اور پھر اپنے کام کو پریزینٹ کرنا تو آنا چاہیے۔ یہاں پھر پرسنل اور پروفیشنل زندگی کا فرق بھی آ جاتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ انسان کو پہلی میں ڈاؤن ٹو ارتھ ہونا چاہیے اور دوسری میں پراعتماد۔
نمرہ — جولائی 23، 2018 6:47 شام
کیا آپ نے ڈکنز کا ناول ڈیوڈ کوپرفیلڈ پڑھا ہے؟
کیا ایک منکسر المزاج شخص کا امریکہ میں گزارہ ممکن ہے؟
نیز یہ بھی کہ میں ڈکنز کی کافی بڑی فین ہوں۔
زیک — جولائی 23، 2018 6:55 شام
نیز یہ بھی کہ میں ڈکنز کی کافی بڑی فین ہوں۔
ڈکنز کا فیورٹ ناول؟
محمد ریحان قریشی — جولائی 23، 2018 6:56 شام
تو نہیں اور سہی، اور نہیں اور سہی۔ کبھی کبھار کوئی جوتا پسند آ جائے اور وہ سائز کا نہ ملے تو ذرا پریشانی ہوتی ہے مگر داغ مدد کو آتے ہیں پھر۔
یہ خوب کہا. مجھے تو اس شعر سے صرف ایک ہی بات یاد آتی ہے کہ شاید غلطی سے داغ سے منسوب ہو گیا ہے.
ادب کا ربط روزمرہ کے حالات و واقعات سے قائم کرنا میرے لیے کافی مشکل ہے.
We should always remember that the work of art is invariably the creation of a new world, so that the first thing we should do is to study that new world as closely as possible, approaching it as something brand new, having no obvious connection with the worlds we already know.
ماخذ: E316K -- Bremen
اس سلسلے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
نمرہ — جولائی 23، 2018 7:22 شام
ڈکنز کا فیورٹ ناول؟
آ ٹیل آف ٹو سٹیز۔ ڈیوڈ کاپر فیلڈ بھی پسند ہے، ایگنس کی وجہ سے۔
نمرہ — جولائی 23، 2018 8:18 شام
یہ خوب کہا. مجھے تو اس شعر سے صرف ایک ہی بات یاد آتی ہے کہ شاید غلطی سے داغ سے منسوب ہو گیا ہے.
ادب کا ربط روزمرہ کے حالات و واقعات سے قائم کرنا میرے لیے کافی مشکل ہے.
We should always remember that the work of art is invariably the creation of a new world, so that the first thing we should do is to study that new world as closely as possible, approaching it as something brand new, having no obvious connection with the worlds we already know.
ماخذ: E316K -- Bremen
اس سلسلے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

ربط تو قاری کو کچھ اجازت ہوتی ہے ، کہاں سے کہاں جوڑ دے۔
نابوکوو کے لیے یہ رائے ہے، تو نابوکوو کو تو ویسے بھی دھیان سے پڑھنا پڑتا ہے۔
باقی اس رائے سے کافی حد تک اتفاق ہے، عظیم اور تہہ دار لٹریچر کو ایسے ہی پڑھنا چاہیے، تعصبات اور پہلے سے قائم کئے گئے خیالات کے بغیر۔ لیکن ایک تو مسئلہ یہ ہے کہ بڑے لکھنے والے کا تخیل ظاہر ہے ایک عام پڑھنے والے سے بہت اونچا ہی ہو گا ، تو مجھے ایسے کسی مصنف کی بات سمجھنے کے لیے توجہ دینی پڑے گی۔
دوسرا مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ کچھ تو پڑھنے والے کی صوابدید اور ذوق پر ہے ، وہ جیسے مرضی تشریح کرے۔ ایک مصور نے تصویر بنا کر رکھ ددی، اب وہ کتنا ہی تقاضا کر سکتا ہے کہ لوگ اس تصویر کو اس کی پسند کی نظر سے دیکھیں۔
تیسری بات یہ کہ ہم جتنے مرضی وسیع النظر ہونے کی کوشش کریں پڑھنے کے دوران لیکن ہمارا ایک فریم آف ریفرنس تو رہے گا اپنے ذہن کا۔ بہرحال عام زندگی پر لکھی گئی تحریریں ہم ایسے نہیں پڑھتے جیسے ایپک فینٹیسی یا مانگا۔
لیکن پھر بھی پڑھنے کے دوران کوشش کرنی تو چاہیے کہ ہم وہی دیکھیں جو ادیب ہمیں دکھانا چاہ رہا ہے۔ کائنڈنیس ٹو آتھرز والی بات بہت اچھی لگی مجھے۔
ارے بھئی داغ کا شعر بھی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے، اور میرے جوتے بھی :)
سید عمران — جولائی 23، 2018 8:46 شام
آپ کی طبیعت، عادات، گفتگو کا انداز وغیرہ کافی حد تک محفل کی شیف صاحبہ جیسا ہے...
لیکن آپ ان کی طرح مختلف لڑیوں میں زیادہ ایکٹو نہیں ہیں...
اس کی وجہ ان لڑیوں سے عدم دلچسپی ہے یا کچھ اور؟؟؟
نمرہ — جولائی 23، 2018 8:49 شام
آپ کی طبیعت، عادات، گفتگو کا انداز وغیرہ کافی حد تک محفل کی شیف صاحبہ جیسا یے...
لیکن آپ ان کی طرح مختلف لڑیوں میں زیادہ ایکٹو نہیں ہیں...
اس کی وجہ ان لڑیوں سے عدم دلچسپی ہے یا کچھ اور؟؟؟
کچھ اور پر مثالوں کی روشنی ڈالیے گا ذرا۔
ابن سعید — جولائی 23، 2018 9:11 شام
نمرہ بٹیا کی کاہلی کے چلتے بڑی کوفت ہوئی اس انٹرویو کو پڑھنے میں، لیکن پڑھنا بھی لازم ٹھہرا۔ لوگو، کچھ خوف خدا کرو اور آثار قیامت سے ڈرو! بھلا پورے مراسلے کا یک مشت اقتباس لے کر انٹرویو کے سوالات کا جواب دیا جاتا ہے کہیں؟ ہر سوال کا جواب پڑھنے سے قبل پلٹ کر متعلقہ سوال دیکھنا پڑتا ہے اور جن سوالات کے ساتھ نمبر شمار شامل نہیں ان میں تو اور بھی الجھن ہوتی ہے۔ :) :) :)
نمرہ — جولائی 23، 2018 9:14 شام
نمرہ بٹیا کی کاہلی کے چلتے بڑی کوفت ہوئی اس انٹرویو کو پڑھنے میں، لیکن پڑھنا بھی لازم ٹھہرا۔ لوگو، کچھ خوف خدا کرو اور آثار قیامت سے ڈرو! بھلا پورے مراسلے کا یک مشت اقتباس لے کر انٹرویو کے سوالات کا جواب دیا جاتا ہے کہیں؟ ہر سوال کا جواب پڑھنے سے قبل پلٹ کر متعلقہ سوال دیکھنا پڑتا ہے اور جن سوالات کے ساتھ نمبر شمار شامل نہیں ان میں تو اور بھی الجھن ہوتی ہے۔ :) :) :)
اب بار بار اقتباس لینے میں کی بورڈ نہ دکھے گا ہمارا۔
ابن سعید — جولائی 23، 2018 9:38 شام
اب بار بار اقتباس لینے میں کی بورڈ نہ دکھے گا ہمارا۔
متفق علیہ! :) :) :)
زیک — جولائی 23، 2018 10:41 شام
نمرہ بٹیا کی کاہلی کے چلتے بڑی کوفت ہوئی اس انٹرویو کو پڑھنے میں، لیکن پڑھنا بھی لازم ٹھہرا۔ لوگو، کچھ خوف خدا کرو اور آثار قیامت سے ڈرو! بھلا پورے مراسلے کا یک مشت اقتباس لے کر انٹرویو کے سوالات کا جواب دیا جاتا ہے کہیں؟ ہر سوال کا جواب پڑھنے سے قبل پلٹ کر متعلقہ سوال دیکھنا پڑتا ہے اور جن سوالات کے ساتھ نمبر شمار شامل نہیں ان میں تو اور بھی الجھن ہوتی ہے۔ :) :) :)
اسی لئے میں نے صرف جواب پڑھے۔ سوالوں پر غور ہی نہیں کیا۔
زیک — جولائی 23، 2018 10:42 شام
آپ کی طبیعت، عادات، گفتگو کا انداز وغیرہ کافی حد تک محفل کی شیف صاحبہ جیسا یے...
لیکن آپ ان کی طرح مختلف لڑیوں میں زیادہ ایکٹو نہیں ہیں...
اس کی وجہ ان لڑیوں سے عدم دلچسپی ہے یا کچھ اور؟؟؟
مجھے تو کسی طرح بھی نمرہ اور سین خے ایک جیسی نہیں لگیں
عبید انصاری — جولائی 24، 2018 1:09 صبح
مجھے تو کسی طرح بھی نمرہ اور سین خے ایک جیسی نہیں لگیں
ایک واضح فرق تو سین خے کے برعکس نمرہ کا دھیما پن ہے۔
فہد اشرف — جولائی 24، 2018 3:37 صبح
ایک واضح فرق تو ڈین خے کے برعکس نمرہ کا دھیما پن ہے۔
:eek:
عبید انصاری — جولائی 24، 2018 4:18 صبح
ہائیں یہ کیا ماجرا ہوگیا۔ :)
فہد اشرف — جولائی 24، 2018 4:38 صبح
ہائیں یہ کیا ماجرا ہوگیا۔ :)
آپ نے انہیں کسی فیکلٹی کی ڈین وغیرہ بنا دیا تھا :p
قرۃالعین اعوان — جولائی 24، 2018 4:42 صبح
میں اچھی طرح جانتی اور دیکھتی ہوں کہ دنیا اور انسانی زندگی میں کس قدر مسائل اور دکھ ہیں اور کتنی خرابیاں بھی لیکن میں سمجھتی ہوں کہ ہمیں زندگی، کائنات اور قافلہ ہائے انسانی کی نزاکت، حسن اور خوئے جستجو کو دیکھنا، سمجھنا اور سراہنا بھی چاہیے۔
خوبصورت! :)
اس سوچ کے ساتھ زندگی سہل لگتی ہے؟
سید عمران — جولائی 24، 2018 5:23 صبح
مجھے تو کسی طرح بھی نمرہ اور سین خے ایک جیسی نہیں لگیں
ایک واضح فرق تو سین خے کے برعکس نمرہ کا دھیما پن ہے۔

ہم نے یہ کب کہا کہ مطلق، ہوبہو، سیم ٹو سیم ایک جیسی ہیں؟؟؟
سید عمران — جولائی 24، 2018 5:25 صبح
کچھ اور پر مثالوں کی روشنی ڈالیے گا ذرا۔
لڑیوں میں ایکٹو نہ ہونے پر؟؟؟

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D9%85%D8%B1%DB%81-%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%DB%81-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%88%DB%8C%D9%88.102383/page-2