نوائے پریشاں

طاہر احمد خان — فروری 24، 2017 2:02 شام
آسمانوں سے کوئی بشارت نہیں آئے گی اور زمیں گنگ ہے
وقت ایک بیوہ ماں کی طرح سوگ میں مبتلا ہے ...
ہوا سسکیاں لے کے چلتی ہے کالی ہوا
خواہشوں کے کنول درد کی جھیل سے سر اٹھاتے نہیں
خواب تک بند آنکھوں میں آتے نہیں
ساری سچی کتابوں میں یہ درج ہے
ایسے حالات میں
آسمان سے نبی یا تباہی زمیں کی طرف
بھیجے جاتے رہے ہیں
مگر ان کتابوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ
نبی اب نہیں آئیں گے !!!
طاہر احمد خان — فروری 24، 2017 2:03 شام
تجربے نہیں چلتے
عشق کے علاقے میں، حکم یار چلتا ہے
ضابطے نہیں چلتے
حسن کی عدالت میں ،عاجزی تو چلتی ہے
مرتبے نہیں چلتے
دوستی کے رشتوں کی پرورش ضروری ہے
سلسلے تعلق کے ،خود سے بن تو جاتے ہیں
لیکن ان شگوفوں کو، ٹوٹنے بکھرنے سے
روکنا بھی پڑتا ہے
چاہتوں کی مٹی کو ، آرزو کے پودے کو
سینچنا بھی پڑتا ہے
رنجشوں کی باتوں کو بھولنا بھی پڑتا ہے
طاہر احمد خان — فروری 24، 2017 2:04 شام
کرو جو بات کرنی ہے
اگر اس آس پر بیٹھے کہ دنیا بس تمہیں
سننے کی خاطر گوش بر آواز ہو جائے گی
تو ایسا ہو نہیں سکتا
زمانہ ایک لوگوں سے بھرا فٹ پاتھ ہے جس پر
کسی کو ایک لمحے کے لئے رکنا نہیں ملتا
بٹھاؤ لاکھ تم پہرے تماشہ گاہِ عالم سے
گزرتی جائے گی خلقت بنا دیکھے ،بنا ٹھہرے
جسے تم وقت کہتے ہو‘ دھندلکا سا ہے وہ کوئی
زمیں سے آسماں تک یہ کوئی خواب ہے جسے
نہیں معلوم کہ اس خواب کی مہلت کہاں تک ہے
کرو جو بات کرنی ہے
طاہر احمد خان — فروری 24، 2017 2:05 شام
ہاں، سنو دوستو!
جو بھی دنیا کہے
اس کو پرکھے بنا، مان لینا نہیں۔
ساری دنیا یہ کہتی ہے،
پربت پہ چڑھنے کی نسبت اترنا بہت سہل ہے
کس طرح مان لیں،
تم نے دیکھا نہیں!
سر فرازی کی دھن میں کوئی آدمی
جب بلندی کہ رستے پہ چلتا ہے تو
سانس تک ٹھیک کر نے کو رکتا نہیں
اور اسی شخص کا
عمر کی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے
پاؤں اٹھتا نہیں !!
اس لئے دوستو،جو بھی دنیا کہے
اس کو پرکھے بنا، مان لینا نہیں
طاہر احمد خان — فروری 24، 2017 2:06 شام
درد دل رسم محبت ہے تجھے کیا معلوم
چارہ گر تو نے سمجھ رکھا ہے بیمار مجھے
طاہر احمد خان — فروری 24، 2017 2:08 شام
ہچکی آ آ کے کسی وقت نکل جائے گا دم
آپ کیوں یاد کیا کرتے ہیں ہر بار ہمیں
طاہر احمد خان — فروری 24، 2017 2:09 شام
اب تو ہر سمت میرے گحر میں دھواں پھیلا ہے
تجھ سے وابستہ ہر اک چیز جلا دی میں نے
طاہر احمد خان — فروری 24، 2017 2:22 شام
ہزار اس نے یہ چاہا کہ میں بکھر جاوں
سو میں نے صبر کیا، صبر بھی قیامت کا
طاہر احمد خان — فروری 24، 2017 2:24 شام
یہ اور بات کہ اظہار نہ ہو سکا ہم سے
نہیں ہے تم سے محبت، یہ کون کہتا ہے
طاہر احمد خان — فروری 24، 2017 2:25 شام
دیکھ میں ہو گیا بدنام کتابوں کی طرح
میری تشہیر نہ کر، اب تو جلا دے مجھ کو
طاہر احمد خان — فروری 24، 2017 2:25 شام
تم تو جانتے ہوخلش، بات کتنی سادہ ہے
خود کے ساتھ رہنے میں کم ذرا ہے رسوائی
طاہر احمد خان — فروری 24، 2017 2:26 شام
اس نے مانگا بھی اگر کچھ تو جدائی مانگی
اور اک ہم تھے، کہ انکار نہ کرنا آیا
طاہر احمد خان — فروری 24، 2017 2:27 شام
تجھ سے ملتا ہوں سمٹنے کے لئے
تجھ سے ملتا ہوں تو کچھ اور بکھر جاتا ہوں
طاہر احمد خان — فروری 24، 2017 2:27 شام
جمال اب تو یہی رہ گیا پتہ اس کا
بھلی سی شکل تھی، پیارا سا نام تھا اس کا
طاہر احمد خان — فروری 24، 2017 2:31 شام
کتنا آساں تھا تیرے ہجر میں مرنا جاناں
پھر بھی اک عمر لگی، جان سے جاتے جاتے
طاہر احمد خان — فروری 24، 2017 2:32 شام
دل کو کہاں قبول دماغوں کے فیصلے
دل تو محبتوں کے قبیلے کا فرد ہے
طاہر احمد خان — فروری 24، 2017 2:33 شام
ایک تم ہو، کہ ہر اک دل میں اتر جاتے ہو
ایک ہم ہیں، کہ ہر اک دل سے اتر جاتے ہیں
طاہر احمد خان — فروری 24، 2017 2:33 شام
ہم سے اک بار بھی جیتا ہے، نہ جیتے گا کوئی
وہ تو ہم جان کے کھا لیتے ہیں ماتیں اکثر
طاہر احمد خان — فروری 24، 2017 2:34 شام
اب تم ہو مقابل تو مجھے ہارنا ہو گا
تم کو تو میری جان ہرایا نہیں جاتا
طاہر احمد خان — فروری 24، 2017 2:37 شام
چلو اس کوہ پر اب ہم بھی چڑھ جائیں
جہاں پر جا کہ پھر کوئی کبھی واپس نہیں آتا
سنا ہے اک ندائے اجنبی بانہوں کو پھیلائے
جو آئے اس کا استقبال کرتی ہے
اسے تاریکیوں میں لے کہ آخر ڈوب جاتی ہے
یہی وہ راستہ ہے جس جگہ سایہ نہیں جاتا
جہاں پر جا کہ پھر کوئی کبھی واپس نہیں آتا
چلو اس کوہ پر اب ہم بھی چڑھ جائیں
جو سچ پوچھو تو ہم تم زندگی بھر ہارتے آئے
ہمیشہ بے یقینی کے خطر سے کانپتے آئے
ہمیشہ خوف کہ پیراہنوں میں اپنے پیکر ڈھانپتے آئے
ہمیشہ دوسروں کے سائے میں اک دوسرے کو چاہتے آئے
برا کیا ہے اگر اس کوہ کے دامن میں چھپ جائیں
جہاں پر جا کہ پھر کوئی کبھی واپس نہیں آتا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%DA%BA.94878/page-2