آج صبح کے ٹائم کافی مصروفیت رہی گھر میں ۔۔ بیچ میں ایک آدھ بار موقع ملا "اردو محفل " میں جھانکنے کا۔۔۔ انٹرویو کی لڑی میں دیکھا تو عجیب سا سماں تھا۔۔۔ یوں لگ رہا تھا جیسے کہ انٹرویو نہ ہو رہا ہو بلکہ ہمیں کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہو۔ جُرم؟؟؟
سوال کرنے والا اپنے ذہن کے مطابق سوال کرتا ہے اور جواب دینے والا اپنی سوچ بیان کرتا ہے۔ کسی بھی سوال کا جواب دینے کے لئے کوئی "فارمولہ" نہیں ہے۔ ہاں اگر سوال کرنے والے نے اپنا الگ سے کوئی پیمانہ بنا رکھا ہو تو جواب دینے والے کے لئے ہر گز لازم نہیں ہے کہ وہ اس کی کسی بھی طرح کی "تسکین" کا باعث بنے۔
جیسا کہ
نور وجدان بہنا،
سیما علی آپا اور
محمد عبدالرؤوف بھائی سب کا کہنا ہے کہ سوال کرنے میں احتیاط لازم ہے۔
زیک بھائی نے کہا کہ جس نے سوال کرنا ہے ، بے دھڑک کرے۔
بہت درست کہا سب نے۔ بے دھڑک سوال کرنے کا کہنا بھی ایک حد متعین کرتا ہے۔جیسا کہ زیک بھائی کا مطلب بھی تھا۔ اس کی پاسداری کرنا ایک اچھا اور محترم محفلین ہونے کے ناطے ہم سب پر فرض ہے۔
منتظمین نے جو مراسلات ڈیلیٹ کئے، خوش قسمتی سے ہماری نظروں سے محفوظ نہ رہ پائے تھے۔ ان کا منظر سے ہٹا دیا جانا اور آپ لوگوں کا ہمارے لئے بولا جانے والا ایک ایک لفظ "اردومحفل " کا مقام ہمارے دل میں اور بلند کر گیا۔ہمیں فخر محسوس ہوا کہ ہم اس محفل کا حصہ ہیں جس سے ہماری شناسائی کی مدت محض چار ماہ ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ کسی بھی سوال نے ہمارا دل نہ دُکھایا کیونکہ ہمارا ماننا ہے "جو ہانڈی میں ہو وہی باہر نکلتا ہے"
سوالات کے جوابات دینے باقی ہیں لیکن آج مشاعرہ میں بہت مصروفیت رہی ۔ اس لئے صبح ان شاء اللہ جواب دیں گے۔ بشرطِ زندگی