سید رافع — اگست 1، 2021 7:45 صبح
کیونکہ اس سے آپ کے اپنے ہی مزاج کی تلخی مزید بڑھے گی، ہمیں ذرا فرق نہیں پڑنے والا۔ ہم سے کیا گیا سوال ہماری نظر سے گزرتا ہے تو ہم پر جواب دینا لازم ہو جانا ہے۔
اگر کہیں لفظ تلخ ہو گیا ہو تو معذرت لیکن حقیقت میں ہم تو اندار سے میٹھے ہی میٹھے ہیں۔ اب کوئی ازرہ تفنن کی آڑ میں شیرے پر مکھی بیٹھ جائے تو اسکو اڑایا ہو گا اور آپ اسکو تلخی سمجھ بیٹھیں۔
سیما علی — اگست 1، 2021 7:57 صبح
مشرق میں چور راستے ہیں جن پہ چل کر انسان بھٹک سکتا ہے اگر اس نے بھٹکنا ہی ہے تو۔ انسان کو بھٹکانے کے لئے ظاہری عوامل سے زیادہ اس کے نفس (بمعنی باطن) کا عمل دخل ہوتا ہے۔ وہی ہمارے بیشتر اعمال کی بنیاد ہے
بالکل صحیح بات !!!!!بھٹکنے کے لئیے مغرب جانا ضروری نہیں ہے رضا یہاں رہتے ہوئے صرف پابند نمازی تھے انگلینڈ جاکر تہجد گذار ہوگئے یہ اُنہوں نے ہمیں نہیں بتایا
ہم نے خود دیکھا ۔۔۔۔
یہ کہ ہم نے بے حد اچھے بچے بھی دیکھے ہیں یورپ میں اور بہت بگڑے مشرق میں ۔۔۔۔۔۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — اگست 1، 2021 8:06 صبح
بالکل صحیح بات !!!!!بھٹکنے کے لئیے مغرب جانا ضروری نہیں ہے رضا یہاں رہتے ہوئے صرف پابند نمازی تھے انگلینڈ جاکر تہجد گذار ہوگئے یہ اُنہوں نے ہمیں نہیں بتایا
ہم نے خود دیکھا ۔۔۔۔
آپ ایسے والدین ہوں تو اولاد ماشاءاللہ دین و دنیا میں کیونکر کامیاب نہ ہو ... کاش آج کل کے والدین آپ جیسے لوگوں سے کچھ سیکھیں
محمد عبدالرؤوف — اگست 1، 2021 8:10 صبح
بہنا! لڑی کہاں سے کہاں نکل گئی، اچھا دوبارہ سے اپنے موضوع پر آتے ہیں
بچپن میں آپ نے گو کہ شرارتیں نہیں کیں پھر بھی کوئی بچپن کا دلچسپ واقعہ تو شیئر کرو
سیما علی — اگست 1، 2021 8:16 صبح
ایک آسان سا پیمانہ ہے اپنے آپ کی پرکھ کا۔۔۔ کہ ہم خود کتنے "اچھے" ہیں جو دوسروں کو "برا" ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ ہم ہمیشہ اس پر عمل کرتے ہیں ، آپ بھی کیجئیے گا، فائدہ ہو گا۔
بٹیا ہم نے تو جب پرکھا اپنے آپ کو سب سے برُا پایا ۔۔۔۔باقی سب کو اچھا پایا !!!!!!
سیما علی — اگست 1، 2021 8:37 صبح
شائستگی عمر کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہ انسان کے اپنے ظاہر اور باطن کا آئینہ ہوتی ہے۔ ہمارا علم بہت محدود ہے۔ مگر جتنا بھی ہے، اسے خود پر لادے رکھنے کی بجائے "عمل" پر زیادہ دھیان دیتے ہیں ۔
ہماری بٹیا کے مزاج میں شائستگی کا عنصر بہت زیادہ ہے اور اخلاق اور ظاہر و باطن ہم پر عیاں ہے اللّہ ہمشہ آپ کے لئے آسانیاں عطا کرے ۔۔۔بہت سا پیار اور ڈھیروں دعائیں جیتی رہیے ۔۔۔۔۔۔
محمد عبدالرؤوف — اگست 1، 2021 8:40 صبح
ہماری بٹیا کے مزاج میں شائستگی کا عنصر بہت زیادہ ہے اور اخلاق اور ظاہر و باطن ہم پر عیاں ہے اللّہ ہمشہ آپ کے لئے آسانیاں عطا کرے ۔۔۔بہت سا پیار اور ڈھیروں دعائیں جیتی رہیے ۔۔۔۔۔۔
اللہ پاک گل بہن کو دونوں جہانوں میں سرخروئی عطاء فرمائے آمین
سیما علی — اگست 1، 2021 8:45 صبح
آپ ایسے والدین ہوں تو اولاد ماشاءاللہ دین و دنیا میں کیونکر کامیاب نہ ہو ... کاش آج کل کے والدین آپ جیسے لوگوں سے کچھ سیکھیں
جزاک اللّہ خیرا کثیرا
سمیع بھیا


بس بھیا یہ پروردگار کی کرم نوازیاں ہیں ہمارا دخل کم ہماری والدہ کا حصہ بہت زیادہ ہے ہماری اولاد کی تربیت میں۔۔۔۔
سیما علی — اگست 1، 2021 8:46 صبح
اللہ پاک گل بہن کو دونوں جہانوں میں سرخروئی عطاء فرمائے آمین
آمین الہی آمین
محمد عبدالرؤوف — اگست 1، 2021 8:48 صبح
بہنا! لڑی کہاں سے کہاں نکل گئی، اچھا دوبارہ سے اپنے موضوع پر آتے ہیں
بچپن میں آپ نے گو کہ شرارتیں نہیں کیں پھر بھی کوئی بچپن کا دلچسپ واقعہ تو شیئر کرو
بازگشت

محمد احسن سمیع راحلؔ — اگست 1، 2021 8:50 صبح
خاندان نے ڈنمارک کب اور کن حالات میں ہجرت کی؟ کچھ اس بابت بھی ارشاد فرمائیں.
زیک — اگست 1، 2021 12:42 شام
مجھے نہیں لگتا کہ میں نے اردو محفل پہ ابھی تک کسی کا بھی انٹرویو پڑھا ہو
یہ تو کافی دکھ کی بات ہے۔ فوراً سے پیشتر پڑھیں۔
زیک — اگست 1، 2021 12:46 شام
جی میرا دوبارہ جرمنی جانے کا ارادہ ہے اس لیے برسبیل تذکرہ وہاں کی معاشرت سے متعلق سوال کر لیے۔ آپ اس سے زیادہ اس کو نہ سمجھیں۔
آپ کے لئے یہی بہتر ہے کہ جرمنی نہ جائیں
زیک — اگست 1، 2021 12:47 شام
ہم اس لڑی کے اولین مقصد سے بخوبی واقف ہیں۔
بتائیے تا کہ ہم بھی آپ سے کچھ علم پا سکیں۔
اور میں نے “مقاصد” پر غور کئے بغیر ہی لڑی کھول لی
محمد احسن سمیع راحلؔ — اگست 1، 2021 12:56 شام
آپ کے لئے یہی بہتر ہے کہ جرمنی نہ جائیں
محمد عبدالرؤوف — اگست 1، 2021 12:58 شام
پھر آپ لوگوں نے سائیڈ پہ ہو جانا ہے بس ہاتھ کوئی "برا شخص" آ جائے گا، جس کو رگڑا لگایا جائے گا
گُلِ یاسمیں — اگست 1، 2021 12:58 شام
جو ایک کے لئے بہتر وہی دوسرے کے لئے بھئ بہتر۔ زیک بھائی نے ضرور جرمنی کی بہتری بھی سوچی ہو گی راحل بھائی

سید رافع — اگست 1، 2021 1:10 شام
آپ کے لئے یہی بہتر ہے کہ جرمنی نہ جائیں
وہ کس لیے؟
زیک — اگست 1، 2021 1:13 شام
آپ کی سوچ کا جو انداز ہے وہ آپ کو جرمنی میں خوش نہ رہنے دے گا اور نہ آپ اس معاشرے کو سمجھ پائیں گے۔ باقی رہی روزگار کی بات تو ایسی جگہ کریں جہاں آپ دکھی اور شکی ہوئے بغیر کر سکیں
سید رافع — اگست 1، 2021 1:13 شام
اور میں نے “مقاصد” پر غور کئے بغیر ہی لڑی کھول لی
غفلت میں مقصد مشتبہ ہی رہتا ہے۔