جی بالکل۔۔۔ وہ لمحات، وہ لمس، وہ منظر جیسے آنکھوں میں بس گیا ہے۔ بہت اچھا سا احساس ہے۔
تیری آغوش سے ماں سر کو اٹھاؤں کیسے
مجھ سے پتھر میں نہیں کوئی بھی نازک سا مقام
واسطہ تجھ سے مری زیست کے ہر پہلو کا
تجھ سے بڑھ کر نہیں دنیا میں کوئی بھی مقام
جی بالکل۔۔۔ وہ لمحات، وہ لمس، وہ منظر جیسے آنکھوں میں بس گیا ہے۔ بہت اچھا سا احساس ہے۔
احساسات لفظوں میں ہو بہو ویسے بیان نہیں کئے جا سکتے جیسے محسوس کئے جا سکتے ہیں۔ وہ زندگی میں تحلیل ہوئے رہتے ہیں۔ ان کی پیغام رسانی بہت مشکل ہے۔ خرد و جنوں کی سرحدوں پر ظاہر ہونے والے خوابوں کے یہ جلوے صرف وہی محسوس کر پاتا ہے جو محوِ سفر ہوتا ہے۔ شاید اپنوں سے بے پناہ وارفتگی ہی اس کا سبب ہوتی ہے کہ انسان فراق و وصال کو یکساں کیفیات سمجھنے لگتا ہے۔ موجود اور غیر موجود کا فرق ہی نہیں رکھ پاتا۔ خاموشیاں بھی کلام کرنے لگتی ہیں، تنہائی کا احساس مٹ جاتا ہے ۔ اور قرب کا احساس یوں حاوی ہوتا ہے جیسے کہ ابدی جدائی بیچ میں آئی ہی نہیں۔ محفل سی جم جاتی ہے ۔ جانے والے جا چکے ہیں، مگر پاس ہی ہیں ہنستے بولتے، کبھی کچھ کہتے ہوئے کبھی کچھ سنتے ہوئے۔
کیا مطلب۔۔۔ جیسا نظر آتی ہیں ویسی نہیں۔۔۔۔ نہیں بھائی جیسی ہیں ہم ویسی ہی ہیں۔۔۔ سیدھی سادی سی۔ بالکل سنجیدہ۔ لیکن شوخیاں بھی تو زندگی کا حصہ ہیں نا۔ تو سنجیدہ معاملات میں حد سے زیادہ سنجیدہ مگر جب رگِ ظرافت پھڑکتی ہے تو کسی کل چین نہیں پڑتا۔ آخر کو ہمیں دوسروں کو خوشیاں بانٹنے کے لئے کچھ پازیٹو انرجی چاہئیے ہوتی ہے نا جو "محفل " سے وافر مقدار میں ملتی ہے۔ الحمد للہ
اللہ پاک کا کرم ہے بھائی ۔ اور آپ کا خلوص کہ آپ ایسا سمجھتے ہیں۔
جی ضرور کیجئیے سوال بلکہ سوالات۔۔۔
واقعی میں عدنان بھائی گل بہن کی تحریر پڑھ کر لگتا ہی نہیں کہ اِن پر کوئی پردیس کا اثر ہوا
کر کے دکھائیں گے نا۔۔۔
ڈینگیں کم اور انٹرویو زیادہ










آپ نے علم باطن کا تذکرہ کیا ہے ،آپ کی نظر میں علم باطن کیا ہے۔ذرا کچھ تفصیل بیان کیجیے ؟
کیوں ہو گا بھائی پردیس کا اثر ہم پر؟
پردیس کا اثر کونسا ہوتا ہے؟