پڑھنا شروع کیا یا ابھی تک "آگ لگا دو" ہی میں مصروف ہیں آپ؟
ہمیں آپ کے کمنٹس کا انتظار ہے ۔
پڑھنا شروع کیا یا ابھی تک "آگ لگا دو" ہی میں مصروف ہیں آپ؟
سلامت رہئیے ہمیشہ
ایسا تو بالکل بھی نہیں ہے۔ ہم غلط کو ہی غلط سمجھتے ہیں۔ اور صحیح کو صحیح۔ آپ کو ایسا کیوں لگا بھلا۔
بس اب ارادہ نہیں بدلئیے گا۔۔۔ جو بڑے کہتے ہیں ، مان لینی چاہئیے بات۔
کب بولے ہم زیادہ۔۔۔ جو بھی ہے، ہمیں معلوم پڑ گیا ہے کہ آپ ہم سے زیادہ بولتے ہیں رانا صاحب



جی ہاں اقتباس کے اوپر والے تیر پر کلک کر کے آپ اس لڑی تک پہنچ جائیں گی۔ جواب چاہے یہاں دے دیں یا وہاں۔ ویسے کچھ کے جوابات تو آپ دے ہی چکی ہیں۔
ٹھیک ہے بھائی۔۔۔ ہم یہیں دیں گے جواب۔
سلامت تا قیامت رہئیے بہت ساری خوشیوں کے ساتھ۔ آمین
میں اس معاملے میں یقیناً جانبدار ہوں لیکن میری رائے میں محفل کی انٹرویو سیریز میں میرا انٹرویو سب سے بہتر ہے کہ خوب سوالات ہوئے اور کبھی پٹری سے نہ اترا۔
شاید لاریب بہنا سلیمانی ٹوپی کے پار دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔
پڑھنے کے بعد رائے دیں گے۔
سلامت رہئیے قدیر بھائی۔
دعاؤں میں یاد رکھئیے آپا۔۔۔ یہی ہمارا اجر ہے کہ کوئی بخوشی دعاؤں سے نوازے اور اللہ پاک قبول فرمائیں۔ آمین
واہ کیا بات ہے آپ کی
اور سائیڈ ایفکٹس کے لئے ہم معصوم نشانے پر۔۔۔۔
ہر گز نہیں بھائی۔۔۔ ایسا ہو سکتا ہے بھلا۔
فضیلت کی چادر کہاں رہ گئی بھائی۔۔۔۔ اب تو سالگرہ ختم ہوئے بھی ہفتہ ہو گیا
اقتباس تو ملکۂ عالیہ والے تاج کا لیا ۔ اور ۔پوچھ رہی ہو فضیلت کی چادر ؟
امی جان تو موجود تھیں۔ شاید بھائی بھابی بھی تھے۔۔۔ بس خاص طور پر نہیں سنائے البتہ ذکر کر دیا۔ یہ بالکل شروع کی بات کر رہے ہیں۔
ڈر۔۔۔ اس لئے نہیں کہ کچھ ڈراؤنا دیکھا تھا۔۔۔ اس لئے لگا کہ جو خواب میں دیکھا، وہ اب کیسے ہو رہا ہے۔ بالکل وہی تو نہیں مگر بہت دیکھا بھالا۔ اور ایک یا دو دن ہی بیچ میں ہوتے تھے۔ ذہن زیادہ سوچ بچار میں پڑ جاتا تھا۔ اور پھر ایک سے دوسری بات ہوتی جاتی۔ ڈر کی نسبت سہما دینا کہہ لیجئیے ۔
دادا جان کے بارے دیکھا تھا خواب۔۔۔اور پھر معلوم ہوا کہ واقعی میں شدید بیمار ہیں۔ اور پھر وفات پا گئے۔ کچھ کفن وغیرہ کا دیکھاتھا جہاں دادی اماں نے سامان رکھا ہوا تھا ، وہ وہاں سے نکال رہی تھیں۔
آپ کے تاج والی بات سے چادر یاد آ گئی نا بھائی۔۔۔ آُ دونوں کا جواب دے دیں ۔
جب انسان اس بات کو سمجھنے کا شعور حاصل کر لے کہ خوف تو بس اندازِنظر ہے، اندازِ فکر ہے۔ ہمارے اپنے اندر کا واہمہ، جو آناً فاناً آ کر دل میں بیٹھ جاتا ہے ۔ اگر تو بس اس کی تاویلیں سننے لگو تو پھر تب تک جانے کا نام نہیں لیتا جب تک کسی حادثے کا سبب بن جائے۔ کبھی تو شروع ہی میں اس سے رہائی پائی جا سکتی ہے مگر کئی بار باوجود کوشش کے اس سے پیچھا نہیں چھڑایا جا سکتا۔ وجہ قوتِ ارادی کی کمی ہی ہے۔ ہاں اگر اللہ پاک پر بھروسہ کر کے قوتِ ارادی کے سہارے انسان "نتیجے" سے بے نیاز ہو جائے تو خوف دل میں گھر نہیں بنا پاتا۔ یا اگر کہیں خوف آپ کو گھیرے میں لینے کی کوشش میں ہے تو بھی وہ اس حد تک حاوی نہیں ہو گا کہ جڑ ہی پکڑ لے۔