ایک ساتھ اتنے سوال اور وہ بھی "نو فلسفہ" کے ساتھ۔۔۔
اس بار تو ہم فروری 2020 کے اینڈ سے یہیں ہیں۔ جانا تھا مگر نہیں جانا چاہتے۔ اسی میں بہتری ہماری فی الحال۔
جب بچہ الف سے اللہ اور ب سے بسم اللہ لکھنا پڑھنا سیکھ لیتا ہے تو سمجھئیے وہ کسی قابل ہو گیا۔ ہم بھی اسی قابل ہیں ۔ کیونکہ اس کے آگے "زندگی" کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ اسی میں لگے ہیں۔
لیکن ایسی قابلیت کی ڈگری نہیں ملتی۔۔ ہاں اطمینان قلب ضرور ملتا ہے۔ تعلیم جاری ہے ابھی صابرہ آپا۔
مستقبل کی پلاننگ اپنے ذہن کے مطابق تو ہم نے خوب کی ہوئی ہے۔ بس اللہ پاک کا کرم رہے۔
ارادہ ۔۔۔ کیا ایک ایک بات بتانی ہو گی۔۔۔ اشارہ سمجھ جائیں نا۔ کیونکہ جب ہم بولنے پہ آئے تو بولتے چلے جائیں گے۔