ہم جب بھی محفل میں آئے، ہم نے اِن دوافراد کو موجود پایا، یعنی اول الذکر اس مندرجہ بالا پیراگراف کے مصنف اور آخر الذکر ،صاحبِ موصوف۔ یہی موصوف ہیں جن کی ایک خاص صفت آج ہم آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتے ہیں۔ صرف یہی نہیں کہ ۱۱۱۱۱۱، ۱۲۲۱۲۲، ۱۲۳۳۲۱، مراسلات لکھتے لکھتے آج یہ سوا لاکھ مراسلات لکھ کر نہ صرف تمام محفلین سے زیادہ مراسلات کا ریکارڈ پکڑے ہوئے ہیں بلکہ محفل کے کل مراسلات کی آدھی تعداد ان ہی کی مرہونِ منت ہے ۔ محفل چائے خانہ اور متفرقات اور گفتگو ، گپ شپ اور تعارف کے سارے زمرے، ساری لڑیاں ، سارے دھاگے آپ کی دلچسپ باتوں سے بھرے پڑتے ہیں، بلکہ اُبل رہے ہیں۔یہی نہیں بلکہ تمام لڑیوں اور زمروں میں ہر مراسلے کا پہلا جواب ان کا ہی مرہونِ منت ہوتا ہے۔
اتنا کچھ لکھنے کے باوجود ایک خاص بات یہ ہے کہ ہر مراسلے کو فوراً ہی پڑھ ڈالتے ہیں، بلکہ نہایت غور کے ساتھ اس کا تنقیدی مطالعہ کرتے ہیں۔ نہایت حاضر جواب اور بذلہ سنج واقع ہوئے ہیں ۔آج ہم ان کی بذلہ سنجی اور حاضر جوابی کی چند مثالیں اپنی ہی لڑیوں سے پیش کررہے ہیں۔ امید ہے پسند آئیں گی۔
ہمارے سیاسی افسانے ’’ شہر آشوب‘‘
کے پس منظر کو فوراً ہی تاڑ گئے اورٹھک سے ایک جملہ کھینچ مارا۔
حال ہی میں ہم نے محفل میں ایک غزل چسپاں کی
جوابِ در آں غزل کے مصداق انھوں نے فورا ایک جملہ جڑ دیا اور ہمیں لاجواب کردیا۔ ( ہم نے لفظاً نہ سہی معناً اس شعر کو منسوخ کرنے اور واپس لینے کا اعلان کردیا ہے۔ اپنی زندگی ہمیں عزیز ہے)
اسی طرح ہمارے سفر نامے’ المانیہ او المانیہ۔ جرمنی کی سیر‘
میں ہم نے ایک شعر کی پیروڈی کی تھینیند اس کی ہے! دماغ اس کا ہے! راتیں اس کی ہیں
تیری زلفیں جس کے خوابوں میں پریشاں ہوگئیں
اس کے جواب میں انھوں نے لکھاشمشاد بھائی نے بھی ہماری طرح ۲۳ دسمبر کو ہی محفل میں شرکت کی تھی۔ یہ اور بات کہ ہم نے ۲۰۱۰ میں اور انھوں نے کئی سال قبل۔
شمشاد بھائی کا یہ تعارف جاری ہے۔ محفلین بلاتامل اس میں ترمیم و اضافہ کرسکتے ہیں۔ ہماری جانب سے کھلی اجازت ہے۔ شمشاد بھائی کا غصہ ہم سہہ لیں گے۔
۔
