بڑی خوشی ہوئی کہ اپ نے یاد رکھا سب کچھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تعبیر میں بھی ایک بہت عام سا انسان ہوں ۔۔۔۔ اکتسابی علم کو علم کی معراج جانتا تھا اور مانتا تھا ۔۔۔۔ مطلب حجتی تھا ۔۔۔۔ مگر پھر کچھ ایسا ہوا کہ سب کچھ اک ان میں بدل گیا ۔۔۔۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں تفکر کرکے یہ جانا کہ اللہ تعالی کی ہر تخلیق بے مثال ہے۔۔۔۔۔ اور جب معاملہ سوچ کا ایا تو یہ پتہ چلا کہ واقعی ہم سب ماضی میں سفر کرتے ہیں۔۔۔۔ ہماری ہر سوچ گزرے لمحے سے متعلق ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ یعنی ہم تین زمانوں میں رہتے ہوئے بھی ایک زمانے کے انسان ہیں جسے ماضی کہتے ہیں۔۔۔۔ حال اور مستقبل سے متعلق ہماری سوچ کا دھارا چند فیصدی سے زیادہ نہیں جاتا ہے ۔۔۔۔۔ کیا یہ سچ نہیں ہے ؟
اور ہم ہی وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ جو گزر گیا وہ مر گیا ، ختم ہوگیا ،،،، ماضی بھی تو گزر جاتا ہے گویا مر جاتا ہے۔۔۔۔۔ دلچسب امر یہ ہے کہ ہم مرے ہوئے وقت کے ساتھ اپنی زندگی گزارتے ہیں اور اس پر طرہ یہ کہ ہم زندہ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان کی سمجھ میں جو چیز نہیں اتی اسے وہ رد کر دیتا ہے یہیں سے اسکی ناکامی شروع ہوتی ہے ۔۔۔۔ جبکہ انسانی خمیر میں تجسس اللہ نے رکھا ہے مگر جب وہ اپنی متجسس فطرت سے شکست کھاتا ہے تو مایوسی کے ساتھ سفر کرتا ہے۔۔۔۔ مطلب زندگی کو وہ نہیں گزارتا زندگی اسکو گزارتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موضوع تفصیل طلب ہے ۔۔۔۔ سو ضرور شیئر کرونگا انشا الل
