پیرکامل اور آب حیات اکٹھے پڑھوں گا مجھ سے قسطیں برداشت نہیں ہوتیں۔ میری تو کوشش ہوتی ہے کہ ایک ہی نشست میں اختتام کردوں یا اگر ناول زیادہ ہی ضخیم ہے تو تین سے چار نشستیں کافی ہوتی ہیں۔

مصحف پڑھا ہے بہت ہی اچھا ناول ہے۔ کئی دن تک میں ناول کے سحر سے نکل نہیں پایا۔ عجیب سی کشش ہے ناول میں، بندہ خود کو ناول میں ہی موجود تصور کرتا ہے۔ خاص طور پر ناول کے آخر میں ڈاکٹر تیمور کی تقریر بہت ہی زبردست ہے۔ اس کا اقتباس میں فورم میں بھی دیا تھا۔ ذیل کا ربط دیکھیے۔
ڈاکٹر تیمور کی تقریر۔ مصحفبانو قدسیہ کا شاید کوئی ایک آدھ ناول پڑھا ہے لیکن اب یاد نہیں کہ کونسا ہے۔