حوا کی بیٹی

ڈاکٹرعامر شہزاد — مئی 5، 2017 11:50 صبح
تحریر میں کیا نقص ہے یہ نہیں پتا بس اتنا پتہ ہے تحریر نے دل.کو چھوا نہیں. مجھے ویسے بھی یہ مرد عورت کے تقابلی جائزے پسند نہیں. چاہے کتنے ہی اعلیٰ کیوں نہ ہوں. انسان کو اصناف میں اس وجہ سے بانٹ لینا کہ انکا تقابل کروایا جائے میری سمجھ سے باہر ہے. میں اپنی زندگی میں آٹھ مردوں سے گہری واقفیت رکھتی ہوں میرے چھ بھائی ' ابا حضو ر اور میاں صاحب. یہ آٹھ کی آٹھ شخصیات اپنے دائرے میں اتنی مختلف خصوصیات کی حامل ہیں کہ بیان سے باہر.
اسی طرح جن خواتین سے میں واقف ہوں وہ سب بھی الگ سوچ و فکر کی مالک ہیں.
تحریر کے بارے میں اپنے خیالات شیئر کرنے کے لیے شکریہ :)
یہاں میرے خیال میں مرد اور عورت کی عمومی بات ہو رہی ہے ۔جس طرح ایک سیب جس علاقے میں اُگے گا اور پرورش پائے گا اس کے حساب سے اس کا ذائقہ ، وزن ، حجم شاید مختلف ہو لیکن بطور سیب اس کی خصوصیات وہی ہوں گی جو سیب کی ہوتی ہیں نہ کہ ناشپاتی یا آم کی ۔ اسی طرح بطور ِ مرد اور بطور ِ عورت اللہ نے جو بنیادی خصلتیں ان میں رکھی ہیں وہ کم زیادہ تو ہو سکتی ہیں لیکن بدل نہیں سکتی ۔ عورت اگر نازک اندام ہے تو تا قیامت نازک ہی رہے گی چاہے وہ ریسلر ہی کیوں نہ بن جائے ۔
:)
محمد عظیم الدین — مئی 5، 2017 11:52 صبح
تحریر کے بارے میں اپنے خیالات شیئر کرنے کے لیے شکریہ :)
یہاں میرے خیال میں مرد اور عورت کی عمومی بات ہو رہی ہے ۔ ایک سیب جس علاقے میں اُگے گا اور پرورش پائے گا اس کے حساب اس کا ذائقہ ، وزن ، حجم شاید مختلف ہو لیکن بطور سیب اس کی خصوصیات وہی ہوں گی جو سیب کی ہوتی ہیں نہ کہ ناشپاتی یا آم کی ۔ اسی طرح بطور ِ مرد اور بطور ِ عورت اللہ نے جو بنیادی خصلتیں ان میں رکھی ہیں وہ کم زیادہ تو ہو سکتی ہیں لیکن بدل نہیں سکتی ۔ عورت اگر نازک اندام ہے تو تا قیامت اس کا نازک ہی رہے گی چاہے وہ ریسلر ہی کیوں نہ بن جائے ۔
:)
سیب، ناشپاتی، امب ۔۔۔۔ مرد اور عورت کی خصلتیں، ڈاکٹر صاحب اج کدھرے اپنی دوائی تے نہیں کھا بیٹھے :p (مذاق کیتا جے گل سیریس نہ لینا)
ڈاکٹرعامر شہزاد — مئی 5، 2017 11:55 صبح
سیب، ناشپاتی، امب ۔۔۔۔ مرد اور عورت کی خصلتیں، ڈاکٹر صاحب اج کدھرے اپنی دوائی تے نہیں کھا بیٹھے :p (مذاق کیتا جے گل سیریس نہ لینا)
ہاہاہاہا ۔ نہیں ایسی کوئی بات نہیں ۔ سمجھان واسطے مثال دتی سی ۔ تُسی اپنی فروٹ شاپ کھول کے بھے گئے او :D
محمد عظیم الدین — مئی 5، 2017 11:56 صبح
ہاہاہاہا ۔ نہیں ایسی کوئی بات نہیں ۔ سمجھان واسطے مثال دتی سی ۔ تُسی اپنی فروٹ شاپ کھول کے بھے گئے او :D
چلو شاپ ساڈی، سپلائی تے تہواڈی سی نا!
محمد عدنان اکبری نقیبی — مئی 5، 2017 11:58 صبح
ڈاکٹرعامر شہزاد بھائی آپ بھی امجد علی راجا جیسا ٹیگ کا مراسلہ بنا لو۔اختلاف رائے زیادہ نہ ہو۔:D
ڈاکٹرعامر شہزاد — مئی 5، 2017 12:00 شام
چلو شاپ ساڈی، سپلائی تے تہواڈی سی نا!
اسی تے سیب ، ناشپاتی دی سپلائی دتی سی ، وچوں امب نکل آئے نیں :D
ڈاکٹرعامر شہزاد — مئی 5، 2017 12:02 شام
ڈاکٹرعامر شہزاد بھائی آپ بھی امجد علی راجا جیسا ٹیگ کا مراسلہ بنا لو۔اختلاف رائے زیادہ نہ ہو۔:D
ہاں جی بالکل ۔ وہ تو میں نے ابھی دیکھا ہے ۔ اس ٹیگ مراسلے میں تو اللہ جانے دوسری محفلوں کے ممبر بھی شامل ہیں جو اتنا لمبا ٹیگ مراسلہ :LOL:
محمد عدنان اکبری نقیبی — مئی 5، 2017 12:04 شام
ہاں جی بالکل ۔ وہ تو میں نے ابھی دیکھا ہے ۔ اس ٹیگ مراسلے میں تو اللہ جانے دوسری محفلوں کے ممبر بھی شامل ہیں جو اتنا لمبا ٹیگ مراسلہ :LOL:
ٹیگ کا فائدہ ہوا راجاجی کو سب واہ واہ کر رہے ہیں۔
محمد عظیم الدین — مئی 5، 2017 12:11 شام
اسی تے سیب ، ناشپاتی دی سپلائی دتی سی ، وچوں امب نکل آئے نیں :D
غور نال ویکھو تسی امب شریف (آم) دا وی ذکر کیتا سی۔
ڈاکٹرعامر شہزاد — مئی 5، 2017 12:14 شام
غور نال ویکھو تسی امب شریف (آم) دا وی ذکر کیتا سی۔
آم اور امب دونوں میں اخلاقی فرق ہے ۔:p
محمد عظیم الدین — مئی 5، 2017 12:22 شام
آم اور امب دونوں میں اخلاقی فرق ہے ۔:p
اے فرق تے ڈاکٹر ہی دس سکدا اے، ویسے تہاڈی سپشلائزیشن کی اے :sneaky:
ڈاکٹرعامر شہزاد — مئی 5، 2017 12:26 شام
ویسے تہاڈی سپشلائزیشن کی اے
اوہ میں اپنے کار آلیاں نوں نئیں دسی تے توانوں ۔۔۔۔۔۔ :p
سین خے — مئی 5، 2017 10:17 شام
مجھے کافی حیرت ہوئی کہ ڈاکٹر یونس بٹ صاحب بھی gender stereotypes والی تحاریر لکھ سکتے ہیں :)۔ خیر سب کا اپنا اپنا زاویہ نگاہ ہوتا ہے۔
gender discriminating تحاریر پڑھ کر میرے دماغ میں بس ایک ہی سوال آتا ہے کہ ایسی تحاریر کسی ناپختہ ذہن پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہوں گی؟ مثال کے طور پر کوئی ٹین ایج لڑکی یا لڑکا اس طرح کی تحاریر پڑھے تو اس کی ذہنیت پر کیا فرق پڑے گا؟ o_O
لڑکی کو محسوس ہوگا کہ اس کی ذات کو کچھ نہ کرتے ہوئے بھی نشانہ بنایا گیا ہے اور ہو سکتا ہے وہ یہ بات دماغ میں بٹھا لے کہ کچھ نہیں بھی کرو تب بھی طعنے ہی نصیب میں ہیں۔ اب ایسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ ساری زندگی مرد سے وہ ناانصافی ہی کی توقع کرے چاہے مرد اس کے لئے کتنا ہی اچھا کیوں نا کر لے۔ وہ بات بے بات اس کو یہی طعنہ دے گی کہ تم تو ہو ہی میرے دشمن!
اسی طرح لڑکے کے ذہن میں یہ بیٹھ سکتا ہے کہ عورت تو ہے ہی نااعتبار مخلوق! اب کوئی عورت چاہے جتنی ہی قربانیاں دے لے پر ہر بار وہ اس کی ہر اچھی عادت اور کام کو ہو سکتا ہے کہ صرف شک کی ہی نظر سے دیکھے۔
اب ذرا تصور کرنے کی ضرورت ہے کہ ایسی صورتحال میں "کس قسم" کا خاندانی اور معاشرتی ماحول جنم لے گا؟؟؟؟ :rolleyes:
سین خے — مئی 5، 2017 10:21 شام
یہ نقطہ رہ گیا یا کوءی ۔ ۔ ۔ ۔ نکتہ ۔ ۔ رہ گیا ۔ ۔ ۔ :)

کبھی کبھی کسی کو پہچانے کے لئے نقطے کو نکتہ کرنا پڑ جاتا ہے :rolleyes: پھر جب حسبِ توقع دوبارہ منفی ریٹنگ نصیب ہو جاتی ہے تو سب بہت اچھی طرح سمجھ آجاتا ہے :giggle:
ڈاکٹرعامر شہزاد — مئی 6، 2017 5:54 صبح
gender discriminating تحاریر پڑھ کر میرے دماغ میں بس ایک ہی سوال آتا ہے کہ ایسی تحاریر کسی ناپختہ ذہن پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہوں گی؟ مثال کے طور پر کوئی ٹین ایج لڑکی یا لڑکا اس طرح کی تحاریر پڑھے تو اس کی ذہنیت پر کیا فرق پڑے گا؟ o_O
لڑکی کو محسوس ہوگا کہ اس کی ذات کو کچھ نہ کرتے ہوئے بھی نشانہ بنایا گیا ہے اور ہو سکتا ہے وہ یہ بات دماغ میں بٹھا لے کہ کچھ نہیں بھی کرو تب بھی طعنے ہی نصیب میں ہیں۔ اب ایسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ ساری زندگی مرد سے وہ ناانصافی ہی کی توقع کرے چاہے مرد اس کے لئے کتنا ہی اچھا کیوں نا کر لے۔ وہ بات بے بات اس کو یہی طعنہ دے گی کہ تم تو ہو ہی میرے دشمن!
اسی طرح لڑکے کے ذہن میں یہ بیٹھ سکتا ہے کہ عورت تو ہے ہی نااعتبار مخلوق! اب کوئی عورت چاہے جتنی ہی قربانیاں دے لے پر ہر بار وہ اس کی ہر اچھی عادت اور کام کو ہو سکتا ہے کہ صرف شک کی ہی نظر سے دیکھے۔
اب ذرا تصور کرنے کی ضرورت ہے کہ ایسی صورتحال میں "کس قسم" کا خاندانی اور معاشرتی ماحول جنم لے گا؟؟؟؟ :rolleyes:
آپ تو تحریر کی بات کر رہی ہیں ۔ ہمارے پاکستانی معاشرے میں ہر گھر میں ٹی وی پہ لاتعداد چینلز پہ جتنے ڈرامے دکھائے جا رہے ہیں کیا وہ یہی سب کچھ نہیں کر رہے ۔ تحریر پڑھنے والاتو پھر بھی شاید 16 سال سے کم عمر کوئی ہو لیکن یہ ڈرامے دیکھنے والے شائقین میں 6 ، 7 سال کے بچوں سے لے کے 80 سال کے بو ڑھے بھی شامل ہیں ۔
اور ان ڈراموں نے لوگوں کے ذہنوں میں اس حد تک رشتوں میں تخیلاتی دراڑیں پیدا کر دی ہیں کہ بہو خدا نخواستہ سچ میں درد سے تڑپ رہی ہو لیکن ساس سمجھتی ہے کہ ڈرامے کر رہی ہے ۔ساس کے ہاتھ سے چائے پیتے ہوئے بہو کے دل میں ہوتا ہے کہ یقیناََ ساس صاحبہ نے اس میں کچھ ملا نہ دیا ہو ۔
رشتوں کے حوالے سے ایسی چیزیں اپنے ذہن میں تخلیق کر لی جاتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا اور اس کی بنیاد پہ اپنے رویے لوگوں سے روا رکھے جاتے ہیں ۔ جب آخر پہ بات کُھلتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ جیسا سوچا تھا حقیقت اُس کے بر عکس تھی ۔
جس خاندانی اور معاشرتی ماحول کی بات آپ کر رہی ہیں وہ تو کب سے جنم لے بھی چُکا ہے ۔
لئیق احمد — مئی 6، 2017 6:32 صبح
اس تحریر پڑھ کر فورا پہلے یہ زہن میں آیا کہ اس تحریر کا عنوان یہ ہونا چاہئے تھا ۔
"آدم کا بیٹا بمقابلہ حوا کی بیٹی ڈاکٹر یونس بٹ کی عینک سے"
محمد عدنان اکبری نقیبی — مئی 6، 2017 6:36 صبح
اب ذرا تصور کرنے کی ضرورت ہے کہ ایسی صورتحال میں "کس قسم" کا خاندانی اور معاشرتی ماحول جنم لے گا؟؟؟؟
بہن معاشرہ تصور کے دور سے نکل کے کافی آگے جا چکا ہے۔ہم سات رنگی معاشرے کا حصہ ہیں۔
ڈاکٹرعامر شہزاد — مئی 6، 2017 6:40 صبح
اس تحریر پڑھ کر فورا پہلے یہ زہن میں آیا کہ اس تحریر کا عنوان یہ ہونا چاہئے تھا ۔
"آدم کا بیٹا بمقابلہ حوا کی بیٹی ڈاکٹر یونس بٹ کی عینک سے"
بٹ صاحب سے رابطہ کرتے ہیں ۔ چونکہ تحریر انہی کی ہے تو یہ حق بھی انہی کے پاس ہے ۔ :)
محمد عدنان اکبری نقیبی — مئی 6، 2017 6:46 صبح
gender discriminating تحاریر پڑھ کر میرے دماغ میں بس ایک ہی سوال آتا ہے کہ ایسی تحاریر کسی ناپختہ ذہن پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہوں گی؟ مثال کے طور پر کوئی ٹین ایج لڑکی یا لڑکا اس طرح کی تحاریر پڑھے تو اس کی ذہنیت پر کیا فرق پڑے گا؟
آج کے دور کے ٹین ایج بوتھ کافی پختہ ہیں۔وہ اس طرح کی تحریروں کو کسی گنتی میں نہیں لاتے۔
جاسمن — مئی 6، 2017 4:18 شام
بٹ صاحب کی بہت سی کتابیں پڑھی ہیں۔ شروع شروع میں ان کا انداز بہت پسند آیا ،پھر ایک ہی جیسا انداز بور کرنے لگا۔ یہ بالکل ڈرامہ "بلبلے" کی طرح ہے۔ یہ ڈرامہ بھی شروع میں اچھا لگا لیکن پھر ایک سا انداز،وہی مکالمے،گھسٹ پٹے مذاق۔۔۔۔۔اور خاص طور پہ گھٹیا مذاق۔
مزاح اور مذاق لکھتے اور کرتے ہوئے پھکڑپن نہین ہونا چاہیے۔ بلبلے بچوں کے دیکھنے والا نہیں رہا تھا۔بلکہ بڑوں کے دیکھنے والا بھی نہیں ۔
اس تحریر میں بھی وہی انداز ہے۔ کچھ جملے اچھےلگے اور کچھ نہیں ۔ملے جلے تاثرات ہیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AD%D9%88%D8%A7-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DB%8C.96236/page-2