آپ تو تحریر کی بات کر رہی ہیں ۔ ہمارے پاکستانی معاشرے میں ہر گھر میں ٹی وی پہ لاتعداد چینلز پہ جتنے ڈرامے دکھائے جا رہے ہیں کیا وہ یہی سب کچھ نہیں کر رہے ۔ تحریر پڑھنے والاتو پھر بھی شاید 16 سال سے کم عمر کوئی ہو لیکن یہ ڈرامے دیکھنے والے شائقین میں 6 ، 7 سال کے بچوں سے لے کے 80 سال کے بو ڑھے بھی شامل ہیں ۔
اور ان ڈراموں نے لوگوں کے ذہنوں میں اس حد تک رشتوں میں تخیلاتی دراڑیں پیدا کر دی ہیں کہ بہو خدا نخواستہ سچ میں درد سے تڑپ رہی ہو لیکن ساس سمجھتی ہے کہ ڈرامے کر رہی ہے ۔ساس کے ہاتھ سے چائے پیتے ہوئے بہو کے دل میں ہوتا ہے کہ یقیناََ ساس صاحبہ نے اس میں کچھ ملا نہ دیا ہو ۔
رشتوں کے حوالے سے ایسی چیزیں اپنے ذہن میں تخلیق کر لی جاتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا اور اس کی بنیاد پہ اپنے رویے لوگوں سے روا رکھے جاتے ہیں ۔ جب آخر پہ بات کُھلتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ جیسا سوچا تھا حقیقت اُس کے بر عکس تھی ۔
جس خاندانی اور معاشرتی ماحول کی بات آپ کر رہی ہیں وہ تو کب سے جنم لے بھی چُکا ہے ۔
ڈاکٹر صاحب آپ کی کچھ باتوں سے میں متفق ہوں۔
جہاں تک ٹی وی پروگرامز کی بات ہے تو لکھنے والے یہی مصنف ہی تو ہیں۔ کبھی کتاب چھاپ دی تو کبھی اسکرپٹ لکھ دیا۔ بات ساری یہ ہے کہ مصنف آخر لکھ کیا رہا ہے؟؟؟ جو لکھ رہا ہے وہ بہرحال کسی نا کسی ذریعے سے عوام تک پہنچتا تو ضرور ہے۔
آپ ٹی وی ڈراموں کے بارے میں بالکل ٹھیک فرما رہے ہیں۔ ٹی وی والوں کا کام صرف پیسہ کمانا ہے۔ وہ چٹ پٹی کہانیاں لے کر ڈرامے وغیرہ بنا دیتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ان کی اس تخلیق کے کیا نتائج نکلیں گے۔ ان کے کردار emotionally unstable ہوتے ہیں اور عام ناظرین غیر ارادی طور پر ان رویوں کو سیکھ جاتے ہیں۔ اس طرح ہمارے معاشرے میں emotional instability ہر رشتے ناطے میں بڑھتی ہی جا رہی ہے چاہے وہ ساس بہو کا رشتہ ہو یا شوہر بیوی کا یا ماں باپ اور بچوں کا!
اس لئے میری اپنے طور پر یہ کوشش رہتی ہے کہ کم از کم میں ہی کوئی ایسی بات نہ کروں کہ جس کے نتیجے میں نفرت جنم لے۔

اور میری یہ بھی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی بات آرام سے دوسروں تک پہنچا دوں۔ اب کوئی اتفاق کرے یا نہ کرے تو ہر کسی کی اپنی اپنی سوچ ہے اور ہر کسی کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی سوچ اور پسند کے حساب سے اپنی رائے قائم کرے۔
