سنہری اصول

گل زیب انجم — جون 22، 2015 3:36 شام
نہیں جناب، آپ کی لکھی ہوئی ہر سنہری بات قابل ستائش ہے۔اب کوئی کہاں تک تحسین کر سکتا ہے۔
دل بہلانے کے لیے خیال اچھا ہے. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
گل زیب انجم — جون 23، 2015 8:16 صبح
بہتر اور بہترین :-
زندگی تب بہتر ہوتی ہے
جب آپ
خوش
ہوتے ہیں
لیکن
زندگی تب بہترین ہوتی ہے
جب آپ کی
وجہ سے
کوئی
دوسرا خوش
ہوتا ہے ۔
گل زیب انجم — جون 23، 2015 8:21 صبح
زندگی :-
یہ زندگی
دو دن کی ہے
ایک دن تمہارے حق میں
اور
دوسرا تمہارے مخالف
جس دن تمارے حق میں ہو
اس دن غرور
مت کرنا
اور
جس دن تمہارے مخالف ہو
اس دن
صبر
کرنا.
گل زیب انجم — جون 23، 2015 8:42 صبح
وقت :-
وقت کے ساتھ ساتھ
بہت کچھ بدل جاتا ہے
لوگ بهی، رشتے بھی، احساس بھی
اور
کبھی کبھی
ہم
خود بھی.
گل زیب انجم — جون 23، 2015 10:09 صبح
زندگی :-
یہ زندگی
دو دن کی ہے
ایک دن تمہارے حق میں
اور
دوسرا تمہارے مخالف
جس دن تمارے حق میں ہو
اس دن غرور
مت کرنا
اور
جس دن تمہارے مخالف ہو
اس دن
صبر
کرنا.
بلال بھائی حروف کی کفایت شعاری اچھی نہیں ہوتی
تاہم آپ کی تمام ارسال کردہ رنگیٹ پر تہ دل سے مشکور ہوں.
گل زیب انجم — جون 23، 2015 11:16 صبح
bilal260 — جون 23، 2015 11:22 صبح
محترم جناب میں نہیں چاہتا کہ ان سنہری باتوں میں ، میں فضول باتوں کا اضافہ کروں۔یہ سب باتیں لاجواب ہے اس لئےکمنٹ کی جرات نہیں ہوتی۔
گل زیب انجم میں اکثر ریٹنگ ہی کرتا ہوں کیونکہ فضول بات کرنے سے چپ رہنا بہتر ہے۔ شکریہ۔اور جزاک اللہ خیر۔
گل زیب انجم — جون 23، 2015 12:32 شام
محترم جناب میں نہیں چاہتا کہ ان سنہری باتوں میں ، میں فضول باتوں کا اضافہ کروں۔یہ سب باتیں لاجواب ہے اس لئےکمنٹ کی جرات نہیں ہوتی۔
گل زیب انجم میں اکثر ریٹنگ ہی کرتا ہوں کیونکہ فضول بات کرنے سے چپ رہنا بہتر ہے۔ شکریہ۔اور جزاک اللہ خیر۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ
برادرم بلال
اللہ تعالیٰ آپ کو رمضان المبارک کے مہینے کی تمام نعمتیں اور فیوض سمٹنے کی توفیق عطا فرمائے.
برادرم آپ نے یہ کیسے سوچ لیا کہ آپ کی لکھی ہوئی یا کہی ہوئی باتیں فضول ہو سکتی ہیں. پہلی تو یہ بات ہے کہ ہر انسان اپنی عقل کے مطابق درست ہی کہتا ہے کوئی یہ نہیں چاہتا کہ اس کی کہی ہوئی بات فضولیات میں شامل کی جائے.
دوسری بات یہ کہ کسی کی بات کو درجہ بندی میں لانا اپنا نہیں بلکہ دوسروں کا کام ہوتا ہے اور یہ ان لوگوں پر محنصر ہے کہ وہ کسی کی بات کو کتنی اہمیت دیتے ہیں.
اب یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ جو بات مجھے اچھی لگی ہو وہ آپ کو بھی اچھی لگے۔
چونکہ ہر آدمی کی سوچ کا میعار الگ ہوتا ہے اس لئے کوئی کسی کے میعار پر اترتا ہے اور کوئی کسی کے میعار سے اتر جاتا ہے.
ایک مثال میری تحریر بھی ہے کہ
یہ کتنے احباب کی نظروں سے گزری ہو گی لیکن اس کو ریٹنگز کا شرف آپ نے اور دو دوسرے دوستوں نے بخشا
اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہر کسی کے پرکهنے کا الگ الگ میزان ہے ورنہ نہ کوئی فضول لکهتا اور نہ ہی کہتا ہے.
آپ سے ایک خصوصی استدعا کہ آپ اپنی بات لکھ یا کہہ دیا کریں باقی اس کا موازنہ کرنا آپ کا نہیں دوسرں کا کام ہے.
bilal260 — جون 23، 2015 4:09 شام
عزت افزائی اور حوصلہ افزائی کا شکریہ۔
گل زیب انجم — جون 24، 2015 8:04 صبح
عزت افزائی اور حوصلہ افزائی کا شکریہ۔
ویلکم
گل زیب انجم — جون 24، 2015 11:42 صبح
غربت :-
غربت انسان کو اپنے ہی شہر میں
ایسا اجنبی بنا دیتی ہے کہ
لوگ پہچاننے سے انکار کر دیتے ہیں.
تلمیذ — جون 24، 2015 11:51 صبح
حق!
گل زیب انجم — جون 24، 2015 12:28 شام
ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ لوگ اپنے اپنے رب کو بهول جائیں گے
بہت قیمتی لباس پہن کر بازار میں اکڑ اکڑ کر چلیں گے اور اس بات سے بے خبر ہونگے کہ
اسی بازار میں ان کا کفن بھی موجود ہے
فاروق احمد بھٹی — جون 24، 2015 1:10 شام
غربت :-
غربت انسان کو اپنے ہی شہر میں
ایسا اجنبی بنا دیتی ہے کہ
لوگ پہچاننے سے انکار کر دیتے ہیں.
سو فیصد سچ
گل زیب انجم — جون 25، 2015 8:31 صبح
فاروق صاحب کیا نظر پڑ گئی ہے
bilal260 — جون 25، 2015 8:32 صبح
غربت :-
غربت انسان کو اپنے ہی شہر میں
ایسا اجنبی بنا دیتی ہے کہ
لوگ پہچاننے سے انکار کر دیتے ہیں.
اپنی تو گھر والی ہی پہچاننے سے انکار کر دیتی ہے اس لئے میں نے اسے ہی چھوڑ دیا۔
گل زیب انجم — جون 25، 2015 8:37 صبح
اپنی تو گھر والی ہی پہچاننے سے انکار کر دیتی ہے اس لئے میں نے اسے ہی چھوڑ دیا۔
کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
bilal260 — جون 25، 2015 8:45 صبح
سرجی خیران نہ ہو آپ کی تمام لکھی ہوئی باتیں سچ ہے۔
مجھ سے اس کے ناز نخرے اور خرچے پورے نہیں ہو رہے تھے اس لئے میری ساس ،میرے سسر میرے دو سالے اور بالخصوص میرے سابقہ بیوی کا مطالبہ جو تھا وہ میں نے پورا کر دیا ۔
پھر پڑھے آپ نے کیا لکھا ہے۔
غربت :-
غربت انسان کو اپنے ہی شہر میں
ایسا اجنبی بنا دیتی ہے کہ
لوگ پہچاننے سے انکار کر دیتے ہیں.
گل زیب انجم — جون 25، 2015 8:45 صبح
دوست :-
اچهے دوست ستاروں کی مانند ہوتے ہیں
ہم ان کو
ہمیشہ دیکھ نہیں پاتے
لیکن
وہ ہمیشہ وہی
ہوتے ہیں
گل زیب انجم — جون 25، 2015 8:57 صبح
سرجی خیران نہ ہو آپ کی تمام لکھی ہوئی باتیں سچ ہے۔
مجھ سے اس کے ناز نخرے اور خرچے پورے نہیں ہو رہے تھے اس لئے میری ساس ،میرے سسر میرے دو سالے اور بالخصوص میرے سابقہ بیوی کا مطالبہ جو تھا وہ میں نے پورا کر دیا ۔
پھر پڑھے آپ نے کیا لکھا ہے۔
غربت :-
غربت انسان کو اپنے ہی شہر میں
ایسا اجنبی بنا دیتی ہے کہ
لوگ پہچاننے سے انکار کر دیتے ہیں.
اچها اس کا مطلب یہ کہ
یہ بهی سچ ہے.
پہلے تو میں نے سوچا تھا کہ
آپ ورکشاپ میں کام کرتے ہیں اس لیے آپ کو وہ پہچانتی نہیں۔۔۔۔ہا ہا
لیکن آپ نے کڑوا سچ کہہ کر
بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا.
خیر جو چهانتی سو وہی جانتی
آپ نے بھی سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہو گا.
لیکن نہ جانے کیوں
دل کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ پریشان ہو گیا.

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%D9%86%DB%81%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%D8%B5%D9%88%D9%84.82962/page-2