عاطف بٹ — مئی 2، 2014 11:38 صبح
بہت عمدہ نایاب بھائی۔تیرے مگروں میرئیے مائے
تیرے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد اے میری ماں
ایس دنیا دے تِلکن ویہڑے
اس دنیا کے پھسلا دینے والے صحن میں
جد وی ڈِگیاں، آپے اُٹھیاں
میں جب بھی گرا ۔۔ خود ہی اٹھا
'بسم اللہ!' دی واج نئیں آئی
کہیں سے سلامتی بھری صدا نہ ابھری
نہ کیڑی دا آٹا ڈُلہیائے
نہ چیونٹی کا آٹا گرا
صاحب کلام اپنی والدہ کی وفات کے بعد اپنے ساتھ پیش آنے والے حادثات پر دنیا کی جانب سے سامنے آنے والے ردعمل پر اپنی والدہ کے اس ردعمل کو یاد کر رہا ہے ۔ جب کبھی بچپن میں وہ کھیلتے کھیلتے کبھی گرتا تھا ۔ تو اس کی والدہ بھاگ کر اسے اٹھا لیتی تھی اور " بسم اللہ " کی صدا کے ساتھ اس کی توجہ " چیونٹی " کی جانب مبذول کرا دیتی تھی ۔ کہ " چیونٹی " کا آٹا " ڈلھ" گیا ہے ۔ اور وہ اپنا گرنے کا درد چوٹ بھول کر اس چیونٹی کو تلاش کرنے میں محو جاتا تھا ۔ جس کا آٹا " ڈلھ " گیا ہوتا ہے ۔
یہاں " ڈلھنا " عجب انوکھی بات کے طور پر استعمال ہوا ہے ۔۔
پنجابی زبان میں " گرنے " کے لیئے " ڈگنا اور ڈھینا" استعمال ہوتا ہے ۔