شاہ حسینسجن دے ہتھ بانہہ اساڈی

غدیر زھرا — مئی 23، 2014 5:46 شام
سجن دے ہتھ بانہہ اساڈی،کیونکر آکھاں چھڈ وے اڑیا
رات اندھیری،بدل کنیاں،باجھ مُشکل بنیاں
ڈاہڈے کیتا سڈ وے اڑیا
عشق محبت سو ای جانن،پئی جیہناں دے ہڈ وے اڑیا
کلر کھٹن کھوہڑی چینا ریت نہ گڈ وے اڑیا
نِت بھرناں چُٹھیاں، اک دن جاسیں چھڈ وے اڑیا
کہے حسین فقیر نمانا نین نیناں نال گڈ وے اڑیا
اوکھے لفظاں دے معنے
سڈ: بلاوا
سو ای: اوہی
پئی جیہناں دے ہڈ:جنہاں تے بیتی۔
کھٹن:پاون
چھُٹیاں:چھالاں
نایاب — مئی 23، 2014 5:50 شام
سوہنی دل کھچویں شراکت ۔۔۔۔۔
بہوں دعاواں ۔۔۔۔۔۔۔۔
اک پل کی تاخیر کیئے بنا آپ کی بھابھی کو سنا دیا ۔ بٹیا جی
اب اس کو سمجھانا ہوگا کہ کیا کہا گیا ہے اس سچی صدا میں ۔۔۔۔۔۔۔۔
تلمیذ — مئی 23، 2014 5:55 شام
نِت بھرناں چُٹھیاں، اک دن جاسیں چھڈ وے اڑیا
حق!!
عبدالقیوم چوہدری — مئی 24، 2014 11:11 شام
کہے حسین فقیر نمانا نین نیناں نال گڈ وے اڑیا
----
لفظ 'گڈ' دا کہ ای ودھیا استعمال کیتا اے۔ وا وا
غدیر زھرا — مئی 29، 2014 5:10 شام
سوہنی دل کھچویں شراکت ۔۔۔ ۔۔
بہوں دعاواں ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
اک پل کی تاخیر کیئے بنا آپ کی بھابھی کو سنا دیا ۔ بٹیا جی
اب اس کو سمجھانا ہوگا کہ کیا کہا گیا ہے اس سچی صدا میں ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
بہت شکریہ بھیا :)
گویا اب آپ پر قرض ہو گیا ہمارا سلام بھابھی تک پہنچانا :)
غدیر زھرا — مئی 29، 2014 5:10 شام
نِت بھرناں چُٹھیاں، اک دن جاسیں چھڈ وے اڑیا
حق!!
کہے حسین فقیر نمانا نین نیناں نال گڈ وے اڑیا
----
لفظ 'گڈ' دا کہ ای ودھیا استعمال کیتا اے۔ وا وا
بہت شکریہ :)
ماہی احمد — مئی 29، 2014 5:16 شام
کچھ الفاظ بہت مشکل ہیں :)
اردو ترجمہ کر دے کوئی :)
غدیر زھرا — مئی 29، 2014 5:24 شام
کچھ الفاظ بہت مشکل ہیں :)
اردو ترجمہ کر دے کوئی :)
نایاب بھیا یا تلمیذ سر سے درخواست کی جا سکتی ہے کیونکہ میں تو ہرگز رسک نہیں لوں گی ترجمے کا :) ٹھیک نہ ہوا تو خود کو ڈانٹ دوں گی :)
ماہی احمد — مئی 29، 2014 5:28 شام
نایاب بھیا یا تلمیذ سر سے درخواست کی جا سکتی ہے کیونکہ میں تو ہرگز رسک نہیں لوں گی ترجمے کا :) ٹھیک نہ ہوا تو خود کو ڈانٹ دوں گی :)
:)
نایاب چاچو
تلمیذ سر
مہربانی فرمائیے۔۔۔
صائمہ شاہ — مئی 29، 2014 5:46 شام
:)
نایاب چاچو
تلمیذ سر
مہربانی فرمائیے۔۔۔
نایاب چاچو ؟؟؟؟؟
ماہی احمد — مئی 29، 2014 5:48 شام
غلط کہہ دیا کیا؟
صائمہ شاہ — مئی 29، 2014 6:16 شام
نایاب بھائی اتنے بوڑھے بھی نہیں ہیں :) شائد کہیں فیس بک پر ان کی تصویر دیکھ رکھی ہے اور آپ بھی تو ماشااللہ ایم ایس سی کر رہی ہیں تو اتنی چھوٹی آپ بھی نہیں ہیں :)
نایاب — مئی 29، 2014 6:24 شام
نایاب بھیا یا تلمیذ سر سے درخواست کی جا سکتی ہے کیونکہ میں تو ہرگز رسک نہیں لوں گی ترجمے کا :) ٹھیک نہ ہوا تو خود کو ڈانٹ دوں گی :)
محترم بہنا پنجابی زبان کی درست ترین تشریح کے لئےمحترم فلک شیر بھائی کی ہستی قابل ترین ہے ۔ یقین ہے کہ بنا درخواست کے ہی وہ اس کافی کی تشریح کرتے علم کی شمع روشن کریں گے ۔۔۔۔۔۔ ان شاءاللہ
میں نے پنجابی زبان میں یہ کافیاں اکثر بزرگوں کے عرس کے موقع پر بزرگوں سے سنی ہیں ۔ اور ان کی تفہیم ہی سے ان کے مطالب سے کچھ آگہی ملی ہے ۔
اس کافی بارے جو کچھ میرے ذہن میں ہے وہ کچھ یوں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سجن دے ہتھ بانہہ اساڈی،کیونکر آکھاں چھڈ وے اڑیا
رات اندھیری،بدل کنیاں،باجھ مُشکل بنیاں
ڈاہڈے کیتا سڈ وے اڑیا
عشق محبت سو ای جانن،پئی جیہناں دے ہڈ وے اڑیا
کلر کھٹن کھوہڑی چینا ریت نہ گڈ وے اڑیا
نِت بھرناں چُٹھیاں، اک دن جاسیں چھڈ وے اڑیا
کہے حسین فقیر نمانا نین نیناں نال گڈ وے اڑیا
صوفیانہ کلام مجاز پر استوار ہوتے حقیقت پر قائم ہوتا ہے ۔۔۔
درج بالا کلام میں بھی صاحب کلام مجاز سے مخاطب ہوتے حقیقت کی جانب متوجہ کر رہا ہے ۔۔
سجن " سچا دوست سچا ساتھی ہر پل مددگار " اگر ہاتھ پکڑ لے تو کیسے اس سے کہا جائے کہ چھوڑ دے مجھے درد ہو رہا ہے ۔۔۔۔
حق ہمیشہ اپنے چاہنے والوں کو آزمائیش میں مبتلا کرتا ہے ۔ اور اس کے چاہنے والے اس کی رضا پر راضی رہتے صبر و شکر سے تنگی برداشت کرتے ہیں ۔ کبھی گلہ نہیں کرتے ۔۔۔۔ جناب ایوب علیہ السلام کا مرض کی شدت کو برداشت کرنا ۔۔
اندھیری رات ہو اور بادل گرج چمک رہے ہوں تو کسی کے بلائے پہ جانا بہت مشکل امر ہوتا ہے ۔مگر محبوب بلائے تو ہر مشکل برداشت کر نے پر محب آمادہ ہوتا ہے
دنیا کی چمک آنکھوں کی بصارت کو محو کر نے والی ہو لالچ نفس کی خواہش بارش کے قطروں کی مانند دل پہ برس رہی ہو اور حق اپنی جانب بلا رہا ہو توان سب سے دامن چھڑا کر حق کی جانب جانا آسان امر نہیں ۔۔۔ "غار حرا" میں قیام ۔۔
عشق و محبت کی حقیقت وہی جانتے ہیں جنہوں نے اس جذبے کی حدت اپنی ہڈیوں تک میں محسوس کی ہو ۔۔۔۔۔
جناب بلال رضی اللہ تعالی کا صحرا کی ریت کی تپش کو جو ہڈیوں تک کو سلگانے والی ہوتی ہے برداشت کر کے واحد کی صدا پر قائم رہنا
میرے محبوب یہ جو تو اپنے حسن فانی پہ نازاں ہو تے غرور بھری باتیں کرتا ہے اک دن تجھے چھوڑنی پڑیں گی ۔۔۔
حسین فقیر یہ کہتا ہے کہ محبت کو مان لے اور نین سے نین ملا لے ۔۔۔۔۔۔۔
شاہ حسین یہ جو تو لمبی لمبی لچھے دار باتیں کرتا ہے جب وقت سفر آئے گا تو کچھ کام نہ آئیں گی ۔
حسین فقیر یہ تجھ کو کہتا ہے کہ تو عبادت میں یوں محو ہو کہ گویا تیری نگاہ حق کی نگاہ کو دیکھ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(کلر کھٹن کھوہڑی چینا ریت نہ گڈ وے اڑیا)۔ یہ سمجھ نہیں آیا محترم فلک شیر بھائی یا محترم تلمیذ بھائی ہی اس بارے آگہی دیں گے ۔ ان شاءاللہ
" یہ اس کافی کا لفظی ترجمہ نہیں ہے ۔ بلکہ بزرگوں سے سنی اس کی مجمل تشریح ہے " اگر کچھ بھول گیا ہوں تو اس کی معذرت
نایاب — مئی 29، 2014 6:31 شام
نہیں بٹیا جی آپ نے بالکل درست کہا ۔۔۔آپ کا احترام سے چاچو کہنا اچھا لگتا ہے ۔۔
میری عمر الحمد للہ 51 سال ہے اور میری سب سے پہلی بیٹی کی عمر قریب 37 سال تھی جب میں 12 سال کا تھا ۔۔۔۔۔ بہت دعائیں
نایاب بھائی اتنے بوڑھے بھی نہیں ہیں :) شائد کہیں فیس بک پر ان کی تصویر دیکھ رکھی ہے اور آپ بھی تو ماشااللہ ایم ایس سی کر رہی ہیں تو اتنی چھوٹی آپ بھی نہیں ہیں :)
محترم بہنا بہت دعائیں سدا خوش و شادوآباد رہیں ۔ آپ میری اچھی والی بہنا ہیں آج سے ۔۔۔۔۔۔۔
ویسے مجھے میری بڑی بٹیا ملکہ حسن عسکری کے برابر کی لگتی ہیں آپ ۔ اللہ اسے سدا شادوآباد رکھے آمین ۔
باتیں بھی اس جیسی ہی ہیں ۔ بہت دعائیں
ماہی احمد — مئی 29، 2014 6:31 شام
نایاب بھائی اتنے بوڑھے بھی نہیں ہیں :) شائد کہیں فیس بک پر ان کی تصویر دیکھ رکھی ہے اور آپ بھی تو ماشااللہ ایم ایس سی کر رہی ہیں تو اتنی چھوٹی آپ بھی نہیں ہیں :)
میں نے عائشہ کو کہتے دیکھا تھا، اس لئیے بول دیا۔
خیر ، احتیاط کروں گی آئندہ۔
ماہی احمد — مئی 29، 2014 6:33 شام
نہیں بٹیا جی آپ نے بالکل درست کہا ۔۔۔ آپ کا احترام سے چاچو کہنا اچھا لگتا ہے ۔۔
میری عمر الحمد للہ 51 سال ہے اور میری سب سے پہلی بیٹی کی عمر قریب 37 سال تھی جب میں 12 سال کا تھا ۔۔۔ ۔۔ بہت دعائیں
یعنی پھر تو آپ کو تایا بھی کہا جا سکتا ہے :)
ماہی احمد — مئی 29، 2014 6:36 شام
محترم بہنا پنجابی زبان کی درست ترین تشریح کے لئےمحترم فلک شیر بھائی کی ہستی قابل ترین ہے ۔ یقین ہے کہ بنا درخواست کے ہی وہ اس کافی کی تشریح کرتے علم کی شمع روشن کریں گے ۔۔۔ ۔۔۔ ان شاءاللہ
میں نے پنجابی زبان میں یہ کافیاں اکثر بزرگوں کے عرس کے موقع پر بزرگوں سے سنی ہیں ۔ اور ان کی تفہیم ہی سے ان کے مطالب سے کچھ آگہی ملی ہے ۔
اس کافی بارے جو کچھ میرے ذہن میں ہے وہ کچھ یوں ہے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
سجن دے ہتھ بانہہ اساڈی،کیونکر آکھاں چھڈ وے اڑیا
رات اندھیری،بدل کنیاں،باجھ مُشکل بنیاں
ڈاہڈے کیتا سڈ وے اڑیا
عشق محبت سو ای جانن،پئی جیہناں دے ہڈ وے اڑیا
کلر کھٹن کھوہڑی چینا ریت نہ گڈ وے اڑیا
نِت بھرناں چُٹھیاں، اک دن جاسیں چھڈ وے اڑیا
کہے حسین فقیر نمانا نین نیناں نال گڈ وے اڑیا
صوفیانہ کلام مجاز پر استوار ہوتے حقیقت پر قائم ہوتا ہے ۔۔۔
درج بالا کلام میں بھی صاحب کلام مجاز سے مخاطب ہوتے حقیقت کی جانب متوجہ کر رہا ہے ۔۔
سجن " سچا دوست سچا ساتھی ہر پل مددگار " اگر ہاتھ پکڑ لے تو کیسے اس سے کہا جائے کہ چھوڑ دے مجھے درد ہو رہا ہے ۔۔۔ ۔
حق ہمیشہ اپنے چاہنے والوں کو آزمائیش میں مبتلا کرتا ہے ۔ اور اس کے چاہنے والے اس کی رضا پر راضی رہتے صبر و شکر سے تنگی برداشت کرتے ہیں ۔ کبھی گلہ نہیں کرتے ۔۔۔ ۔ جناب ایوب علیہ السلام کا مرض کی شدت کو برداشت کرنا ۔۔
اندھیری رات ہو اور بادل گرج چمک رہے ہوں تو کسی کے بلائے پہ جانا بہت مشکل امر ہوتا ہے ۔مگر محبوب بلائے تو ہر مشکل برداشت کر نے پر محب آمادہ ہوتا ہے
دنیا کی چمک آنکھوں کی بصارت کو محو کر نے والی ہو لالچ نفس کی خواہش بارش کے قطروں کی مانند دل پہ برس رہی ہو اور حق اپنی جانب بلا رہا ہو توان سب سے دامن چھڑا کر حق کی جانب جانا آسان امر نہیں ۔۔۔ "غار حرا" میں قیام ۔۔
عشق و محبت کی حقیقت وہی جانتے ہیں جنہوں نے اس جذبے کی حدت اپنی ہڈیوں تک میں محسوس کی ہو ۔۔۔ ۔۔
جناب بلال رضی اللہ تعالی کا صحرا کی ریت کی تپش کو جو ہڈیوں تک کو سلگانے والی ہوتی ہے برداشت کر کے واحد کی صدا پر قائم رہنا
میرے محبوب یہ جو تو اپنے حسن فانی پہ نازاں ہو تے غرور بھری باتیں کرتا ہے اک دن تجھے چھوڑنی پڑیں گی ۔۔۔
حسین فقیر یہ کہتا ہے کہ محبت کو مان لے اور نین سے نین ملا لے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
شاہ حسین یہ جو تو لمبی لمبی لچھے دار باتیں کرتا ہے جب وقت سفر آئے گا تو کچھ کام نہ آئیں گی ۔
حسین فقیر یہ تجھ کو کہتا ہے کہ تو عبادت میں یوں محو ہو کہ گویا تیری نگاہ حق کی نگاہ کو دیکھ رہی ہو ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
(کلر کھٹن کھوہڑی چینا ریت نہ گڈ وے اڑیا)۔ یہ سمجھ نہیں آیا محترم فلک شیر بھائی یا محترم تلمیذ بھائی ہی اس بارے آگہی دیں گے ۔ ان شاءاللہ
" یہ اس کافی کا لفظی ترجمہ نہیں ہے ۔ بلکہ بزرگوں سے سنی اس کی مجمل تشریح ہے " اگر کچھ بھول گیا ہوں تو اس کی معذرت
بہت شکریہ۔۔۔ :)
نایاب — مئی 29، 2014 6:36 شام
یعنی پھر تو آپ کو تایا بھی کہا جا سکتا ہے :)
بٹیا جی " تایا " کہنے والے بھی ہیں ۔ اللہ انہیں سدا سلامت رکھے آمین
کرم سچی ذات پاک کا کہ دادا نانا کہنے والے بھی سمجھدار ہیں اب ۔۔۔۔۔۔ سیاسی مذہبی بحث کرنے کے قابل ۔
بہت دعائیں
ماہی احمد — مئی 29، 2014 6:36 شام
بٹیا جی " تایا " کہنے والے بھی ہیں ۔ اللہ انہیں سدا سلامت رکھے آمین
کرم سچی ذات پاک کا کہ دادا نانا کہنے والے بھی سمجھدار ہیں اب ۔۔۔ ۔۔۔ سیاسی مذہبی بحث کرنے کے قابل ۔
بہت دعائیں
جیتے رہئیے ، خوش رہئیے :)
تلمیذ — مئی 29، 2014 6:43 شام

کلر کھٹن کھوہڑی چینا ریت نہ گڈ وے اڑیا

توجہ کرو، سرکار!
محمد یعقوب آسی,
فلک شیر,
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%D8%AC%D9%86-%D8%AF%DB%92-%DB%81%D8%AA%DA%BE-%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%81-%D8%A7%D8%B3%D8%A7%DA%88%DB%8C.74584/