شاہ حسینسجن دے ہتھ بانہہ اساڈی

محمد یعقوب آسی — مئی 29، 2014 7:22 شام
کلر کھٹن کھوہڑی چینا ریت نہ گڈ وے اڑیا
توجہ کرو، سرکار!

محمد یعقوب آسی,
فلک شیر,
یہ بہت مختلف لہجہ ہے۔ چیمہ صاحب بہتر بتا سکیں گے۔
شمشاد — مئی 29، 2014 10:23 شام
واہ واہ بھتیجی۔ کمال کی شیئرنگ ہے۔
غدیر زھرا — جون 2، 2014 1:48 شام
واہ واہ بھتیجی۔ کمال کی شیئرنگ ہے۔
شکریہ چاچو :)
ماہی احمد — جون 2، 2014 2:42 شام
فلک شیر بھائی۔ ٰیہاں آپ کا انتظار ہو رہا ہے۔
غدیر زھرا — جون 2، 2014 3:09 شام
میرے تلاش کرنے پر مجھے اردو تو نہیں البتہ انگلش ترجمہ مل پایا ہے اس کلام کا :)
جسے پڑھنے کے بعد میرا نہیں خیال کہ اردو ترجمہ مشکل ہو گا :)
اور وہ الفاظ جن کےترجمے میں مشکل ہو رہی تھی ان کا مفہوم بھی معلوم ہو جائے گا :)
my Beloved is holding me by my arm why would i ask Him to leave oh stubborn one
night is dark clouds and sprinkle things are difficult without the presence of The Interpreters
The Mighty One has invited me oh stubborn one
only those know commitment and love who are bound to go through it oh stubborn one
of lands getting barren, wells getting bitter, possessions like sand don't make a heap oh stubborn one
this freedom is not going to last for you forever one day farewell you will receive oh stubborn one
says Hussain the Humble Lover, let your eyes remain agreeable to His eyes His will oh stubborn one
الشفاء — جون 2، 2014 3:34 شام
سجن " سچا دوست سچا ساتھی ہر پل مددگار " اگر ہاتھ پکڑ لے تو کیسے اس سے کہا جائے کہ چھوڑ دے مجھے درد ہو رہا ہے ۔۔۔ ۔
ہائے ہائے ہائے۔۔۔
اللہ تہاڈا بھلا کرے۔۔۔
غدیر زھرا — جون 2، 2014 3:38 شام
کلرکا تو معلوم تھا کہ اس زمین کو کہتے ہیں جس میں نامیاتی مادے کم ہوتے ہیں (امید ہے کہ یہی مطلب ہے) کھوہڑی سے مراد کڑوا پانی یا کڑوے پانی کا کنواں ہو گا اور "گڈ" سے مراد ڈھیر یا جسے ("گڈّی" بھی کہہ سکتے ہیں) ہے :) کھٹن کسی چیز سے کچھ اخد کرنا ہوتا ہے یا اگانا۔۔
نایاب بھیا اگر اس انگلش ترجمے کو درست مانا جائے تو اس میں شاہ حسین کی کیا مراد ہے؟
محمد یعقوب آسی — جون 2، 2014 4:03 شام
’’میری گندل ورگی وِینی، ویکھیں وے کِتے توڑ نہ دئیں‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (بولی)۔
فلک شیر — جون 2، 2014 5:58 شام
"کلر کھٹن کھوہڑی ، چینا ریت نہ گڈ وے اڑیا "
نایاب بھائی نے جس قدر حسن ظن کا اظہار فرمایا ہے، اس کا عشر عشیر بھی مجھے مل جائے، تو خوش نصیبی ہے ، بہر حال ان کی محبت بھری خوش گمانی کے لیے بھی میں ان کا تہ دل سے شکرگزار ہوں۔
اوپر دی گئی سطر کا جو ترجمہ اس فقیر کو سمجھ آیا ہے، وہ کچھ یوں ہے :
"اے دوست، کلراٹھی زمین میں جوہڑ ہی بنتے ہیں،سو اس میں ڈیرہ لگانے کی نہ سوچ۔۔۔ اور ریتلی زمین اس قابل نہیں ہوتی ، کہ وہاں چاول کی فصل، جسے بہت پانی کی ضرورت ہوتی ہے، کاشت کی جائے، کیونکہ وہ تو پانی پیتی جائے گی اور فصل کو کچھ بھی نہ ملے گا اس لیے میں تیری منت کرتا ہوں کہ چینا (چاول، سرائیکی میں ) ریت میں مت اگانے کی کوشش کرو،۔۔۔۔ دو تمثیلیں بیان کی گئی ہیں اور دونوں انسان کو اس کی قدر و قیمت کا احساس دلاتی ہیں ، کہ تم دنیا نامی اس کلراٹھی زمین میں ڈیرہ لگانے کی کوشش کر رہے ہو، تمہیں خبر بھی ہے، کہ یہ تو اس قابل ہی نہیں ہے، کہ اس میں مستقل قیام کیا جا سکے، کیونکہ کلراٹھی زمینوں میں بہت جلد پانی کھڑا ہو جاتا ہے۔۔۔۔دوسری طرف ریتلی زمین، جسے ہمارے نواح میں "میَرا زمین"بھی کہتے ہیں ، اس کی خاصیت ہے، کہ جتنا بھی پانی لگائیں، اسے فوراً پی جاتی ہے، ایسی زمین چاول جیسی قیمتی فصل کے لیے ہر گز موزوں نہیں ہوتی۔۔۔اسی طرح انسان کو سمجھایا گیا ہے، کہ اپنی جہد کے بیج کو صحیح زمین کے لیے بچا کر رکھو۔۔۔ دنیا اس قابل نہیں ، کہ اپنی کل کاوش اس بے وفا کے نام کر دو۔ "
مشہور مغنی پٹھانے خاں ایک گیت میں گویا ہوتے ہیں :
چینا ایں چھڑیندا یار۔۔۔
پہلے اوکھلی صاف کرائیں ۔۔
روڑا مٹی دھول ہٹائیں
فیر اوکھلی وچ چینا پائیں
چھج ۔۔۔ دا رکھیں تیار ۔۔۔
چینا ایں چھڑیندا یار۔۔۔
اس ترجمہ اور تفہیم سے اہل علم اختلاف کا حق رکھتے ہیں ، مجھ ناقص العلم کی فہم کے مطابق جو کچھ ہے، وہ پیش خدمت ہے۔
فلک شیر — جون 2، 2014 6:03 شام
انسان کو بتانے کی کوشش کی گئی ہے، کہ اپنے جہد و عمل کے لیے صحیح میدان دریافت کرے اور بے ثبات دنیا کے لیے خود کو وقف کر کے اپنی کوشش و کاوش کو بے کار نہ جانے دے۔
فلک شیر — جون 2، 2014 6:11 شام
"کلر کھٹن کھوہڑی ، چینا ریت نہ گڈ وے اڑیا "
کھٹن: کھٹنا توں اے۔ کمانا
چینا: سرائیکی میں دھان کو کہتے ہیں ۔
گڈ: بونا (پنجابی وچ آکھدے نیں ، "میں فلانی فصل گڈی اے )
اڑیا: مخاطب کرنے کے لیے دوستانہ، بے تکلفی پر مبنی لفظ
ریت: ریتلی زمین ، مَیرا
کھوہڑی: ٹوئے ، جنہاں اچ پانی بھریا ہووے
کلر: زمیں اتے جدوں چٹے رنگ دی اک تہ آ جائے، جیہڑی چند خاص عناصر دی کمی یا زیادتی وغیرہ توں آ جاندی اے ، جیہڑی اوہنوں قابل کاشت نئیں رہن دیندی
نایاب — جون 2، 2014 6:22 شام
انسان کو بتانے کی کوشش کی گئی ہے، کہ اپنے جہد و عمل کے لیے صحیح میدان دریافت کرے اور بے ثبات دنیا کے لیے خود کو وقف کر کے اپنی کوشش و کاوش کو بے کار نہ جانے دے۔
بلاشبہ استاد استاد ہی ہوتے ہیں ۔
بہت دعائیں محترم بھائی
فلک شیر — جون 2، 2014 6:28 شام
بہت دعائیں محترم بھائی
جزاک اللہ خیر :)
پہلی سطر کے مصداق یہاں بہت سے بزگ ہیں ، میں ان کے خوشہ چینوں میں سے ہوں ، آپ کی محبت کے لیے شکرگزار ہوں ۔
تلمیذ — جون 2، 2014 6:34 شام
موتی پرو دتے جے، چیمہ صاحب۔
سرائیکی دا اکھر ’چینا‘ میرے واہتے نواں اے۔ پنجابی ’مُنجی‘ دا تے پتہ سی۔
(پس نوشت: ایہہ تصویر کِدھی اے؟)
فلک شیر — جون 2، 2014 6:47 شام
موتی پرو دتے جے، چیمہ صاحب۔
سرائیکی دا اکھر ’چینا‘ میرے واہتے نواں اے۔ پنجابی ’مُنجی‘ دا تے پتہ سی۔
(پس نوشت: ایہہ تصویر کِدھی اے؟)
سر تہاڈی محبت اے ۔۔
چینا میں مدت ہوئی سندا رہیا، تے ہن وی سن رہیا واں ۔۔ اک سرائیکی دوست توں پچھیا سی، کیونکہ اپنے محاورے اچ تے کدھرے نئیں سی سنیا ۔۔۔ اوہنے دسیا سی ۔
تصویر سر ایہہ رابرٹ فراسٹ دی اے ۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%D8%AC%D9%86-%D8%AF%DB%92-%DB%81%D8%AA%DA%BE-%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%81-%D8%A7%D8%B3%D8%A7%DA%88%DB%8C.74584/page-2