بازارِ شام پر نہ ہوئی حشر تک سحَر ۔ فاتح الدین بشیر

فاتح — نومبر 20، 2012 8:36 شام
بازارِ شام پر نہ ہوئی حشر تک سحَر
شمس النّہار نوکِ سناں پر سجا دیے
بہت خوب فاتح صاحب واہ واہ بہت ہی عمدہ، بہت داد قبول ہو،
ممنون ہوں راجا صاحب۔
فاتح — نومبر 20، 2012 8:36 شام
ایک ریٹنگ ہونی چاہیے "ڈی حیدر"
محمد امین بھائی صحیح کہا میں نے؟؟؟
ڈی حیدر قلندر مست
محمد امین — نومبر 20، 2012 9:15 شام
جھولے لال۔۔۔۔۔ چلو چلو کوچہ ملنگاں چلو
عائشہ عزیز — نومبر 21، 2012 2:38 صبح
تھینک یو فاتح بھیا باقی واپس آکر پوچھتی ہوں ابھی کالج جانا ہے۔
ناعمہ عزیز — نومبر 21، 2012 3:18 صبح
بھئی اس سے کم مشکل ہوتی تو عائشہ کی مشکل پسندی کے معیار پر پوری نہ اتر سکتی۔ :laughing:
:chatterbox:
میرے تو سر کے اوپر سے گزر گئی نا ۔ میرے لئے آسان آسان لکھا کریں پھر مجھے سمجھ نہیں آتی :(
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 21، 2012 3:29 صبح
سبھی نہیں آئے بھیا
پوچھنا شروع کروں؟

:chatterbox:
میرے تو سر کے اوپر سے گزر گئی نا ۔ میرے لئے آسان آسان لکھا کریں پھر مجھے سمجھ نہیں آتی :(

یہ کیا فارسی میں لکھی ہے ہمیں تو کچھ سمجھ ہی نہیں آیا کہ ماجرہ کیا ہے :cautious:

عائشہ عزیز بٹیا، ناعمہ عزیز بٹیا اور عسکری بھائی ہم نے اردو شاعری کے پیجابی ترجمے کا ایک پروگرام شروع کردیا ہے۔سرِ دست غالب کی غزل کا ترجمہ کیا ہے۔ کہیے تو فاتح بھائی کی اس غزل پر بھی ہاتھ صاف کردیں اور اس کا پنجابی ترجمہ کردیں تاکہ سمجھ میں آجائے:)
ناعمہ عزیز — نومبر 21، 2012 3:36 صبح
عائشہ عزیز بٹیا، ناعمہ عزیز بٹیا اور عسکری بھائی ہم نے اردو شاعری کے پیجابی ترجمے کا ایک پروگرام شروع کردیا ہے۔سرِ دست غالب کی غزل کا ترجمہ کیا ہے۔ کہیے تو فاتح بھائی کی اس غزل پر بھی ہاتھ صاف کردیں اور اس کا پنجابی ترجمہ کردیں تاکہ سمجھ میں آجائے:)
متفققققققق :peacesign:
الف عین — نومبر 21، 2012 5:43 صبح
واہ، بہت خوب، کیا استادانہ کلام ہے۔ عزیزم فاتح، میں تو برقی کتاب کا خود ساختہ مشہور پبلشر ہوں، میری خدمات کب کام آئیں گی؟
عائشہ عزیز — نومبر 21، 2012 8:45 صبح
عائشہ عزیز بٹیا، ناعمہ عزیز بٹیا اور عسکری بھائی ہم نے اردو شاعری کے پیجابی ترجمے کا ایک پروگرام شروع کردیا ہے۔سرِ دست غالب کی غزل کا ترجمہ کیا ہے۔ کہیے تو فاتح بھائی کی اس غزل پر بھی ہاتھ صاف کردیں اور اس کا پنجابی ترجمہ کردیں تاکہ سمجھ میں آجائے:)
ٹھیک ہے چاچو:)
عائشہ عزیز — نومبر 21، 2012 8:47 صبح
دوسرا شعر:
ہم نے تو مَنّتوں کے بھی دھاگے بڑھا دیے
جا، عشق کے مزار پہ اب تُو جلا دیے
بھیا اس کا اوور آل مطلب سمجھ نہیں آرہا ہے۔
اور ہاں فاتح بھیا جب آپ یہ سارا مجھے بتا دیں گے ناں تو آپ کو انعام ملے گا ۔ :)
محمد بلال اعظم — نومبر 21، 2012 9:36 صبح
یہ کیا فارسی میں لکھی ہے ہمیں تو کچھ سمجھ ہی نہیں آیا کہ ماجرہ کیا ہے :cautious:

بقولِ فراز
سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ ماجرا کیا ہے
اسامہ جمشید — نومبر 21، 2012 10:22 صبح
كلمات مشكل هيں، غزل اچھي هے ، فاتح صاحب داد قبول كريں۔
لالہ رخ — نومبر 21، 2012 10:36 صبح
کہنے کی حد تک تو ٹھیک کہہ رہی ہیں لیکن عملی طور پر انتہائی مشکل ٹاسک ہے۔ :)
عملی طور پر ہر کام ہی مشکل ٹاسک لگتا ہے
نیرنگ خیال — نومبر 21، 2012 10:54 صبح
ہر سُو فقط ہوَس کی دکانیں تھیں کھُل رہی
یاروں نے کاروبارِ محبت بڑھا دیے
لاجواب
زبردست
بہت عمدہ
:zabardast1:
فاتح — نومبر 21، 2012 12:02 شام
ماشاء اللہ ۔۔۔ ۔!!! کوئی اور مثال نہیں ملی تھی کیا آپکو؟ ویسے اچھا ہے نا اس دوست نے آپکو ترکیب ہی بتا دی ۔۔آپکو تو شکرگزار ہونا چاہیے تھا اس دوست کا :battingeyelashes:
اس سے بہتر واقعی کوئی مثال نہیں ملی تھی کہ دونوں باتیں بے حد مشابہ تھیں۔ :laughing:
فاتح — نومبر 21، 2012 12:04 شام
:chatterbox:
میرے تو سر کے اوپر سے گزر گئی نا ۔ میرے لئے آسان آسان لکھا کریں پھر مجھے سمجھ نہیں آتی :(
اب مسئلہ یہ ہے کہ عائشہ کو مشکل پسند ہے اور ناعمہ کو آسان۔۔۔ کیا حل ہو سکتا ہے اس کا؟ ہممم ایک مصرع مشکل ایک آسان لکھا کرون گا آئندہ۔۔۔ ٹھیک ہے نا؟
پردیسی — نومبر 21، 2012 12:06 شام
واہ بہت خوب فاتح برادر ۔۔۔ ہر غزل خوب سے خوب تر ہے ۔ کیا خوب انداز بیاں ہے
فاتح — نومبر 21، 2012 12:07 شام
واہ، بہت خوب، کیا استادانہ کلام ہے۔ عزیزم فاتح، میں تو برقی کتاب کا خود ساختہ مشہور پبلشر ہوں، میری خدمات کب کام آئیں گی؟
اعجاز صاحب! آپ کی محبت اور پذیرائی پر ممنون ہوں۔
یہ مشورہ مقدس نے بھی دیا تھا بلکہ اس نے تو زبردستی ہم سے ہمارا سارا کلام بھی ہتھیا لیا ہے کہ اردو لائبریری میں شائع کیا جائے گا۔۔۔ اسے یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ شائع کرنے سے پہلے شاعر کے دنیائے فانی سے کوچ کرنے کا انتظار کر لو تو مجموعے کو زیادہ شہرت ملے گی۔ :laughing:
فاتح — نومبر 21، 2012 12:09 شام
دوسرا شعر:
ہم نے تو مَنّتوں کے بھی دھاگے بڑھا دیے
جا، عشق کے مزار پہ اب تُو جلا دیے
بھیا اس کا اوور آل مطلب سمجھ نہیں آرہا ہے۔
اور ہاں فاتح بھیا جب آپ یہ سارا مجھے بتا دیں گے ناں تو آپ کو انعام ملے گا ۔ :)
منتوں کے دھاگے باندھے جاتے ہیں، انھی کا ذکر ہے کہ ہم نے تو وہ بھی بڑھا دیے یعنی ترک کر دیے۔ اب تُو ہی جا اور عشق کے مزار پر دیے جلا۔
فاتح — نومبر 21، 2012 12:10 شام
كلمات مشكل هيں، غزل اچھي هے ، فاتح صاحب داد قبول كريں۔
بہت شکریہ۔ محبت ہے آپ کی۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D9%90-%D8%B4%D8%A7%D9%85-%D9%BE%D8%B1-%D9%86%DB%81-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%AD%D8%B4%D8%B1-%D8%AA%DA%A9-%D8%B3%D8%AD%D9%8E%D8%B1-%DB%94-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD-%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86-%D8%A8%D8%B4%DB%8C%D8%B1.56455/page-4