بازارِ شام پر نہ ہوئی حشر تک سحَر ۔ فاتح الدین بشیر

فاتح — نومبر 21، 2012 12:10 شام
عملی طور پر ہر کام ہی مشکل ٹاسک لگتا ہے
بجا ارشاد۔۔۔
10 حرفی جملے میں 3 مترادفات: عمل، کام اور ٹاسک :)
فاتح — نومبر 21، 2012 12:12 شام
واہ بہت خوب فاتح برادر ۔۔۔ ہر غزل خوب سے خوب تر ہے ۔ کیا خوب انداز بیاں ہے
بہت شکریہ برادرم۔۔۔ پذیرائی پر ممنون ہوں۔
فاتح — نومبر 21، 2012 12:13 شام
ہر سُو فقط ہوَس کی دکانیں تھیں کھُل رہی
یاروں نے کاروبارِ محبت بڑھا دیے
لاجواب
زبردست
بہت عمدہ
:zabardast1:
بہت شکریہ نیرنگ خیال صاحب۔۔۔ ممنون ہوں
ناعمہ عزیز — نومبر 21، 2012 1:01 شام
اب مسئلہ یہ ہے کہ عائشہ کو مشکل پسند ہے اور ناعمہ کو آسان۔۔۔ کیا حل ہو سکتا ہے اس کا؟ ہممم ایک مصرع مشکل ایک آسان لکھا کرون گا آئندہ۔۔۔ ٹھیک ہے نا؟
ہاں یہ ٹھیک ہے :tongue:
عائشہ عزیز — نومبر 21، 2012 3:52 شام
منتوں کے دھاگے باندھے جاتے ہیں، انھی کا ذکر ہے کہ ہم نے تو وہ بھی بڑھا دیے یعنی ترک کر دیے۔ اب تُو ہی جا اور عشق کے مزار پر دیے جلا۔
یہ تو مشکل ہے بھیا
فاتح — نومبر 21، 2012 4:03 شام
ترجمے کے ساتھ بھی؟
عائشہ عزیز — نومبر 21، 2012 4:04 شام
ترجمے کے ساتھ بھی؟
کانسیپٹ سمجھنا مشکل ہو رہا ہے ناں بھیا
آپ اس سے اگلا شعر سمجھائیے۔
قرطاسِ ابیض آج بھی شائع نہ ہو تو کیا
"ہم نے کتابِ زیست کے پرزے اُڑا دیے"
ویسے بھیا یہ والا شعر مجھے بہت مزے کا لگ رہا ہے۔ سچی میں!
فاتح — اپریل 14، 2013 7:47 شام
کانسیپٹ سمجھنا مشکل ہو رہا ہے ناں بھیا
آپ اس سے اگلا شعر سمجھائیے۔
قرطاسِ ابیض آج بھی شائع نہ ہو تو کیا
"ہم نے کتابِ زیست کے پرزے اُڑا دیے"
ویسے بھیا یہ والا شعر مجھے بہت مزے کا لگ رہا ہے۔ سچی میں!
قرطاس ابیض Whitepaper کسی بہت اہم واقعے یا مسئلے پر چھپتا ہے اور ہم نے کتاب زیست (زندگی) کے پرزے اڑا دیے یعنی زندگی ختم کر ڈالی۔۔۔ اگر یہ واقعہ بھی اس قدر اہم نہیں کہ اس پر وائٹ پیپر چھپے تو کیا
عائشہ عزیز — اپریل 15، 2013 7:42 صبح
فاتح بھیا
اگلا
بازارِ شام پر نہ ہوئی حشر تک سحَر
شمس النّہار نوکِ سناں پر سجا دیے
فاتح — اپریل 15، 2013 8:42 صبح
فاتح بھیا
اگلا
بازارِ شام پر نہ ہوئی حشر تک سحَر
شمس النّہار نوکِ سناں پر سجا دیے
اس میں تلمیح ہے یعنی اس تاریخی واقعے کی جانب اشارا ہے جب یزید کی فوج نے حضرت امام حسین ؓ اور ان کے اہلِ خانہ کو شہید کر کے ان کے سر تن سے جدا کر کے ان سروں کو نیزوں پر ٹانگ کر ملک شام کے بازار سے گزارا گیا تھا۔۔۔ اس سانحے نے شام کے بازار پر ایسی تاریک اور سیاہ رات طاری کر دی کہ قیامت تک سحر (صبح) نہیں ہو سکتی وہاں
شمس النہار: چمکتا سورج ۔ دن چڑھا دینے والا سورج (مراد حضرت امام حسینؓ اور اہلِ بیت)
نوکِ سناں: نیزے یا برچھی کی نوک
سید شہزاد ناصر — اپریل 15، 2013 9:34 صبح
ہماری وفات کے بعد دوست احباب ہی چھاپیں گے۔۔۔ ان شا اللہ
آپ کی یہ بات مجھے بہت بری لگی
کچھ اپنے پرستاروں کا خیال تو رکھیں
ہم تو آپ کی نگارشار کے انتظار میں رہتے ہیں
ٹھنڈی آہیں بھرتے ہیں
ظالم نہ مرتے ہیں نہ جیتے ہیں
اللہ آپ کے قلم کی روانی ہمیشہ قائم دائم رکھے
طویل حیاتی صحت و تندرستی دے آمین
پڑھ کر طبیت مکدر ہو گئی ہے
فلحال تبصرے سے معذور ہوں
پھر کبھی تبصرہ کروں گا
فاتح — اپریل 16، 2013 2:13 صبح
آپ کی یہ بات مجھے بہت بری لگی
کچھ اپنے پرستاروں کا خیال تو رکھیں
ہم تو آپ کی نگارشار کے انتظار میں رہتے ہیں
ٹھنڈی آہیں بھرتے ہیں
ظالم نہ مرتے ہیں نہ جیتے ہیں
اللہ آپ کے قلم کی روانی ہمیشہ قائم دائم رکھے
طویل حیاتی صحت و تندرستی دے آمین
پڑھ کر طبیت مکدر ہو گئی ہے
فلحال تبصرے سے معذور ہوں
پھر کبھی تبصرہ کروں گا
معذرت چاہتا ہوں اگر آپ کو برا لگا ہمارا یوں کہنا۔۔۔
دراصل قرۃالعین اعوان کو لکھے گئے اس جواب کا مقصد یہ کہنا تھا کہ مستقبل قریب و بعید میں کتاب کی اشاعت کا ارادہ فی الحال تو نہیں۔ :)
محمد بلال اعظم — اپریل 16، 2013 7:41 صبح
معذرت چاہتا ہوں اگر آپ کو برا لگا ہمارا یوں کہنا۔۔۔
دراصل قرۃالعین اعوان کو لکھے گئے اس جواب کا مقصد یہ کہنا تھا کہ مستقبل قریب و بعید میں کتاب کی اشاعت کا ارادہ فی الحال تو نہیں۔ :)
کیوں فاتح بھائی
مجھے تو لگتا ہے کہ میں آپ اور مغزل بھائی کی کتابوں کے انتظار میں بوڑھا ہو جاؤں گا:ROFLMAO:
فاتح — اپریل 16، 2013 8:13 صبح
کیوں فاتح بھائی
مجھے تو لگتا ہے کہ میں آپ اور مغزل بھائی کی کتابوں کے انتظار میں بوڑھا ہو جاؤں گا:ROFLMAO:
مغل بھائی کی تو اسی جنم کی جوانی میں دیکھ لو گے اور ہماری کتاب تمھیں اگلے جنم کی جوانی میں مل جائے گی ۔۔۔ :)
محمد بلال اعظم — اپریل 17، 2013 5:57 صبح
مغل بھائی کی تو اسی جنم کی جوانی میں دیکھ لو گے اور ہماری کتاب تمھیں اگلے جنم کی جوانی میں مل جائے گی ۔۔۔ :)
یا اللہ خیر
ہمارے شاہ صاحبان اپنی عجیب شاعری کی دھڑا دھڑ کتابیں چھاپ رہے ہیں اور وہ جو صحیح معنوں میں اقلیمِ سخن کے وارث ہیں، ان کا ارادہہی نہیں ہے کوئی:(
عائشہ عزیز — اپریل 17، 2013 7:40 صبح
اس میں تلمیح ہے یعنی اس تاریخی واقعے کی جانب اشارا ہے جب یزید کی فوج نے حضرت امام حسین ؓ اور ان کے اہلِ خانہ کو شہید کر کے ان کے سر تن سے جدا کر کے ان سروں کو نیزوں پر ٹانگ کر ملک شام کے بازار سے گزارا گیا تھا۔۔۔ اس سانحے نے شام کے بازار پر ایسی تاریک اور سیاہ رات طاری کر دی کہ قیامت تک سحر (صبح) نہیں ہو سکتی وہاں
شمس النہار: چمکتا سورج ۔ دن چڑھا دینے والا سورج (مراد حضرت امام حسینؓ اور اہلِ بیت)
نوکِ سناں: نیزے یا برچھی کی نوک
بہت مشکل بھیا
ویری گڈ! شاباش
آپ نے تو میرا سر فخر سے بلند کر دیا :)
عائشہ عزیز — اپریل 17، 2013 7:41 صبح
اور اب یہ والا شعر فاتح بھائی
تا، کشتگاں کی خاک اُڑا پائے، پائے ناز
شوقِ طلب کے کشتوں کے پشتے لگا دیے
محتشم سلمان — جون 2، 2013 6:38 صبح
جا عشق کے مزار پر اب تو جلا دیے
کیا کہنے! ردیف کا نہایت خوب صورت استعمال!
فاتح — جون 2، 2013 8:58 صبح
جا عشق کے مزار پر اب تو جلا دیے
کیا کہنے! ردیف کا نہایت خوب صورت استعمال!
بڑی محبت ہے۔ نوازش
محمد تابش صدیقی — جنوری 25، 2016 4:49 شام
ہر سُو فقط ہوَس کی دکانیں تھیں کھُل رہی
یاروں نے کاروبارِ محبت بڑھا دیے
کیا کہنے بھائی واہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D9%90-%D8%B4%D8%A7%D9%85-%D9%BE%D8%B1-%D9%86%DB%81-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%AD%D8%B4%D8%B1-%D8%AA%DA%A9-%D8%B3%D8%AD%D9%8E%D8%B1-%DB%94-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD-%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86-%D8%A8%D8%B4%DB%8C%D8%B1.56455/page-5