مہدی نقوی حجاز — اکتوبر 27، 2013 12:11 شام
ماہ قبل، اپنی ایک دوست، افزاؔ چنگیزی کے نام ایک نظم کی تھی۔ آپ احباب سے شریک کرتا ہوں۔ عنوان ہے، تم نہ رویا کرو۔
ہو جیسے چاند کے چہرے پہ چاندنی ٹھہری
رکے ہیں ویسے ہی آنسو تمہارے گالوں پر
ہمیشہ اشک تمہاری شرابی آنکھوں سے
جواب بن کے گرے ہیں مرے سوالوں پر
تمہارے دودھ سے زیادہ سفید چہرے پر
یہ آنسوؤں کے نگینے بڑے نمایاں ہیں
چمک ہے ان میں تمہارے تمام دردوں کی
اِنہیں میں صاف ہویدا تمہارے ارماں ہیں
تمہیں خبر ہے کہ روتی ہو تم تو ہلتے ہیں
تمام گنبد و مینار آسمانوں کے
تمہیں جو دیکھ لیں وہ کھلکھلا کے ہنستے ہوئے
تو کیوں نہ کانپ اٹھیں دل حسیں جوانوں کے
جو ہم سے یار لکھیں ہیں تمہاری قسمت میں
تو کیا لکیروں میں، ہاتھوں کی، کوئی غم ہوگا؟
حجازؔ ایک ہنسی پر تمہاری اے افزاؔ!
جو جاں نثار کرے گا تو وہ بھی کم ہوگا!
مہدی نقوی حجازؔ
عمر سیف — اکتوبر 27، 2013 12:20 شام
گُڈ ۔۔۔
حسان خان — اکتوبر 27، 2013 12:21 شام
تمہیں جو دیکھ لیں وہ کھلکھلا کے ہنستے ہوئے
تو کیوں نہ کانپ اٹھیں دل حسیں جوانوں کے
واہ حجاز صاحب!

مہدی نقوی حجاز — اکتوبر 27، 2013 12:21 شام
مہدی نقوی حجاز — اکتوبر 27، 2013 12:22 شام
تمہیں جو دیکھ لیں وہ کھلکھلا کے ہنستے ہوئے
تو کیوں نہ کانپ اٹھیں دل حسیں جوانوں کے
واہ حجاز صاحب!
آداب عرض ہیں حضور!
عمر سیف — اکتوبر 27، 2013 12:23 شام
ذاتی سوال یہاں کریں کہ ذاتی پیغامات میں ؟؟
مہدی نقوی حجاز — اکتوبر 27، 2013 12:24 شام
ذاتی سوال یہاں کریں کہ ذاتی پیغامات میں ؟؟
یہیں کر لیں حضور! ہماری ذات ہی کیا ہے!
حسان خان — اکتوبر 27، 2013 12:25 شام
اگر عنوان کو 'تم نہ رویا کرو' کی جگہ 'تم رویا نہ کرو' کر دیا جائے تو میری نظر میں مناسب ہے۔ کیا خیال ہے آپ کا؟
عمر سیف — اکتوبر 27، 2013 12:26 شام
یہیں کر لیں حضور! ہماری ذات ہی کیا ہے!
طبعیت ٹھیک ہے نا آپ کی ؟
مہدی نقوی حجاز — اکتوبر 27، 2013 12:27 شام
اگر عنوان کو 'تم نہ رویا کرو' کی جگہ 'تم رویا نہ کرو' کر دیا جائے تو میری نظر میں مناسب ہے۔ کیا خیال ہے آپ کا؟
یوں کوئی مذائقہ نہیں، لیکن "تم نہ رویا کرو" ایک منظوم جملہ ہے!
مہدی نقوی حجاز — اکتوبر 27، 2013 12:27 شام
حسان خان — اکتوبر 27، 2013 12:28 شام
یوں کوئی مذائقہ نہیں، لیکن "تم نہ رویا کرو" ایک منظوم جملہ ہے!
یہ نکتہ تو میرے ذہن میں آیا ہی نہیں تھا۔ شکریہ

عمر سیف — اکتوبر 27، 2013 12:28 شام
کاپی کر رہا ہوں ۔۔ کاپی رائٹ تو نہیں ؟؟
سید ذیشان — اکتوبر 27، 2013 12:40 شام
بہت خوب۔
محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 27، 2013 12:53 شام
واہ واہ واہ ۔۔۔ کیا بات ہے!
محمد علم اللہ — اکتوبر 27، 2013 1:42 شام
ائےہے کیا نظم کہی ہے مہدی بھائی آپ نے
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔
محمد یعقوب آسی — اکتوبر 27، 2013 2:09 شام
اچھی نظم کہی ہے صاحب ۔۔
ایک جگہ لفظ ’’زیادہ‘‘ کی بندش درست نہیں۔ اور یہ ایک مصرع مجھ پر نہیں کھلا
جو ہم سے یار لکھیں ہیں تمہاری قسمت میں
بہر حال عمدہ ہے۔
سید عاطف علی — اکتوبر 27، 2013 2:41 شام
اچھی نظم کہی ہے صاحب ۔۔
ایک جگہ لفظ ’’زیادہ‘‘ کی بندش درست نہیں۔ اور یہ ایک مصرع مجھ پر نہیں کھلا
بہر حال عمدہ ہے۔
زیادہ کی بندش میے خیال میں درست ہے( مطلب جائز حد میں ہے) ۔ تاہم بہتر وہی ہے جس کی جانب پیش نظر مراسلے میں آسی صاحب نے اشارہ فرمایا ہے ۔اس وجہ سےبھی کہ اسے آسانی سے باندھا یا ترتیب دیا جاسکتا ہے۔
دواسرا مصرع جو کتابت کی وجہ سے معنوی نوعیت کی تعقید پیدا کر رہا ہے وہ شاید لکھیں ہیں کو لکھےہیں (بمعنی لکھے گئے ہیں -مجہولہ ترکیب) کرنے سے ذرا کم ہو جاتی ہے ۔ لیکن بہتر ہو گا کہ بقیہ اشعار کی طرح ۔کسی احسن ترتیب سے کہہ لیا جائے۔
لیکن داد اپنی جگہ۔مہدی بھائی کو۔
ماہی احمد — اکتوبر 27، 2013 3:46 شام
بہت عمدہ لکھا

قسمت والی دوست ہے

مہدی نقوی حجاز — اکتوبر 27، 2013 4:00 شام
کاپی کر رہا ہوں ۔۔ کاپی رائٹ تو نہیں ؟؟
جی بالکل کوئی کاپی رائٹ نہیں۔ بصد شوق!