تَوَلّا
(نظم) صِدّیقؓ کا جو عشق ہےصِدّیق ہی تو ہے کرتا ہے مُہر ثبت بر ایمانِ قلب و جاں فاروقؓ کا جو عشق ہے فاروق ہی تو ہے رکھتا ہے فرق مومن و کافر کے درمیاں عثمانؓ ہیں غنی سو غنی ان کا عشق بھی از نطقِ بد زبان و ز ہر ظنِّ بدگماں ہے عشقِ مرتضیٰؓ میں بھی اک شانِ مرتضیٰ جن سے خدا خفا ہو یہ ان کے کنے کہاں حُبِّ علیؓ بریست ز بغضِ معاویہؓ فردوس دور است ز ماحولِ ہاویہ
محمد عبدالرؤوف — فروری 28، 2021 8:43 صبح
بہت خوب یاسر بھائی فارسی مصرعوں کا ترجمہ بھی عنایت فرما دیجیے
محمد احسن سمیع راحلؔ — فروری 28، 2021 9:25 صبح
اللہ اکبر!!! آہا ۔۔۔ کیا زبردست کہا ہے ۔۔۔۔ خدا کی قسم پڑھ کر مزا آگیا ۔۔۔ بہت سی داد
یعنی
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبّت غنی ہے بدگمانی اور بدزبانی سے کہ جو ان کے سچے عاشق ہیں وہ انھیں چاہتے رہیں گے -اور اس حدیث پہ عمل کرتے رہیں گے - عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: "إِذا رَأَيْتُمْ الَّذِينَ يَسُبُّونَ أَصْحَابِي فَقُولُوا: لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى شركم ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب تم ان کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا کہتے ہیں ۱؎ تو کہو کہ تمہارے شر پر اللہ کی پھٹکار۲؎ (ترمذی)
(بحوالہ : ابن عمر ؓ: مشکوة شریف ج2فصل ثالث،باب مناقب الصحابہؓ)
بھائی جزاک الله خیر -یہ فارسی تو تکّے میں موزوں ہوگئی -سارا کھیل است اور از /ز کا ہے ایک کا مطلب <ہے> اور دوجے کا مطلب< سے> یعنی
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبّت غنی ہے بدگمانی اور بدزبانی سے کہ جو ان کے سچے عاشق ہیں وہ انھیں چاہتے رہیں گے -اور اس حدیث پہ عمل کرتے رہیں گے - عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: "إِذا رَأَيْتُمْ الَّذِينَ يَسُبُّونَ أَصْحَابِي فَقُولُوا: لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى شركم ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب تم ان کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا کہتے ہیں ۱؎ تو کہو کہ تمہارے شر پر اللہ کی پھٹکار۲؎ (ترمذی)
(بحوالہ : ابن عمر ؓ: مشکوة شریف ج2فصل ثالث،باب مناقب الصحابہؓ) یعنی جس طرح فردوس ہاویہ سے دور ہے، حب علی بغض معاویہ سے دور ہے-
سبحان اللہ!
سبحان اللہ!
سبحان اللہ!
اس قدر پیاری!!
اتنی دلکش!
اللہ اکبر! اللہ اکبر!
لطف آ گیا۔
کیا کہنے!
اللہ نے آپ کے دل میں کتنے پیارے اشعار اتارے۔ کتنے خوبصورت لفظ ودیعت کیے۔ ماشاءاللہ اور الحمدللہ۔
اللہ آپ پہ ہمیشہ مہربان رہے۔ آپ کو اپنے پیارے بندوں میں شامل رکھے۔ پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے پیارے امتیوں میں شامل کرے۔ آمین!
ثم آمین!
جاسمن — جولائی 29، 2021 4:23 شام
اپنے بچوں کو بھی سنائی ہے۔
اگر آپ اس پوری نظم کو سلیس اردو میں بیان کر دیں تو بچوں کا بھلا ہو گا۔
ہمارا بھی
ظہیراحمدظہیر — جولائی 30، 2021 4:42 صبح
بہت خوب ! اچھے اشعار ہیں یاسر بھائی ! اللہ ان محبتوں کو سب کا جزوِ ایمان بنائے !
یہ عقیدت و محبت میں ڈوبے ہوئے سخن ہیں سو تکنیکی و فنیتجزیے و تبصرے سے بالاتر ہیں ۔ لیکن چوتھے شعر میں"کنے" کا متروک لفظ منقبت کو اس طرح ماند کررہا ہے کہ کہے بغیر چارہ نہیں ۔ فارسی الفاظ کے پس منظر میں اس کی غرابت کچھ اور بھی نمایاں ہورہی ہے ۔ "جن سے خدا خفا ہو یہ ان کے کنے کہاں" اس مصرع کو دوبارہ کہنے میں ہرج نہیں ۔ پڑھ کر فوراً جو متبادل ذہن میں آیا وہ یہ ہے: جن سے خدا خفا ہو میسر انہیں کہاں ۔ یہ میری ناقص رائے ہے آپ یقیناً اس سےبہتر متبادل لاسکتے ہیں ۔
سبحان اللہ!
سبحان اللہ!
سبحان اللہ!
اس قدر پیاری!!
اتنی دلکش!
اللہ اکبر! اللہ اکبر!
لطف آ گیا۔
کیا کہنے!
اللہ نے آپ کے دل میں کتنے پیارے اشعار اتارے۔ کتنے خوبصورت لفظ ودیعت کیے۔ ماشاءاللہ اور الحمدللہ۔
آمین جزاک اللہ خیر۔یہ دعائیں اللہ پاک آپ کے بھی حق میں قبول فرمائے آمین اور اللہ جل جلالہ آپ کی تمام مشکلات حل فرماتا رہے ۔صحت و عافیت سکون چین اور اپنا خاص قرب عطا فرمائے۔آمین۔
صِدّیقؓ کا جو عشق ہےصِدّیق ہی تو ہے
کرتا ہے مُہر ثبت بر ایمانِ قلب و جاں سلیس اردو:صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا عشق بھی صدیق یعنی تصدیق کرنے والا ہے ۔جس کو یہ عشق حاصل ہے گویا اس کے اندرونی (قلبی)ایمان پہ اسٹیمپ لگ چکی ۔ فاروقؓ کا جو عشق ہے فاروق ہی تو ہے
رکھتا ہے فرق مومن و کافر کے درمیاں سلیس اردو:فاروق رضی اللہ عنہ کا عشق بھی فاروق یعنی فرق کرنے والا ہے مومن و کافر کے درمیان۔ مراد یہ کہ یہ عشق مومن حقیقی کو ہی حاصل ہے۔کافر کے دل میں یہ عشق ٹھہر ہی نہیں سکتا۔ عثمانؓ ہیں غنی سو غنی ان کا عشق بھی
از نطقِ بد زبان و ز ہر ظنِّ بدگماں سلیس اردو:عثمان غنی رضی اللہ غنی کا عشق بھی غنی ہے یعنی جس کو یہ عشق حاصل ہے اس کو پروا نہیں بدگمانوں کی بدگمانی کی اور بدزبانوں کی بدزبانی کی۔ ہے عشقِ مرتضیٰؓ میں بھی اک شانِ مرتضیٰ
جن سے خدا خفا ہو یہ ان کے کنے کہاں سلیس اردو:حضرت علی رضی اللہ عنہ چونکہ مرتضی ہیں مرتضی کا مطلب ہے جن سے اللہ جل جلا لہ راضی ہو گیا سو ان کے عشق میں بھی یہی شان ہے۔ انھیں ہی حاصل ہے جن سے اللہ جل جلالہ راضی ہو گیا۔جن سے اللہ پاک ناراض ہے ان کو یہ حاصل ہی نہیں ہوتا ۔ حُبِّ علیؓ بریست ز بغضِ معاویہؓ
فردوس دور است ز ماحولِ ہاویہ سلیس اردو: علی رضی اللہ تعالی عنہ کی محبت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بغض سے ایسے ہی بری اور دور ہے جیسے جنت کا اعلی مقام فردوس دوزخ کے پست درجے ہاویہ سے دور ہے۔
بہت خوب ! اچھے اشعار ہیں یاسر بھائی ! اللہ ان محبتوں کو سب کا جزوِ ایمان بنائے !
یہ عقیدت و محبت میں ڈوبے ہوئے سخن ہیں سو تکنیکی و فنیتجزیے و تبصرے سے بالاتر ہیں ۔ لیکن چوتھے شعر میں"کنے" کا متروک لفظ منقبت کو اس طرح ماند کررہا ہے کہ کہے بغیر چارہ نہیں ۔ فارسی الفاظ کے پس منظر میں اس کی غرابت کچھ اور بھی نمایاں ہورہی ہے ۔ "جن سے خدا خفا ہو یہ ان کے کنے کہاں" اس مصرع کو دوبارہ کہنے میں ہرج نہیں ۔ پڑھ کر فوراً جو متبادل ذہن میں آیا وہ یہ ہے: جن سے خدا خفا ہو میسر انہیں کہاں ۔ یہ میری ناقص رائے ہے آپ یقیناً اس سےبہتر متبادل لاسکتے ہیں ۔
ظہیر بھائی جزاک اللہ خیر ۔آپ کی رائے میرے لیے معتبر ہے۔ممنون ہوں۔
تجویز عمدہ ہے اور آپ کا مجوزہ مصرع بھی زیادہ اچھا ہے میرے مصرع سے، مگر یہ نظم ایک خاص کیفیت اور خاص حالات میں لکھی تھی اس لیے جان بوجھ کر "ان کے کنے کہاں " کی ترکیب کا انتخاب کر کے تلخ ہونا چاہا ہے جس تلخی کا اختتام آخری شعر پہ آ کر ہوتا ہے لہذا مصرع تبدیل کرنے سے اورجنیلیٹی نہیں رہتی۔ اللہ جل جلا لہ آپ کو صحت و عافیت سے رکھے۔آمین
تَوَلّا
(نظم) صِدّیقؓ کا جو عشق ہےصِدّیق ہی تو ہے کرتا ہے مُہر ثبت بر ایمانِ قلب و جاں فاروقؓ کا جو عشق ہے فاروق ہی تو ہے رکھتا ہے فرق مومن و کافر کے درمیاں عثمانؓ ہیں غنی سو غنی ان کا عشق بھی از نطقِ بد زبان و ز ہر ظنِّ بدگماں ہے عشقِ مرتضیٰؓ میں بھی اک شانِ مرتضیٰ جن سے خدا خفا ہو یہ ان کے کنے کہاں حُبِّ علیؓ بریست ز بغضِ معاویہؓ فردوس دور است ز ماحولِ ہاویہ