تکلف برطرف ہوگا خطاب آہستہ آہستہ

امجد علی راجا — جنوری 7، 2013 12:24 شام
تکلف برطرف ہوگا خطاب آہستہ آہستہ
اُٹھے گا ان کے چہرے سے نقاب آہستہ آہستہ
ہمیں مدہوش کردے گا شباب آہستہ آہستہ
دِکھاتی ہے اثر اپنا شراب آہستہ آہستہ
نہیں اب تاب اِس دل میں کوئی بھی درد سہنے کی
ستم صد شوق سے لیکن جناب آہستہ آہستہ
تکلف ہے، حیا ہے، یا مرے دلبر کی عادت ہے
نگاہیں ہیں زمیں پر اور خطاب آہستہ آہستہ
ہوئی محتاط سے انداز میں یوں گفتگو اپنی
سوال آہستہ آہستہ جواب آہستہ آہستہ
غضب یہ ہے کہ ہر سطرِ ورق میں نام اس کا ہے
لگی کھُلنے غمِ دل کی کتاب آہستہ آہستہ
جسے اہلِ چمن شبنم سمجھتے ہیں، حقیقت میں
غمِ راجا پہ روتے ہیں گلاب آہستہ آہستہ
محمد حفیظ الرحمٰن — جنوری 8، 2013 6:01 صبح
جناب امجد علی راجا صاحب۔ بہت اچھی غزل ہے۔ سلاست اور روانی نے بہت متاثر کیا۔ داد قبول کیجیے۔
امجد علی راجا — جنوری 8، 2013 12:18 شام
محمد حفیظ الرحمن صاحب داد کے لئے شکریہ
امر شہزاد — جنوری 12، 2013 5:38 شام
جسے اہلِ چمن شبنم سمجھتے ہیں، حقیقت میں
غمِ راجا پہ روتے ہیں گلاب آہستہ آہستہ
واہ
واہ
امر شہزاد — جنوری 13، 2013 12:58 شام
ہوئی محتاط سے انداز میں یوں گفتگو اپنی
سوال آہستہ آہستہ جواب آہستہ آہستہ
واہ
ایک شعر یاد آیا
سوال وصل پر ان کو عدو کا خوف ہے اتنا
دبے ہونٹوں سے دیتے ہیں جواب آہستہ آہستہ
امجد علی راجا — جنوری 15، 2013 6:05 صبح
امر شہزاد صاحب، اشعار کو پسند کرنے کا شکریہ
امجد علی راجا — اپریل 1، 2013 11:18 صبح
اس غزل میں آپ دوستوں کو ٹیگ کرنا رہ گیا تھا، معذرت قبول فرمائیں۔
محمد یعقوب آسیامجد میانداد باباجی ذوالقرنین سید زبیر سید شہزاد ناصر شوکت پرویز شیزان عمراعظم متلاشی محسن وقار علی محمد اسامہ سَرسَری محمد بلال اعظم محمد خلیل الرحمٰن محمد احمد مزمل شیخ بسمل مقدس مہ جبین نایاب نیرنگ خیال نیلم یوسف-2 محمد وارث افلاطون فارقلیط رحمانی شہزاد احمد عینی شاہ نگار ف ساجد
شمشاد — اپریل 1، 2013 11:20 صبح
جب ردیف ہی آہستہ آہستہ ہے تو اطلاع بھی تو آہستہ آہستہ ہی ملے گی ناں۔
بہت داد قبول فرمائیں۔
سید شہزاد ناصر — اپریل 1، 2013 11:22 صبح
ذرا غزل کا لطف لینے دو :)
تبصرہ بعد میں کروں گا
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 1، 2013 11:38 صبح
ارے کیا خوب لکھی ہے غزل امجد علی راجا
بڑھا جاتا ہے دل کا اضطراب آہستہ آہستہ
امجد علی راجا — اپریل 1، 2013 12:12 شام
جب ردیف ہی آہستہ آہستہ ہے تو اطلاع بھی تو آہستہ آہستہ ہی ملے گی ناں۔
بہت داد قبول فرمائیں۔
داد عنایت کرنے کے لئے شکریہ شمشاد بھیا!
اطلاع آہستہ آہستہ پہنچی مگر پہنچ تو گئی۔ دیر آمد، درست آمد :)
امجد علی راجا — اپریل 1، 2013 12:14 شام
ذرا غزل کا لطف لینے دو :)
تبصرہ بعد میں کروں گا
لیجئے لیجئے، بھرپور لطف لیجئے، جتنا آپ لطف لیں گے اتنا ہی مزیدار تبصرہ ہوگا۔ :laughing3:
امجد علی راجا — اپریل 1، 2013 12:17 شام
ارے کیا خوب لکھی ہے غزل امجد علی راجا
بڑھا جاتا ہے دل کا اضطراب آہستہ آہستہ
بہت خوب اسامہ بھیا​
اگر ملتی رہی ہم کو مسلسل داد یاروں کی
مکمل ہو ہی جائے گی کتاب آہستہ آہستہ
محمد یعقوب آسی — اپریل 1، 2013 12:18 شام
اس پر کسی قدر تفصیل سے بات ہو گی، جناب امجد علی راجا ۔۔ ابھی ذرا توقف کہ کچھ اور کام نمٹانے ہیں۔
امجد علی راجا — اپریل 1، 2013 12:20 شام
اس پر کسی قدر تفصیل سے بات ہو گی، جناب امجد علی راجا ۔۔ ابھی ذرا توقف کہ کچھ اور کام نمٹانے ہیں۔

زہے نصیب! استادِ محترم
ہمارے کان کھینچیں یا ہمیں مرغا بنا ڈالیں
کرم جیسا بھی ہو، کرنا جناب آہستہ آہستہ
محمد یعقوب آسی — اپریل 1، 2013 12:24 شام
بلا تمہید ۔۔۔۔۔۔
تکلف برطرف ہوگا خطاب آہستہ آہستہ​
اُٹھے گا ان کے چہرے سے نقاب آہستہ آہستہ​

پوری غزل کے تناظر میں مطلع کمزور ہے، خاص طور پر پہلا مصرع۔ بجا کہ اس انداز کی ردیفوں میں مطلع کہنا واقعی مشکل ہوتا ہے، تاہم مطلع کو حقیقی معانی میں مطلع (اٹھان) کا کام کرنا چاہئے، نہ کہ ۔۔۔۔۔
آگے چلتے ہیں۔
محمد یعقوب آسی — اپریل 1، 2013 12:25 شام
ہمیں مدہوش کردے گا شباب آہستہ آہستہ​
دِکھاتی ہے اثر اپنا شراب آہستہ آہستہ​

مناسب ہے۔
محمد یعقوب آسی — اپریل 1، 2013 12:26 شام
نہیں اب تاب اِس دل میں کوئی بھی درد سہنے کی​
ستم صد شوق سے لیکن جناب آہستہ آہستہ​

یہاں ’’کوئی بھی‘‘ کی جگہ لفظ ’’مسلسل‘‘ رکھ کر دیکھئے۔ اچھا لگے تو دعا دیجئے گا، نہ لگے تو بھی دعا دیجئے گا۔
محمد یعقوب آسی — اپریل 1، 2013 12:26 شام
تکلف ہے، حیا ہے، یا مرے دلبر کی عادت ہے​
نگاہیں ہیں زمیں پر اور خطاب آہستہ آہستہ​

ہوئی محتاط سے انداز میں یوں گفتگو اپنی​
سوال آہستہ آہستہ جواب آہستہ آہستہ​

دونوں شعر عمدہ ہیں۔
محمد یعقوب آسی — اپریل 1، 2013 12:28 شام
غضب یہ ہے کہ ہر سطرِ ورق میں نام اس کا ہے​
لگی کھُلنے غمِ دل کی کتاب آہستہ آہستہ​

اس کو غلطی یا خامی کا نام تو نہیں دیا جا سکتا، تاہم ’’ہر سطرِ ورق‘‘ وہ جسے کہتے ہیں حلق سے نہیں اتر رہا۔ اس میں لطافت اور ملائمت لا سکیں تو بہت خوبصورت شعر بنے گا۔
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%DA%A9%D9%84%D9%81-%D8%A8%D8%B1%D8%B7%D8%B1%D9%81-%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7-%D8%AE%D8%B7%D8%A7%D8%A8-%D8%A2%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%81-%D8%A2%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%81.58414/