عادتاً وحشتوں میں جیتا ہوں ۔ فاتح الدین بشیر

فاتح — نومبر 24، 2012 7:08 شام
خاکسار کے متعلق ایک دھاگے میں سارہ خان نے اپنے تبصرے میں لکھا تھا کہ یہ غزل فاتح بھائی نے مکمل نہیں پڑھوائی۔۔۔ لہٰذا اسے یہاں ارسال کر رہا ہوں۔​
عادتاً وحشتوں میں جیتا ہوں
یاد کی تُربتوں میں جیتا ہوں
میں غریب الوطن، غریب مزاج
کیا عجب غربتوں میں جیتا ہوں
بھولنا تجھ کو میرے بس میں نہیں
کہنے کو جرّاتوں میں جیتا ہوں
شام کنجِ قفس میں، صبح بہ دار
جبر کی ہجرتوں میں جیتا ہوں
جان کر تیرے نقشِ پا منزل
خاک ہوں، راستوں میں جیتا ہوں
ضربِ نفیِ وجود و عشق ہوں میں
گویا میں مثبتوں میں جیتا ہوں
کھینچے جاتا ہوں میں عدم کا وجود
عارضی حالتوں میں جیتا ہوں
موت ہے انتہائے ہجر مگر
جینے کی ذلّتوں میں جیتا ہوں​
فاتح الدین بشیرؔ​
سارہ خان — نومبر 24، 2012 7:14 شام
بہت ہی زبردست ۔۔۔۔۔۔۔ :applause::applause:
شام کنجِ قفس میں، صبح بہ دار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ مصرعہ سر سے گذر گیا ۔۔ :roll:
عسکری — نومبر 24، 2012 7:14 شام
جب بھی شام ہوتی ہے
جی بھر کے پیتا ہوں
کیا کروں جان چھوڑتی نہیں
اس لیے مر مر کے جیتا ہوں
فاتح — نومبر 24، 2012 7:29 شام
بہت ہی زبردست ۔۔۔ ۔۔۔ ۔ :applause::applause:
شام کنجِ قفس میں، صبح بہ دار ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ یہ مصرعہ سر سے گذر گیا ۔۔ :roll:
کُنجِ قفس: قفس یا قید کا گوشہ یا کونا
بہ دار: پھانسی پر
قرۃالعین اعوان — نومبر 24، 2012 7:40 شام
جان کر تیرے نقشِ پا منزل
خاک ہوں، راستوں میں جیتا ہوں
بہت اعلی!
عمدہ!
محمد امین — نومبر 24، 2012 7:46 شام
بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔ فاتح بھائی ہر شعر بہت خوبصورت ہے۔ ڈھیر ساری داد قبول کیجیے۔ پہلے بھی کہیں پڑھی تھی یہ :) شاید یہاں یا فیس بک پر۔۔۔
فاتح — نومبر 24، 2012 7:52 شام
جان کر تیرے نقشِ پا منزل
خاک ہوں، راستوں میں جیتا ہوں
بہت اعلی!
عمدہ!
بہت شکریہ۔ ممنون ہوں۔
فاتح — نومبر 24، 2012 7:52 شام
بہت خوب۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ فاتح بھائی ہر شعر بہت خوبصورت ہے۔ ڈھیر ساری داد قبول کیجیے۔ پہلے بھی کہیں پڑھی تھی یہ :) شاید یہاں یا فیس بک پر۔۔۔
جی امین بھائی۔۔۔ شاید فیس بک پر پڑھی ہو
طارق شاہ — نومبر 24، 2012 7:52 شام
میں غریب الوطن، غریب مزاج
کیا عجب غربتوں میں جیتا ہوں
کیا کہنے صاحب!
فاتح — نومبر 24، 2012 7:54 شام
میں غریب الوطن، غریب مزاج
کیا عجب غربتوں میں جیتا ہوں
کیا کہنے صاحب!
آپ کی محبت ہے جناب
باباجی — نومبر 24، 2012 8:08 شام
فاتح بھائی
کمال کردیا
آئی ایم سپیچ لیس
شام کنجِ قفس میں، صبح بہ دار
جبر کی ہجرتوں میں جیتا ہوں
جان کر تیرے نقشِ پا منزل
خاک ہوں، راستوں میں جیتا ہوں
ضربِ نفیِ وجود و عشق ہوں میں
گویا میں مثبتوں میں جیتا ہوں
موت ہے انتہائے ہجر مگر
جینے کی ذلّتوں میں جیتا ہوں
کمال کمال
آپ کی اجازت ہو تو میں اسے اپنے دوستوں کو ایس ایم ایس کر سکتا ہوں ؟؟؟
مدیحہ گیلانی — نومبر 24، 2012 8:12 شام
لاجواب غزل ہے فاتح صاحب، سبھی اشعار بہت اچھے ہیں۔
ضربِ نفیِ وجود و عشق ہوں میں
گویا میں مثبتوں میں جیتا ہوں ۔
کیا کہنے۔ بہت خوب۔ بہت داد قبول کیجیئے ۔
لگتا ہے قبل مسیح کی سبھی غزلیں پڑھنے کو ملنے والی ہیں ۔اللہ بھلا کرے آپکا :)
فاتح — نومبر 24، 2012 8:14 شام
فاتح بھائی
کمال کردیا
آئی ایم سپیچ لیس
شام کنجِ قفس میں، صبح بہ دار
جبر کی ہجرتوں میں جیتا ہوں
جان کر تیرے نقشِ پا منزل
خاک ہوں، راستوں میں جیتا ہوں
ضربِ نفیِ وجود و عشق ہوں میں
گویا میں مثبتوں میں جیتا ہوں
موت ہے انتہائے ہجر مگر
جینے کی ذلّتوں میں جیتا ہوں
کمال کمال
آپ کی اجازت ہو تو میں اسے اپنے دوستوں کو ایس ایم ایس کر سکتا ہوں ؟؟؟
اس درجہ پذیرائی اور محبت پر ممنون ہوں۔
فاتح — نومبر 24، 2012 8:15 شام
لاجواب غزل ہے فاتح صاحب، سبھی اشعار بہت اچھے ہیں۔ضربِ نفیِ وجود و عشق ہوں میں
گویا میں مثبتوں میں جیتا ہوں ۔
کیا کہنے۔ بہت خوب۔ بہت داد قبول کیجیئے ۔
لگتا ہے قبل مسیح کی سبھی غزلیں پڑھنے کو ملنے والی ہیں ۔اللہ بھلا کرے آپکا :)
بہت شکریہ مدیحہ صاحبہ۔
جی بالکل! ان دنوں پرانی غزلیں نکل رہی ہیں۔۔۔ :)
باباجی — نومبر 24، 2012 8:17 شام
اس درجہ پذیرائی اور محبت پر ممنون ہوں۔
آپ سے کچھ اجازت بھی مانگی ہے :)
فاتح — نومبر 24، 2012 8:27 شام
آپ سے کچھ اجازت بھی مانگی ہے :)
ارے بھائی اس میں اجازت کیسی۔۔۔ یہ تو اعزاز ہے ہمارے لیے۔ :)
مقدس — نومبر 24، 2012 8:42 شام
ارے فاتح بھائی میری لکھی غزل پر اپنا نام لکھ دیا آپ نے
ذرا گھر آنے دیں مجھے
ٹھیک کرتی ہوں آپ کو
فاتح — نومبر 24، 2012 10:01 شام
ارے فاتح بھائی میری لکھی غزل پر اپنا نام لکھ دیا آپ نے
ذرا گھر آنے دیں مجھے
ٹھیک کرتی ہوں آپ کو
تم مدیرنِ عالیہ کس لیے ہو؟ اس کا فائدہ اٹھاؤ اور نام پتے تبدیل کر دو۔۔۔ ہاہاہا
مقدس — نومبر 24، 2012 10:54 شام
تم مدیرنِ عالیہ کس لیے ہو؟ اس کا فائدہ اٹھاؤ اور نام پتے تبدیل کر دو۔۔۔ ہاہاہا
جی نہیں۔۔ اب آپ کی شامت آئے گی بس
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 25، 2012 4:03 صبح
میں غریب الوطن، غریب مزاج​
کیا عجب غربتوں میں جیتا ہوں​
شام کنجِ قفس میں، صبح بہ دار​
جبر کی ہجرتوں میں جیتا ہوں​
کھینچے جاتا ہوں میں عدم کا وجود​
عارضی حالتوں میں جیتا ہوں​
بہت خوبصورت غزل جناب فاتح بھائی، بہت داد قبول فرمائیے۔
واہ کیا بات ہے
کھینچے جاتا ہوں میں عدم کا وجود​
عارضی حالتوں میں جیتا ہوں​
صفحات: 1 2 3 4

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%A7%D8%AF%D8%AA%D8%A7%D9%8B-%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AC%DB%8C%D8%AA%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA-%DB%94-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD-%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86-%D8%A8%D8%B4%DB%8C%D8%B1.56597/