عادتاً وحشتوں میں جیتا ہوں ۔ فاتح الدین بشیر

صائمہ شاہ — جنوری 25، 2013 3:12 شام
یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ جی رہے ہیں
ذرا یہ بھی بتا دیجیے کہ آج کل کہاں جیے جا رہے ہیں ؟:grin:
فاتح — جنوری 25، 2013 3:13 شام
یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ جی رہے ہیں
ذرا یہ بھی بتا دیجیے کہ آج کل کہاں جیے جا رہے ہیں ؟:grin:
غزالاں تم تو واقف ہو۔۔۔ہاہاہا
نیرنگ خیال — اپریل 14، 2013 5:38 صبح
واہ فاتح بھائی کیا کہنے۔۔۔ بہت لاجواب بہت عمدہ۔۔۔ زبردست۔۔۔ میری طرف سے بہت ساری داد اس خوبصورت غزل کے لیے :notworthy:
میں غریب الوطن، غریب مزاج
کیا عجب غربتوں میں جیتا ہوں
بھولنا تجھ کو میرے بس میں نہیں
کہنے کو جرّاتوں میں جیتا ہوں
فاتح — اپریل 14، 2013 7:44 شام
واہ فاتح بھائی کیا کہنے۔۔۔ بہت لاجواب بہت عمدہ۔۔۔ زبردست۔۔۔ میری طرف سے بہت ساری داد اس خوبصورت غزل کے لیے :notworthy:
میں غریب الوطن، غریب مزاج
کیا عجب غربتوں میں جیتا ہوں
بھولنا تجھ کو میرے بس میں نہیں
کہنے کو جرّاتوں میں جیتا ہوں
ممنون ہوں آپ کی محبتوں پر
پردیسی — اپریل 14، 2013 7:49 شام
موت ہے انتہائے ہجر مگر
جینے کی ذلّتوں میں جیتا ہوں
کیا خوب غزل ہے۔۔۔بہت خوب فاتح برادر
فاتح — اپریل 14، 2013 8:08 شام
موت ہے انتہائے ہجر مگر
جینے کی ذلّتوں میں جیتا ہوں
کیا خوب غزل ہے۔۔۔ بہت خوب فاتح برادر
برادرم، آپ کی محبت ہے۔
نیرنگ خیال — اپریل 15، 2013 6:28 صبح
ممنون ہوں آپ کی محبتوں پر
:) :)
سید شہزاد ناصر — مئی 25، 2013 11:57 صبح
کیا ندرتِ خیال ہے
واہ واہ لطف آ گیا پڑھ کر یہ شعر تو کمال کا ہے
شام کنجِ قفس میں، صبح بہ دار
جبر کی ہجرتوں میں جیتا ہوں
سنا ہے منٹو مرزا غالب سے بڑی محبت کرتے تھے
اور فرط محبت سے انہیں گالیاں دیا کرتے تھے
آپ کا کلام پڑھتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ کیا ہم بھی محبت کے اس درجے پر فائز ہو سکیں گے
اسی طرح لکھتے رہیں اور ہمیں نوازتے رہیں
اللہ کرے زور قلم زیادہ
فاتح — مئی 25، 2013 12:39 شام
کیا ندرتِ خیال ہے
واہ واہ لطف آ گیا پڑھ کر یہ شعر تو کمال کا ہے
شام کنجِ قفس میں، صبح بہ دار
جبر کی ہجرتوں میں جیتا ہوں
سنا ہے منٹو مرزا غالب سے بڑی محبت کرتے تھے
اور فرط محبت سے انہیں گالیاں دیا کرتے تھے
آپ کا کلام پڑھتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ کیا ہم بھی محبت کے اس درجے پر فائز ہو سکیں گے
اسی طرح لکھتے رہیں اور ہمیں نوازتے رہیں
اللہ کرے زور قلم زیادہ
آپ کی بے پناہ محبتوں پر سر تا پا ممنون ہوں
ریختہ — فروری 27، 2014 11:57 صبح
آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
فاتح — فروری 27، 2014 12:07 شام
آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
یہ کون ہے کہ جس کے دل میں ہماری اس قدر محبت جاگی ہے کہ آج ہی اکاؤنٹ بنایا اور ایک ہی مراسلہ لکھا وہ بھی ہماری غزل پر اور اس میں اپنی کتھا لکھ ماری۔۔۔ ویسے اپنے تعارف کے لیے الگ زمرہ موجود ہے۔ ;)
الف عین — فروری 28، 2014 2:42 صبح
ماشاء اللہ، غزل کی داد نہ دینا تو بہت بڑا ظلم ہو گا، شرک سے ایک درجہ ہی کم
فاتح — فروری 28، 2014 7:17 صبح
ماشاء اللہ، غزل کی داد نہ دینا تو بہت بڑا ظلم ہو گا، شرک سے ایک درجہ ہی کم
جناب اعجاز صاحب، آپ جیسے بزرگ شاعر سے داد تو یوں بھی ہمیشہ ہی نہال کر دیتی ہے لیکن آج ان خفیہ دوست ریختہ کے مراسلے کے بعد تو جی باغ باغ ہو گیا۔
بہت شکریہ قبلہ سلامت رہیں۔ :)
منصور آفاق — مارچ 1، 2014 12:59 صبح
بہت خوبصورت غزل کہی فاتح بھائی
جاسمن — جولائی 7، 2020 8:17 شام
ڈھیر ساری داد۔
لیکن یہ "غربتوں میں جینے والے" آج کل کہاں پائے جاتے ہیں؟:D

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%A7%D8%AF%D8%AA%D8%A7%D9%8B-%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AC%DB%8C%D8%AA%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA-%DB%94-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD-%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86-%D8%A8%D8%B4%DB%8C%D8%B1.56597/page-4