عادتاً وحشتوں میں جیتا ہوں ۔ فاتح الدین بشیر

فاتح — دسمبر 1، 2012 8:39 صبح
ہمیشہ کی طرح لاجواب اور زبردست
شکریہ بلال۔
فاتح — دسمبر 1، 2012 8:39 صبح
ہائیں :eek: باندازِ کا کیا مطلب ہوا لالہ ؟
یعنی سعود بھائی کے انداز میں :) :) :)
فاتح — دسمبر 1، 2012 8:40 صبح
یہ اچھی عادت نہیں ہے اپنی عادتیں بدلیں :D
ضرور۔۔۔ لیکن کیا خیال ہے ہم دونوں ہی کیوں نہ بدل لیں اپنی اپنی عادات؟
فاتح — دسمبر 1، 2012 8:40 صبح
خوبصورت غزل ہے فاتح صاحب، سبھی اشعار بہت اچھے ہیں لیکن یہ بہت پسند آیا
ضربِ نفیِ وجود و عشق ہوں میں
گویا میں مثبتوں میں جیتا ہوں
واہ واہ واہ
بہت شکریہ جناب۔۔۔ اس غزل میں ہمیں بھی یہی شعر سب سے زیادہ پسند ہے۔
فاتح — دسمبر 1، 2012 8:41 صبح
میں غریب الوطن، غریب مزاج
کیا عجب غربتوں میں جیتا ہوں
واه جي واه، بهت اعلي داد قبول كريں فاتح صاحب
كبھي كچھ پڑھا تھا وزن صحيح ياد نهيں
در وديوار پر حسرت كي نظر كرتے هيں
خوش رهو اهل وطن هم تو سفر كرتے هيں
بيٹھ جاتا هوں جهاں چھاؤں گھني هوتي هے
هائے كيا چيز يه غريب الوطني هوتي هے
بہت شکریہ جناب
فاتح — دسمبر 1، 2012 8:41 صبح
بہت خوب فاتح صاحب غزل بہت اچھی ہے اس کی داد پیش ہے قبول کیجیے۔
درج بالا شعر کے قافیے کے بارے میں پوچھنا تھا کہ کیا یہ اس غزل کے دیگر قوافی کے ساتھ درست ہے؟ کیونکہ اس کا واحد "راستہ" ہے جو کہ دیگر قوافی کے واحد الفاظ "وحشت، تربت، غربت" وغییرہ کی طرح ہم آواز نہیں۔
بہت شکریہ جناب
آپ کا اٹھایا ہوا نکتہ بجا ہے۔۔۔ ہم اس کے نیچے "ضرورتِ شعری" کا نوٹ لگا دیتے ہیں۔
فاتح — دسمبر 1، 2012 8:42 صبح
واہ
شام کنجِ قفس میں، صبح بہ دار
جبر کی ہجرتوں میں جیتا ہوں
بہت خوب
ممنون ہوں جناب
فلک شیر — دسمبر 1، 2012 11:20 صبح
شکریہ۔ کیا یہ دونوں ایک ہی مضمون کے اشعار لگے آپ کو؟
مضمون بعینہ ایک نہیں......لیکن دونوں کا مصرعہ ثانی ہجرت کی مجبوریوں کا حوالہ لیے ہوئے تھا ....اور اگر غور کریں ، تو ہجرت ہمیشہ ہوتی ہے مجبوری کے عالم میں ہے.....اور جبر اسی کی ایک شکل.....
ناعمہ عزیز — دسمبر 1، 2012 2:11 شام
یعنی سعود بھائی کے انداز میں :) :) :)
اچھا اچھا اتنی آسان بات تھی اور آپ نے اتنی مشکل اردومیں بتائی لالہ ۔
عسکری — دسمبر 1، 2012 3:31 شام
ضرور۔۔۔ لیکن کیا خیال ہے ہم دونوں ہی کیوں نہ بدل لیں اپنی اپنی عادات؟
آپ اپنی فکر کریں میری شادی کے بعد بدل جائیں گی بقول شاعر :D
امر شہزاد — جنوری 13، 2013 1:07 شام
کمال کر دیا ہے آپ نے۔
بس یہ ایک شعر سمجھ نہیں پایا۔
ضربِ نفیِ وجود و عشق ہوں میں
گویا میں مثبتوں میں جیتا ہوں
رانا — جنوری 13، 2013 3:44 شام
جان کر تیرے نقشِ پا منزل
خاک ہوں، راستوں میں جیتا ہوں
انتہائی خوبصورت غزل فاتح بھائی۔ ایک ایک شعر لاجواب۔
فاتح — جنوری 13، 2013 3:46 شام
کمال کر دیا ہے آپ نے۔
بس یہ ایک شعر سمجھ نہیں پایا۔
ضربِ نفیِ وجود و عشق ہوں میں
گویا میں مثبتوں میں جیتا ہوں
بہت شکریہ امر شہزاد صاحب
minus multiplies by minus equals to plus
فاتح — جنوری 13، 2013 3:47 شام
جان کر تیرے نقشِ پا منزل
خاک ہوں، راستوں میں جیتا ہوں
انتہائی خوبصورت غزل فاتح بھائی۔ ایک ایک شعر لاجواب۔
شکریہ رانا بھائی! آپ کی محبتوں پر ممنون ہوں۔
محسن وقار علی — جنوری 25، 2013 1:41 شام
جان کر تیرے نقشِ پا منزل
خاک ہوں، راستوں میں جیتا ہوں
کھینچے جاتا ہوں میں عدم کا وجود
عارضی حالتوں میں جیتا ہوں
موت ہے انتہائے ہجر مگر
جینے کی ذلّتوں میں جیتا ہوں
:zabardast1:
داد قبول کیجیے:applause:
شیزان — جنوری 25، 2013 1:44 شام
ضربِ نفیِ وجود و عشق ہوں میں
گویا میں مثبتوں میں جیتا ہوں
بہت اعلیٰ فاتح بھائی
فاتح — جنوری 25، 2013 2:41 شام
جان کر تیرے نقشِ پا منزل
خاک ہوں، راستوں میں جیتا ہوں
کھینچے جاتا ہوں میں عدم کا وجود
عارضی حالتوں میں جیتا ہوں
موت ہے انتہائے ہجر مگر
جینے کی ذلّتوں میں جیتا ہوں
:zabardast1:
داد قبول کیجیے:applause:
محبت ہے آپ کی۔۔۔ ممنون ہوں جناب
فاتح — جنوری 25، 2013 2:41 شام
ضربِ نفیِ وجود و عشق ہوں میں
گویا میں مثبتوں میں جیتا ہوں
بہت اعلیٰ فاتح بھائی
بہت شکریہ جناب
محمد بلال اعظم — جنوری 25، 2013 2:50 شام
واہ
ایک بار پڑھ کے بھی اتنا ہی مزہ آیا۔
فاتح — جنوری 25، 2013 3:04 شام
واہ
ایک بار پڑھ کے بھی اتنا ہی مزہ آیا۔
ایک بار پھر شکریہ بلال :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%A7%D8%AF%D8%AA%D8%A7%D9%8B-%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AC%DB%8C%D8%AA%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA-%DB%94-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD-%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86-%D8%A8%D8%B4%DB%8C%D8%B1.56597/page-3