ظہیر بھائی -حیرت ہوئی آپ کی بات پر -صاحب اور اہل کا فرق میری نظر میں ملکیت و اہلیت کا ہے -کچھ چیزیں ہمارے پاس ہوتی تو ہیں مگر ہم ان کے اہل نہیں ہوتے -صاحب اور اہل کے فرق کے لیے لطیفے کے طور پر ایک بات عرض کرتا ہوں کہ کچھ مرد اپنی اہلیہ کے صاحب تو ہوتے ہیں اہل نہیں ہوتے کیونکہ انھیں بیگم سے زیادہ حکیم کی ضرورت ہوتی ہے -


فرہنگ آصفیہ صفحہ ٣٣٠ پر اگر آپ <اہل> کے معانی دیکھیں تو وہیں ایک مصرع بطور سند درج ہے جو میرے اس شعر کا حاصل ہے :
<اے اہل بزم کوئی تو بولو خدا لگی >
اس کے علاوہ یہ اسناد ہیں جن میں اہل نظر کو بطور واحد باندھا ہے :
اہل نظر کسو کو ہوتی ہے محرمیت
آنکھوں کے اندھے ہم تو مدت رہے حرم میں
----------------------------------میر تقی میر
ہم بھی دیکھیں گے کوئی اہل نظر ہے کہ نہیں
یاں سے جب ہم روش تیر نظر جائیں گے
------------------------------------ذوق
چہرے پہ سجا لایا ہوں میں دل کی صدائیں
دنیا میں کوئی اہل نظر ہے کہ نہیں ہے
--------------------------------قتیل
آنکھ پڑتی ہے ہر اک اہل نظر کی تم پر
تم میں روپ اے گل و نسرین و سمن کس کا ہے
----------------------------------حالی
اہل دل کے بھی دو شعر دیکھ لیجیے :
اہل دل جان کے رکھتا ہے مجھے عشق بتنگ
کاشکے دل کے عوض کوئی ملا ہوتا سنگ
-------------------------------میر تقی میر
اہل دل گر جہاں سے اٹھتا ہے
اک جہاں جسم و جاں سے اٹھتا ہے
--------------------------------مصحفی