غزل۔۔ ۔اوس کہتی ہے رات روئی ہے۔۔۔ محمد احمدؔ

سید عمران — جولائی 19، 2019 6:21 صبح
جی مفتی صاحب، آپ کو "واوین" ہی سے سکون ملنا تھا۔ :)
سکون کے لیے واوین کی قید بھی ضروری نہیں تھی۔۔۔
کھلے ڈھلے بھی کام چل سکتا ہے!!!
:):):)
محمداحمد — جولائی 19، 2019 12:04 شام


بہت خوب!
سب اشعار بہت اچھے ہیں۔
خاص طور پہ یہ زیادہ اچھا لگا۔

بہت بہت شکریہ!
حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں۔
محمداحمد — جولائی 19، 2019 12:07 شام
اچھی غزل ہے، واہ واہ

بہت شکریہ اُستادِ محترم۔۔۔!
حوصلہ افزائی کا بے حد شکریہ!
محمداحمد — جولائی 19، 2019 12:10 شام
انتہائی خوبصورت غزل ہے احمد صاحب، بہت اچھے اشعار ہیں۔ لاجواب۔

بہت شکریہ وارث بھائی!
بے حد نوازش !
محمداحمد — جولائی 19، 2019 12:12 شام
ساری تشریح کی جان اور نچوڑ بس اس لفظ میں پوشیدہ ہے!!!
:D:D:D

ٹھیک ٹھاک نچوڑ لیا شعر کو آپ نے۔ :)
بلکہ شعر کے ساتھ آپ نے اے خان والا سلوک کیا ہے۔ :D:p
محمداحمد — جولائی 19، 2019 12:13 شام
چوں کہ ابر کہتا ہے اس لیے غلط ہی کہتا ہوگا۔۔۔ کیوں احمد بھائی۔۔۔ ;)

کراچی میں تو ابر کہتا ہی ہے اور درست کہتا ہے۔
پشاور میں ہوسکتا ہے کہ ابر کہتی ہو۔ :)
سید عمران — جولائی 19، 2019 12:16 شام
بلکہ شعر کے ساتھ آپ نے اے خان والا سلوک کیا ہے۔ :D:p
اے خان کے ساتھ کیا کیا؟؟؟
محمداحمد — جولائی 19، 2019 12:19 شام
اے خان کے ساتھ کیا کیا؟؟؟

اللہ اللہ !
اتنی معصومیت :)
سید عمران — جولائی 19، 2019 12:22 شام
اللہ اللہ !
اتنی معصومیت :)
سب آپ کی ذاتی ذہنی اختراع ہے!!!
محمد تابش صدیقی — جولائی 19، 2019 12:25 شام
سب آپ کی ذاتی ذہنی اختراع ہے!!!
بالکل۔ معصومیت اور سید عمران بھائی۔ یہ ان کی ذہنی اختراع ہی ہو سکتی ہے۔
سید عمران — جولائی 19، 2019 12:26 شام
بالکل۔ معصومیت اور سید عمران بھائی۔ یہ ان کی ذہنی اختراع ہی ہو سکتی ہے۔
ہماری معصومیت نہیں اے خان کی کہانی!!!
محمداحمد — جولائی 19، 2019 12:32 شام
ہماری معصومیت نہیں اے خان کی کہانی!!!

اے خان کی کہانی ، جناب عمران کی زبانی
اے ٹو زی ، ہماری ذہنی اختراع ہے۔ :)
سید عمران — جولائی 19، 2019 12:33 شام
اے خان کی کہانی ، جناب عمران کی زبانی
اے ٹو زی ، ہماری ذہنی اختراع ہے۔ :)
نہیں۔ اس چارہ گر کو بے چارہ بنا دینا!!!
محمداحمد — جولائی 19، 2019 12:38 شام
نہیں۔ اس چارہ گر کو بے چارہ بنا دینا!!!

یعنی آپ چارہ گری کر رہے تھے؟ :eek:
محمداحمد — جولائی 20، 2019 7:52 صبح
یہ دو اشعار مزید شامل کیے ہیں غزل میں:
نیند اُڑنے لگی تھی سوچ کے کچھ
میں نے پلکوں پہ لا پروئی ہے
ناخُدا نے خدا خدا کرکے
تیرتی ناؤ لا ڈبوئی ہے
تیسرا شعر صوتی قافیے والا ہے اُسے کیفیت نامے میں ملاحظہ فرمائیے۔ :)
سید عمران — جولائی 20، 2019 8:00 صبح
ناخُدا نے خدا خدا کرکے
تیرتی ناؤ لا ڈبوئی ہے
خدا کے نام کی نسبت کے ساتھ ڈبونا مناسب نہیں لگ رہا!!!
محمداحمد — جولائی 20، 2019 8:05 صبح
خدا کے نام کی نسبت کے ساتھ ڈبونا مناسب نہیں لگ رہا!!!

فاعل تو ناخدا ہے اور اُ س نے خدا کا نام لے کر یہ کام کیا ہے۔
محمد تابش صدیقی — جولائی 20، 2019 8:06 صبح
خدا کے نام کی نسبت کے ساتھ ڈبونا مناسب نہیں لگ رہا!!!
خدا خدا کر کے
یہ محاورہ ہے
جس کا مطلب ہے
بڑی مشکل سے
محمداحمد — جولائی 20، 2019 8:09 صبح
خدا خدا کر کے
یہ محاورہ ہے
جس کا مطلب ہے
بڑی مشکل سے

درست!
دوسرا مطلب یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ ناخدا نے ہمیں مذہب کے نام پر دھوکہ دیا ہے ۔
تازہ مثال ریاستِ مدینہ کے وعدوں کی ہے۔:)
محمد تابش صدیقی — جولائی 20، 2019 8:11 صبح
درست!
دوسرا مطلب یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ ناخدا نے ہمیں مذہب کے نام پر دھوکہ دیا ہے ۔
تازہ مثال ریاستِ مدینہ کے وعدوں کی ہے۔:)
خدا خدا کرنا اور خدا خدا کے کے
دونوں الگ معنوں میں مستعمل ہیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84%DB%94%DB%94-%DB%94%D8%A7%D9%88%D8%B3-%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%8C-%DB%81%DB%92-%D8%B1%D8%A7%D8%AA-%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%8C-%DB%81%DB%92%DB%94%DB%94%DB%94-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF%D8%94.107696/page-3