محمداحمد — جولائی 18، 2019 12:26 شام
غزل
اوس کہتی ہے رات روئی ہے
ابر کہتا ہے اور کوئی ہے
اشک قرطاسِ دل پہ برسے ہیں
حرف و معنی کی فصل بوئی ہے
میں تمھاری طرح نہ بن پایا
میں نے اپنی شناخت کھوئی ہے
ناخُدا نے خدا خدا کرکے
تیرتی ناؤ لا ڈبوئی ہے
جاگتے خواب مجھ سے کہتے ہیں
نیند کن وادیوں میں سوئی ہے
خود کلامی کی خُو نہیں جاتی
کچھ نہیں ہے تو شعر گوئی ہے
کیا اُنہیں حالِ دل بتا دوں میں
وہ جنہیں زعمِ اشک شوئی ہے
نیند اُڑنے لگی تھی سوچ کے کچھ
میں نے پلکوں پہ لا پِروئی ہے
محمد احمدؔ
عرفان سعید — جولائی 18، 2019 12:29 شام
بہت عمدہ احمد بھائی!
اشک قرطاسِ دل پہ برسے ہیں
حرف و معنی کی فصل بوئی ہے
خود کلامی کی خُو نہیں جاتی
کچھ نہیں ہے تو شعر گوئی ہے
سید عمران — جولائی 18، 2019 12:31 شام
یہ مصرع سمجھائیں۔۔۔
کیوں کہ اوس تو خود رات کے آنسو ہوئے۔۔۔
وہ کیسے کہے کہ رات روئی ہے؟؟؟
محمداحمد — جولائی 18، 2019 12:34 شام
یہ مصرع سمجھائیں۔۔۔
کیوں کہ اوس تو خود رات کے آنسو ہوئے۔۔۔
وہ کیسے کہے کہ رات روئی ہے؟؟؟
شعر میں ایک مخمصے کا بیان پہلے سے ہی موجود ہے۔ آپ ہمیں مزید کنفیوز کر رہے ہیں۔

محمداحمد — جولائی 18، 2019 12:35 شام
بہت شکریہ عرفان بھائی!

محمد ریحان قریشی — جولائی 18، 2019 12:37 شام
یہ مصرع سمجھائیں۔۔۔
کیوں کہ اوس تو خود رات کے آنسو ہوئے۔۔۔
وہ کیسے کہے کہ رات روئی ہے؟؟؟
آنسو کسی کے رونے کی دلیل نہیں ہو سکتے؟
سید عمران — جولائی 18، 2019 12:38 شام
شعر میں ایک مخمصے کا بیان پہلے سے ہی موجود ہے۔ آپ ہمیں مزید کنفیوز کر رہے ہیں۔
ہم تو خود شرح سمجھنا چاہ رہے ہیں کہ شاعر اس شعر میں آخر کہنا کیا چاہ رہا ہے!!!
سید عمران — جولائی 18، 2019 12:40 شام
آنسو کسی کے رونے کی دلیل نہیں ہو سکتے؟
پکی دلیل ہے۔۔۔
اسی لیے تو یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ خود آنسو کیوں کہہ رہے ہیں کہ فاعل رویا ہے!!!
محمداحمد — جولائی 18، 2019 12:46 شام
ہم تو خود شرح سمجھنا چاہ رہے ہیں کہ شاعر اس شعر میں آخر کہنا کیا چاہ رہا ہے!!!
اپنے ہی شعر کی تشریح کرنا سب سے مشکل اور عجیب سا کام ہے۔
اگر قاری کی سمجھ آجائے تو ٹھیک ورنہ معنی فی بطن الشاعر کہہ کر کر نظر انداز کردے۔
محمداحمد — جولائی 18، 2019 12:47 شام
یہ مصرع سمجھائیں۔۔۔
کیوں کہ اوس تو خود رات کے آنسو ہوئے۔۔۔
وہ کیسے کہے کہ رات روئی ہے؟؟؟
اوس کو رات کے آنسوؤں سے تشبیہ دی جاتی ہے لیکن بعینہ ایسا نہیں ہے۔
سید عمران — جولائی 18، 2019 12:52 شام
اپنے ہی شعر کی تشریح کرنا سب سے مشکل اور عجیب سا کام ہے۔
حالاں کہ شعر کو شاعر جن کیفیات اور جذبات کے ساتھ ادا کرتا ہے مشکل ہے کہ اس سے بہتر سمجھنے والا کوئی دوسرا ہو!!!
محمد تابش صدیقی — جولائی 18، 2019 12:53 شام
یہ مصرع سمجھائیں۔۔۔
کیوں کہ اوس تو خود رات کے آنسو ہوئے۔۔۔
وہ کیسے کہے کہ رات روئی ہے؟؟؟
آنسو یہ کہہ رہے ہیں کہ رات روئی ہے، اس لیے ہم نکلے ہیں
بادل کہتا ہے، نہیں، اندر کی بات بتاؤ۔
بیگم کہتی ہے پیاز کی وجہ سے آنسو آئے ہیں، شوہر کہتا ہے بات کچھ اور ہے۔ وغیرہ وغیرہ
محمد تابش صدیقی — جولائی 18، 2019 12:54 شام
حالاں کہ شعر کو شاعر جن کیفیات اور جذبات کے ساتھ ادا کرتا ہے مشکل ہے کہ اس سے بہتر سمجھنے والا کوئی دوسرا ہو!!!
مزا نہیں آتا۔
محمد تابش صدیقی — جولائی 18، 2019 12:54 شام
میں تمھاری طرح نہ بن پایا
میں نے اپنی شناخت کھوئی ہے
جاگتے خواب مجھ سے کہتے ہیں
نیند کن وادیوں میں سوئی ہے
خود کلامی کی خُو نہیں جاتی
کچھ نہیں ہے تو شعر گوئی ہے
محمد احمدؔ
بہت عمدہ احمد بھائی۔
محمد عدنان اکبری نقیبی — جولائی 18، 2019 12:55 شام
میں تمھاری طرح نہ بن پایا
میں نے اپنی شناخت کھوئی ہے
واہ کیا کہنے ہیں لاجواب ،
کیا اُنہیں حالِ دل بتا دوں میں
وہ جنہیں زعمِ اشک شوئی ہے
بہت عمدہ ،
شاندار غزل ،
ہر شعر زبردست ۔
محمد عدنان اکبری نقیبی — جولائی 18، 2019 12:56 شام
تو آپ یہ چاہتے ہیں کہ مفتی صاحب لاٹھی لے کر احمد بھیا کے پیچھے بھاگیں ۔
عرفان سعید — جولائی 18، 2019 1:00 شام
اوس کہتی ہے رات روئی ہے
ابر کہتا ہے اور کوئی ہے
اوس: میری ساس
رات: میری بیگم
ابر: رات کی نند
اب شعر سمجھ میں آیا کہ نہیں آیا

سید عمران — جولائی 18، 2019 1:02 شام
ایسا سمجھ میں آیا ہے کہ اپنا نام بھول جائیں مگر یہ شرح نہ بھولیں!!!
محمداحمد — جولائی 18، 2019 1:05 شام
اوس: میری ساس
رات: میری بیگم
ابر: رات کی نند
اب شعر سمجھ میں آیا کہ نہیں آیا
واہ واہ!

اسی لئے کہتے ہیں کہ اگر شاعر اپنے شعر کی تشریح خود کردے تو یہ بات اُس کے معنی کو محدود کرنے کے مترادف ہوتی ہے۔

محمداحمد — جولائی 18، 2019 1:06 شام
حالاں کہ شعر کو شاعر جن کیفیات اور جذبات کے ساتھ ادا کرتا ہے مشکل ہے کہ اس سے بہتر سمجھنے والا کوئی دوسرا ہو!!!
لیکن اچھے شعر کو آفاقی ہونا چاہیے اور اُسے سمجھنے والے کے رنگ میں رنگ جانا چاہیے۔
