محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 22، 2021 8:46 صبح
عزیزانِ گرامی، آداب!
ایک پرانی غزل آپ سب کے ذوق کی نذر۔ گر قبول افتد زہے عز و شرف۔
دعاگو،
راحلؔ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس کی خاطر خود میں اپنے آپ سے کٹتا رہا
اس کو پھر بھی بے وفائی کا مری خدشہ رہا
تیری یادوں کی چٹانیں اب کہاں ویسی رہیں!
وقت کا دریا کبھی ٹھہرا نہیں، بہتا رہا
بس جھکایا تھا خدا کے سامنے اک بار سر
پھر زمانہ عمر بھر آگے مرے جھکتا رہا
میں تو دل پر نقش کر بیٹھا ہوں بیتے سارے پَل
وہ ہمیشہ پانیوں پر ڈائری لکھتا رہا
المیہ یہ ہے کہ اوجِ عشق کو چھونے کے بعد
میں محبت کے سفر میں عمر بھر تنہا رہا!
تیرے عارض سے ڈھلکتے موتیوں کو دیکھ کر
اہلِ عالم سے یہ راحلؔ مدتوں لڑتا رہا
امین شارق — مارچ 22، 2021 9:00 صبح
عزیزانِ گرامی، آداب!
ایک پرانی غزل آپ سب کے ذوق کی نذر۔ گر قبول افتد زہے عز و شرف۔
دعاگو،
راحلؔ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس کی خاطر خود میں اپنے آپ سے کٹتا رہا
اس کو پھر بھی بے وفائی کا مری خدشہ رہا
تیری یادوں کی چٹانیں اب کہاں ویسی رہیں!
وقت کا دریا کبھی ٹھہرا نہیں، بہتا رہا
بس جھکایا تھا خدا کے سامنے اک بار سر
پھر زمانہ عمر بھر آگے مرے جھکتا رہا
میں تو دل پر نقش کر بیٹھا ہوں بیتے سارے پَل
وہ ہمیشہ پانیوں پر ڈائری لکھتا رہا
المیہ یہ ہے کہ اوجِ عشق کو چھونے کے بعد
میں محبت کے سفر میں عمر بھر تنہا رہا!
تیرے عارض سے ڈھلکتے موتیوں کو دیکھ کر
اہلِ عالم سے یہ راحلؔ مدتوں لڑتا رہا
بہت خوب۔
آپ کے اشعار سب اچھے لگے ہیں باربار
باخدا پڑھتا رہا پڑھتا رہا پڑھتا رہا
محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 22، 2021 9:02 صبح
بہت خوب۔
آپ کے اشعار سب اچھے لگے ہیں باربار
باخدا پڑھتا رہا پڑھتا رہا پڑھتا رہا
بہت شکریہ شارق صاحب ۔۔۔ جزاک اللہ

La Alma — مارچ 22، 2021 9:09 صبح
عمدہ کاوش ہے۔
المیہ یہ ہے کہ اوجِ عشق کو چھونے کے بعد
میں محبت کے سفر میں عمر بھر تنہا رہا!
اوج کو چھونے کے بعد تو اصولی طور پر سفر ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ البتہ اس مقام پر ضرور تنہا ہوا جا سکتا ہے۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 22، 2021 9:17 صبح
عمدہ کاوش ہے۔
اوج کو چھونے کے بعد تو اصولی طور پر سفر ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ البتہ اس مقام پر ضرور تنہا ہوا جا سکتا ہے۔
بہت شکریہ المیٰ صاحبہ
اوج کے بعد سفر ختم کردینا تو صوابدیدی اختیار ہے
La Alma — مارچ 22، 2021 9:23 صبح
بہت شکریہ المیٰ صاحبہ
اوج کے بعد سفر ختم کردینا تو صوابدیدی اختیار ہے
واپسی کا سفر ہو سکتا ہے۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 22، 2021 9:24 صبح
یا پھر خوب سے خوب تر کی جستجو بھی ہو سکتی ہے

محمد عدنان اکبری نقیبی — مارچ 22، 2021 11:02 صبح
شاندار غزل بھیا ۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 22، 2021 11:03 صبح
جزاک اللہ عدنان بھائی ۔۔۔ تہہ دل سے شکر گزار ہوں

محمد عبدالرؤوف — مارچ 22، 2021 11:26 صبح
یا استاذی، بہت خوب
محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 22، 2021 11:29 صبح
بہت شکریہ عبدالرؤوف بھائی ۔۔۔ جزاک اللہ
یہ ستم نہ کریں بھائی

محمد عبدالرؤوف — مارچ 22، 2021 11:32 صبح
کوئی اور کہے تو بے شک ایسا جواب دیجیے لیکن میں تو حق بجانب ہوں

محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 22، 2021 11:35 صبح
کوئی اور کہے تو بے شک ایسا جواب دیجیے لیکن میں تو حق بجانب ہوں
نہیں بھائی ۔۔۔ جب محفل میں استادِ محترم، ظہیر بھائی، عاطف بھائی جیسی شخصیات ہوں ۔۔۔ تو یہ القابات بس انہی کے لیے خاص رہنے چاہئیں (بلا مبالغہ)

ظہیراحمدظہیر — مارچ 22، 2021 7:15 شام
واہ! بہت خوب راحل بھائی !
اچھی غزل ہے ۔ بہت داد!
المیہ کو البتہ آپ نے فاعلن باندھ دیا ہے ۔ اسے دیکھ لیجئے گا ۔ اس لفظ کو کسی بھی اردو بحر میں باندھنا بہت مشکل ہوگا کہ اس کےچاروں اولین حروف متحرک ہیں ۔
سید عاطف علی — مارچ 22، 2021 7:51 شام
واہ! بہت خوب راحل بھائی !
اچھی غزل ہے ۔ بہت داد!
المیہ کو البتہ آپ نے فاعلن باندھ دیا ہے ۔ اسے دیکھ لیجئے گا ۔ اس لفظ کو کسی بھی اردو بحر میں باندھنا بہت مشکل ہوگا کہ اس کےچاروں اولین حروف متحرک ہیں ۔
مجھے بھی کچھ محسوس تو ہوا لیکن میں نے تسکین اوسط کی طرح ایک خیالی تصور " تحریک اوسط " کے تحت شاعر کو زیر گنجائش سمجھا ۔ویسے کیا اسے ی مشدد کے بغیر باندھنا درست نہیں ہوگا ؟
محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 22، 2021 8:33 شام
واہ! بہت خوب راحل بھائی !
اچھی غزل ہے ۔ بہت داد!
المیہ کو البتہ آپ نے فاعلن باندھ دیا ہے ۔ اسے دیکھ لیجئے گا ۔ اس لفظ کو کسی بھی اردو بحر میں باندھنا بہت مشکل ہوگا کہ اس کےچاروں اولین حروف متحرک ہیں ۔
بہت شکریہ ظہیر بھائی ... داد و پذیرائی کے لیے سپاس گزار ہوں.
آپ نے ہماری چوری خوب پکڑی ہے

آپ نے بالکل بجا فرمایا ہے، درست تلفظ ویسے ہی ہے جیسا کہ آپ نے بتایا ... جس زمانے کی یہ غزل ہے، تب میں واقعی درست تلفظ سے واقف نہیں تھا ... جب اندازہ ہوا تب تک اتنا وقت گزر چکا تھا کہ ہم نے "ڈبل اے استاد، جانے دوس" پر اکتفا کرنا مناسب سمجھا

سید عاطف علی — مارچ 22، 2021 8:36 شام
جس کی خاطر خود میں اپنے آپ سے کٹتا رہا
یہ کٹنا وہی ہے جسے حیدرآبادی لوگاں انجان مارنا کہتے ہیں

؟
محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 22، 2021 8:37 شام
مجھے بھی کچھ محسوس تو ہوا لیکن میں نے تسکین اوسط کی طرح ایک خیالی تصور " تحریک اوسط " کے تحت شاعر کو زیر گنجائش سمجھا ۔ویسے کیا اسے ی مشدد کے بغیر باندھنا درست نہیں ہوگا ؟
تسکین اوسط ہمیں بے تسکین کر دیتی ہے اس لیے ہم ایسی مشکل ابحاث سے دور ہی رہتے ہیں

لیکن اہل اردو کو اس کا کچھ قاعدہ بنانا چاہیے ... کم از کم جمع بنانے کے لیے ... نظر سے نظریں بنائیں تو ظ ساکن کرنے کی اجازت ہے ... غلطی سے غلطیاں ہوجائیں تو ل بیچارے کو واک کرنا پڑتی ہے

محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 22، 2021 8:39 شام
یہ کٹنا وہی ہے جسے حیدرآبادی لوگاں انجان مارنا کہتے ہیں

؟
نہیں جناب، یہ نارتھ کراچی والا "کٹانا" ہے

ظہیراحمدظہیر — مارچ 22، 2021 8:41 شام
مجھے بھی کچھ محسوس تو ہوا لیکن میں نے تسکین اوسط کی طرح ایک خیالی تصور " تحریک اوسط " کے تحت شاعر کو زیر گنجائش سمجھا ۔ویسے کیا اسے ی مشدد کے بغیر باندھنا درست نہیں ہوگا ؟
عاطف بھائی ، میں تو اسے "ی" غیر مشدد کے ساتھ ہی بولتا ہوں ۔ اسی لئے کہا کہ اولین چاروں حروف متحرک ہیں ۔ لیکن لغت میں اسے "ی" مشدد کے ساتھ بھی جائز قرار دیا گیا ہے یعنی اولین تین حروف متحرک ۔