راحل صاحب ، سلام عرض ہے!
بہت عمدہ غزل ہے، بھائی . داد حاضر ہے!
لفظ المیہ پر احباب كے خطوط نگاہ سے گزرے تو سوچا میں بھی اپنے دو سینٹس ڈال دوں . شاید کسی کام آ جا ئیں .

المیہ کو میں نے لام ساکن اور میم ساکن كے ساتھ نظم دیکھا ہے، مثلاً:
ہمارا المیہ یہ تھا کہ ہم سفر بھی ہمیں
وہی ملے جو بہت یاد آنے والے تھے (وسیمؔ بریلوی)
نظر کی موت اِک تازہ المیہ
اور اِتنے میں نظارہ مر رہا ہے (عبد الاحد سازؔ)
لیکن پَہلے چار حروف متحرّک یا ی مشدّد کے ساتھ اس لفظ کے استعمال کی میری دانست میں کوئی مثال نہیں ہے .
تَسکين اوسط کی بابت آپ کا یہ قول بجا ہے کہ اس کے قواعد میں صفائی کی گنجائش ہے . میں نے دیکھا ہے کہ اب اردو الفاظ یعنی جمع میں تَسکين اوسط کے اِستَعمال میں شعراء روایت سے انحراف کرنے لگے ہیں مثلاً اس شعر میں’غلطیوں‘ میں لام کو ساکن باندھا گیا ہے:
گمنام ہو گیا ہے تو اپنی ہی بزم میں
کن غلطیوں کی ہے یہ سزا، احتساب کر (احیاؔ بھوجپوری)
جب كہ بيشتر شعراء ’غلطيوں‘ يا ’غلطياں‘ ميں لام كو متحرّك باندھتے ہيں مثلاً:
غلطياں اگلے وقتوں سے ہوئی ہيں
مگر صديوں سے ہم پچهتا رہے ہيں (ظفرؔ صہبائی)
اردو الفاظ كو چهوڑيے، عربي اور فارسي الفاظ ميں بهي تسكين اوسط كا استعمال روايت سے ہٹ كر ہوا ہے اور ہو رہا ہے مثلاً اس شعر ميں ’حركت‘ ميں ر كو ساكن باندها گيا ہے:
تجھ میں پڑا ہوا ہوں حرکت نہیں ہے مجھ میں
حالت نہ پوچھیو تو حالت نہیں ہے مجھ میں (جون ایلیا)
جب كہ اساتذہ نے ’حركت‘ ميں ر كو ہميشہ متحرّك باندھا ہے مثلاً:
ہے کائنات کو حرکت تیرے ذوق سے
پرتو سے آفتاب کے ذرّے میں جان ہے (غالبؔ)
غرض یہ کہ چونکہ تَسکين اوسط کے اصول پُوری طرح واضح نہیں ہیں، شعراء نے اپنا راستہ خود نکالنا شُرُوع کر دیا ہے .
نیٓازمند،
عرفان عابدؔ