ہاہاہاہا۔۔۔! پسندیدگی کے ناقابلِ تردید ثبوت! جیتے رہیے۔
جاسمن — مارچ 19، 2019 5:45 شام
زبرََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََدست پہ ڈھیروں زبرَََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََیں۔
بہت ہی خوبصورت غزل۔
تازگی اور ندرت سے بھرپور۔
زبرََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََدست پہ ڈھیروں زبرَََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََیں۔
بہت ہی خوبصورت غزل۔
تازگی اور ندرت سے بھرپور۔
غزل آ گیا تھا وہ خوش خصال پسند
تھی ہماری بھی کیا کمال پسند حیف ! بد صورتی رویّوں کی
ہائے دل تھا مرا جمال پسند کیوں بنایا تھا ٹِھیکرا دل کو
کیوں کیا ساغرِ سفال پسند ٹھیک ہے میں نہیں پسند اُنہیں
لیکن اس درجہ پائمال پسند سچ نہ کہیے کہ سچ ہے صبر طلب
لوگ ہوتے ہیں اشتعال پسند ہاں مجھے آج بھی پسند ہے وہ
اس کو کہتے ہیں لازوال پسند حلم ہے اہلِ علم کا شیوہ
جاہ والوں کو ہے جلال پسند وصل کو ہجر ، ناگہانی موت
ہجر کو موسمِ وصال پسند فکرِ دنیا نہیں! مجھے احمد ؔ
اپنی مستی اور اپنی کھال پسند محمد احمدؔ
عبداللہ بھائی ، یہ جو آپ نے اپنے دستخط میں ایک شعر سا لکھا ہے اس میں کچھ تبدیلی کرلیں ۔
"تاج محل بنانا چاہتا ہوں مگر ممتاز نہیں ملتی" ۔ آپ نے شاید اس پر غور نہیں کیا ۔تاج محل بنانے کے لئے تو ممتاز کا مرحومہ ہونا ضروری ہوتا ہے ۔
عبداللہ بھائی ، یہ جو آپ نے اپنے دستخط میں ایک شعر سا لکھا ہے اس میں کچھ تبدیلی کرلیں ۔
"تاج محل بنانا چاہتا ہوں مگر ممتاز نہیں ملتی" ۔ آپ نے شاید اس پر غور نہیں کیا ۔تاج محل بنانے کے لئے تو ممتاز کا مرحومہ ہونا ضروری ہوتا ہے ۔