عمدہ غزل ہے محمداحمد ۔
حالِ دل کہنا بھی چاہتا ہے یہ دل
اور یہ خفّت اُٹھانی بھی نہیں غم ہے لیکن روح پر طاری نہیں
شادمانی، شادمانی بھی نہیں کچھ کچھ اندازہ تھا اس دل کا مجھے
عشق ایسا ناگہانی بھی نہیں
کیا بات ہے۔ داد قبول فرمائیے
عمدہ غزل ہے محمداحمد ۔
حالِ دل کہنا بھی چاہتا ہے یہ دل
اور یہ خفّت اُٹھانی بھی نہیں غم ہے لیکن روح پر طاری نہیں
شادمانی، شادمانی بھی نہیں کچھ کچھ اندازہ تھا اس دل کا مجھے
عشق ایسا ناگہانی بھی نہیں
کیا بات ہے۔ داد قبول فرمائیے