یہ جو شعروں میں جان پڑتی ہے
کوئی اُفتاد آن پڑتی ہے
ایک بوٹی جو آن پڑتی ہے
خُوب معدہ میں جان پڑتی ہے
ڈانٹ پڑتی ہے دل کو اکثر ہی
اور کبھی بے تکان پڑتی ہے
نصف بہتر سے ڈانٹ پڑتی ہے
اور پھر بے تکان پڑتی ہے
آنا چاہتا ہے مجھ سے ملنے وہ
راہ میں آن بان پڑتی ہے
آنا چاہتی ہے مجھ سے ملنے" وہ"
راہ میں بیوی جو آن پڑتی ہے
خود سے کیوں کر کھنچا کھنچا ہوں میں
تھی کوئی بات، دھیان پڑتی ہے
شور ایسا کہ کچھ نہ سُن پاؤں
اک صدا یوں تو کان پڑتی ہے
شورِ بچوں میں کچھ نہ سُن پاؤں
صدائے بیوی ہی کان پڑتی ہے
بد گُمانی، وضاحتیں ، توبہ
ایک پر اک گٹھان پڑتی ہے
شک بیوی کا اور وضاحت میری
ایک پر ایک گٹھان پڑتی ہے
حوصلوں میں دراڑ ڈال کے دیکھ
پسِ ہر تہہ چٹان پڑتی ہے
اُس کی لاٹھی تو ہے ہی بے آواز
چوٹ بھی بے نشان پڑتی ہے
" اُس" کی لاٹھی میں روئی لپٹی ہے
چوٹ بھی بے نشان پڑتی ہے
آ گیا ہوں فرازِ طور پہ میں
دونوں جانب ڈھلان پڑتی ہے
گھر پہ دو بیویاں جو ہوں غالِب
دونوں جانب سے تان پڑتی ہے
گورِ حسرت سے متّصل، دل میں
خواہشوں کی دُکان پڑتی ہے