نیرنگ خیال — اپریل 15، 2013 6:27 صبح
برادر عزیز! آپ تو آج ہماری منوں مٹی کے بوجھ تلے دبی کاوشات باہر نکال لائے۔ پسند فرمانے پر ممنون ہوں۔
ایسی تخلیقات اگر زیادہ دیر مٹی کے تلے دبی رہیں۔۔ تو اسکا مطلب ہے کہ معاشرے سے ذوق کا جنازہ اٹھ گیا ہے۔۔۔
(
ہم نے درپردہ خود کو باذوق نہیں کہا )
نیرنگ خیال — اپریل 15، 2013 6:28 صبح
قیصرانی بھائی! فیس بک پر میرے نوٹس میں میرا لکھا ہوا کافی پرانا ایک نوٹ پڑا ہوا ہے "
ایہام کیا ہے، کیا نہیں ؟"۔۔۔ وہ پڑھ لیجیے۔
کیا عام آدمی کی اس نوٹ تک رسائی ہے؟
فاتح — اپریل 15، 2013 6:34 صبح
کیا عام آدمی کی اس نوٹ تک رسائی ہے؟
اس ربط "
ایہام کیا ہے، کیا نہیں ؟" پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔
فاتح — اپریل 15، 2013 6:35 صبح
ایسی تخلیقات اگر زیادہ دیر مٹی کے تلے دبی رہیں۔۔ تو اسکا مطلب ہے کہ معاشرے سے ذوق کا جنازہ اٹھ گیا ہے۔۔۔
(ہم نے درپردہ خود کو باذوق نہیں کہا )
آپ نے سرِ پردہ خود کو با ذوق کہا ہے
نیرنگ خیال — اپریل 15، 2013 6:46 صبح
اس ربط "
ایہام کیا ہے، کیا نہیں ؟" پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔
ہمارے پاس ربط مہیا نہیں ہے کا ایرر میسج ہے۔۔ غالباً اس نوٹ تک رسائی کے لیے حلقہ احباب میں ہونا شرط ہے۔۔ اگر آپ اجازت دیں تو ہم درخواست جمع کروا دیں وہاں
نیرنگ خیال — اپریل 15، 2013 6:52 صبح
آپ نے سرِ پردہ خود کو با ذوق کہا ہے
بات کو کھول کر بیاں نہ کرتے۔۔۔
سامنے دھری عموماً ہر آدمی کی نظروں سے نہیں گزرتی۔۔۔
فاتح — اپریل 15، 2013 6:57 صبح
ہمارے پاس ربط مہیا نہیں ہے کا ایرر میسج ہے۔۔ غالباً اس نوٹ تک رسائی کے لیے حلقہ احباب میں ہونا شرط ہے۔۔ اگر آپ اجازت دیں تو ہم درخواست جمع کروا دیں وہاں
اوہ واقعی وہ نوٹ پبلک نہیں تھا۔۔۔ اب پبلک کر دیا ہے۔۔۔ آپ ضرور شامل کیجیے ہمیں دوستوں میں۔۔۔ ہمارے لیے باعث توقیر ہو گا
نیرنگ خیال — اپریل 15، 2013 7:23 صبح
اوہ واقعی وہ نوٹ پبلک نہیں تھا۔۔۔ اب پبلک کر دیا ہے۔۔۔ آپ ضرور شامل کیجیے ہمیں دوستوں میں۔۔۔ ہمارے لیے باعث توقیر ہو گا
دونوں ہی کام ہوگئے۔۔۔ نوٹ بھی پڑھ لیا۔۔۔ اور درخواست بھی جمع کرا دی۔۔۔۔ ممنون ہوں آپکا
عباس اعوان — ستمبر 16، 2015 4:07 صبح
کمال !!!!!
بہت عمدہ شاعری ، کیا کہنے، زبردست۔۔۔
سرگوشی
کیا منٹو سے صلاح لیتے رہے ہیں ؟
جسٹ کڈنگ ۔۔۔:پ
آوازِ دوست — ستمبر 16، 2015 4:30 صبح
یہ تو دیکھ خدا نے تجھ کو دوست دیے ہیں کیسے کیسے
ایک محبت چھینی تجھ سے کتنی ڈالی جھولی میں
خوب است!! یہ ایک شعر باقی ساری غزل کا حلالہ کر گیا
غدیر زھرا — ستمبر 16، 2015 5:21 صبح
بہت عمدہ کلام سر ۔۔ ڈھیروں داد
محمد علم اللہ — ستمبر 16، 2015 5:28 صبح
جتنہی بھی کلام کی تعریف کی جائے کم ہے ۔ یہ شعر تو مجھے بے حد پسند آیا ۔۔۔۔ یہ تو دیکھ خدا نے تجھ کو دوست دیے ہیں کیسے کیسے
ایک محبت چھینی تجھ سے کتنی ڈالی جھولی میں
فاتح — ستمبر 17، 2015 11:13 صبح
کمال !!!!!
بہت عمدہ شاعری ، کیا کہنے، زبردست۔۔۔
شکریہ۔ محبت ہے آپ کی۔
کیا منٹو سے صلاح لیتے رہے ہیں ؟
جسٹ کڈنگ ۔۔۔:پ
اپنے ہی ایک شعر میں ایک لفظ کی تبدیلی کے ساتھ:
منٹو کیا بیچتا ہے میرے حضور
جوتیاں سیدھی کرتا پھرتا ہے
فاتح — ستمبر 17، 2015 11:13 صبح
بہت عمدہ کلام سر ۔۔ ڈھیروں داد
ڈھیروں شکریہ
فاتح — ستمبر 17، 2015 11:14 صبح
جتنہی بھی کلام کی تعریف کی جائے کم ہے ۔ یہ شعر تو مجھے بے حد پسند آیا ۔۔۔۔ یہ تو دیکھ خدا نے تجھ کو دوست دیے ہیں کیسے کیسے
ایک محبت چھینی تجھ سے کتنی ڈالی جھولی میں
سر تا پا ممنون ہوں۔
نور وجدان — ستمبر 17، 2015 11:16 صبح
یہ تو دیکھ خدا نے تجھ کو دوست دیے ہیں کیسے کیسے ایک محبت چھینی تجھ سے کتنی ڈالی جھولی میں
یہ شعر ! مجھے بہت عمدہ لگا ہے ! انداز جدا اور نرالا ہے
فاتح — ستمبر 17، 2015 11:25 صبح
یہ شعر ! مجھے بہت عمدہ لگا ہے ! انداز جدا اور نرالا ہے
پذیرائی پر ممنون ہوں
محمد بلال اعظم — ستمبر 17، 2015 3:31 شام
ایسی تخلیقات اگر زیادہ دیر مٹی کے تلے دبی رہیں۔۔ تو اسکا مطلب ہے کہ معاشرے سے ذوق کا جنازہ اٹھ گیا ہے۔۔۔
(
ہم نے درپردہ خود کو باذوق نہیں کہا )
واقعی
سدا بہار تخلیق ہے
آج پھر سے پڑھ کے بہت لطف آیا۔
جاسمن — ستمبر 17، 2015 6:10 شام
ڈال دیا تھا میں نے بھی اک خواب سوالی جھولی میںاپنے ہاتھوں میں پھیلی رہ جانے والی جھولی میں
بہت خوب۔ کسی دن آپ کی ساری شاعری پڑھتی ہوں۔ اتنی خوبصورت شاعری سے میرا محروم رہ جانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خود اپنے آپ سے ہمدردی محسوس ہو رہی ہے۔
شاکرالقادری — ستمبر 17، 2015 6:20 شام
کس کی دعاؤں کا تھا ثمر وہ شعلہ جوالہ شہوت کا
ہائے کہاں سے آئی اتنی سندر گالی جھولی میں
جَو + وا + لَہ=====جَوَّالَہ