فرخ منظور کی تک بندیاں

فرخ منظور — مارچ 26، 2025 4:19 صبح
واہ واہ! بہت خوب!
کیا بات ہے!
بہت عنایت!
فرخ منظور — مارچ 31، 2025 8:07 صبح
زلف لہرا کے وہ فتنوں کو ہوا دیتے ہیں
مسکراتے ہیں کہ وہ حکمِ قضا دیتے ہیں
(فرخ منظور)
سیما علی — اپریل 1، 2025 6:46 شام
زلف لہرا کے وہ فتنوں کو ہوا دیتے ہیں
مسکراتے ہیں کہ وہ حکمِ قضا دیتے ہیں
(فرخ منظور)
بہت اعلیٰ
فرخ منظور — اپریل 1، 2025 8:27 شام
بہت شکریہ
فرخ منظور — اپریل 3، 2025 5:40 صبح
دل کے صحرا میں اب حباب کہاں
تشنگی دیکھے ہے سراب کہاں
جو کہا میں نے "ہے حجاب کہاں؟"
مجھ سے بولیں کہ "اب شباب کہاں"
اک نگہ میں ہی جو کرے گھائل
تیری تیغوں میں ایسی آب کہاں
جس کو دیکھوں تو چاہتا جاؤں
ایسا نکھرا مگرشباب کہاں
بے طلب ہم کو جو کرے سیراب
ایسا دریا کہاں، سحاب کہاں
مکتبِ عشق "مَیں" گیا ہی نہیں
تجھ سے ملنے کی مجھ میں تاب کہاں
جس کو پڑھ کر سبھی کو ہو ایقاں
میرے مولا ہے وہ کتاب کہاں
ماورا کردے دو جہاں سے مجھے
تیری آنکھوں میں‌ وہ شراب کہاں
یونہی ہم نے تھا ذکرِ یار کیا
چل دئیے روٹھ کر جناب کہاں
کیا بتاؤں کہ کتنے عشق کیے
میرے فرخ ابھی حساب کہاں
(فرّخ منظور)​
سیما علی — اپریل 3، 2025 7:24 صبح
دل کے صحرا میں اب حباب کہاں
تشنگی دیکھے ہے سراب کہاں
جو کہا میں نے "ہے حجاب کہاں؟"
مجھ سے بولیں کہ "اب شباب کہاں
بہت عمدہ
سلامت رہیے فرخ منظور
صاحب
فرخ منظور — اپریل 3، 2025 12:24 شام
بہت عمدہ
سلامت رہیے فرخ منظور
صاحب
بہت عنایت۔ خوش رہیں۔
الف عین — اپریل 7، 2025 7:15 صبح
واہ فرخ اچھی غزل کہی ہے
فرخ منظور — اپریل 7، 2025 8:34 صبح
واہ فرخ اچھی غزل کہی ہے
بہت شکریہ اعجاز صاحب!
فرخ منظور — اپریل 7، 2025 8:39 صبح
حساب غرق ہوا، آفتاب غرق ہوا
وہ چاند نکلا تو اپنا عذاب غرق ہوا
کتابِ عشق سے نخچیر سازی سیکھے تھے
ملے ہیں تم سے تو سارا نصاب غرق ہوا
بیاں کریں نہ کریں اس سے ماجرائے عشق
ادھیڑ بُن میں ہمارا شباب غرق ہوا
رفاقتوں کے مہ و سال بن گئے لمحہ
وہ ایک لمحہ بھی بن کر حباب غرق ہوا
عبث ہے ڈھونڈنا امواجِ بحرِ عشق میں اب
وہ جس کا نام تھا فرّخ، جناب غرق ہوا
(فرخ منظور)​

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%81%D8%B1%D8%AE-%D9%85%D9%86%D8%B8%D9%88%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%DA%A9-%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C%D8%A7%DA%BA.91213/page-9