ایک خوبصورت شعر؟ میں نے تو دو پیش کیے ہیں ایک اپنا اور دوسرا غالب کا۔ غالبا غالب کے شعر کو ہی خوبصورت کہا ہے آپ نے۔
ایک خوبصورت شعر؟ میں نے تو دو پیش کیے ہیں ایک اپنا اور دوسرا غالب کا۔ غالبا غالب کے شعر کو ہی خوبصورت کہا ہے آپ نے۔
معذرت چاہتا ہوں کہ جواب ظفری صاحب کے مراسلے کا تھا۔۔۔آپ کا مراسلہ تو بعد میں پڑھا میں نے۔۔ شاید نیٹ سپیڈ کا کوئی مسئلہ ہے۔۔
گویا آپ سلسلۂ غالبیہ، اقبالیہ و صادقیہ کے گدی نشین قرار پاتے ہیں۔۔۔ لیکن آپ کی اتنی گدیوں کو دیکھ کر جو آئے گی وہ دستِ عقد کی بجائے دست بیعت پیش کرے گی۔
بہت شکریہ حاتم راجپوت صاحب۔ ممنون ہوں
یہ سراسر آپ کی ذرہ نوازی و محبت ہے اسامہ صاحب۔ خوش رہیے
یہی تو مسئلہ درپیش ہے کہ دستِ عقد کے بجائے دستِ بیعت سامنے آجاتا ہے ۔ اور پھر ہم اسے دعاؤں کیساتھ رخصت کردیتے ہیں ۔

بہت شکریہ راجا صاحب۔ پذیرائی پر ممنون ہوں۔
بس تو ذرا گدّیوں کی تعداد کم کر لیجیے
لیکن گدیوں کی تعداد کم کرنے سے دستِ عقد و بیعت کی تعداد کم ہونے کا بھی خطرہ ہے۔۔ ایسے وقت میں تو دست ِ غیب کی دعا مانگنی پڑے گی۔۔
اجی آپ تعداد کم کرنے کی بات کر رہے ہیں ۔ ہم نے تو ہر چیز ہی نیچے سے کھینچ لی ہے سوائے زمین کے ۔ مگر پھر بھی " کوئی اُمید بر نہیں آتی "

ایک گدی جس کی وجہ سے دستِ بیعت عموما نیتِ عقد سے آتا ہے وہ تو آپ کے پاس بخیر و خوبی موجود(
)ہے۔ وہ کیا کہتے ہیں کہ ''منڈا مریکا چہ ہُندا اے'' 
جب ہم یہ کہتے ہیں کہ بہت رہ لیئے یہاں ، مستقبل بعید میں پاکستان میں رہیں گے تو پھرساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ " کوئی صورت نظر نہیں آتی " ۔

حیرت ہے کہ'' حقوق نسواں'' کے اس دور میں آپ کی اس innocent prediction کو کچھ مستورات ''قابل اعتنا'' جانتی ہیں۔
بس جی کیا کہیں سوائے اس کہ :

اور وہ دوسرے کھینچ لیتے ہیں

بجا فرمایا آپ نے جناب ۔۔۔۔ ایسا تجربہ بارہا ہوچکا ہے مگر ہم بھی ڈھیٹ ہیں کہ اس حال میں بھی توازن قائم کر لیتے ہیں ۔ کیا ہوا گر " نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں "