محبتوں کے جہاں کارواں گزرتے ہیں

عاطف بٹ — فروری 15، 2014 8:26 شام
محبتوں کے جہاں کارواں گزرتے ہیں
قیامتوں کے وہاں امتحاں گزرتے ہیں
یقیں کی منزلِ مقصود عشق کا مطلوب
ہوس کی راہ سے تو بس گماں گزرتے ہیں
اسی فراق کے لحظے میں رک گیا جیون
تمہارے ہجر کے لمحے کہاں گزرتے ہیں
بدن کے ساتھ مری روح بھی دمک اٹھی
حریمِ جان سے وہ جانِ جاں گزرتے ہیں
بھرا ہے چشم کا کشکول آبِ گریہ سے
فراق و ہجر کے موسم گراں گزرتے ہیں
سرِ فرات ہے پہرا ستم شعاروں کا
عطش میں ڈوب کے تشنہ لباں گزرتے ہیں
وہیں ہے عاؔطفِ بےخانماں کی قبر جہاں
تمہارے پاؤں کے مہکے نشاں گزرتے ہیں
(عاؔطف خالد بٹ)​
عاطف بٹ — فروری 15، 2014 8:49 شام
برائے اصلاح و تبصرہ
الف عین — فروری 16، 2014 3:21 صبح
بہت خوب۔ اچھی غزل کہی ہے میاں، بس اس مصرع کو بدل دیں
اسی فراق کے لحظے میں رک گیا جیون
یہاں جیون ناگوار گزرتا ہے
عاطف بٹ — فروری 16، 2014 6:57 صبح
بہت خوب۔ اچھی غزل کہی ہے میاں، بس اس مصرع کو بدل دیں
اسی فراق کے لحظے میں رک گیا جیون
یہاں جیون ناگوار گزرتا ہے
جی سر، میں کرتا ہوں اس کا کچھ۔ حوصلہ افزائی کے لئے بےحد شکریہ!
نایاب — فروری 16، 2014 7:24 صبح
واہہہہہہہہہہہہہہہہہہ
تو گویا اپنے بٹ بھائی " بھی " شاعر ہوگئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت خوب کہی ہے غزل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بدن کے ساتھ مری روح بھی دمک اٹھی
حریمِ جان سے وہ جانِ جاں گزرتے ہیں
بہت سی دعاؤں بھری داد
عاطف بٹ — فروری 16، 2014 7:25 صبح
واہہہہہہہہہہہہہہہہہہ
تو گویا اپنے بٹ بھائی " بھی " شاعر ہوگئے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
بہت خوب کہی ہے غزل ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
بدن کے ساتھ مری روح بھی دمک اٹھی
حریمِ جان سے وہ جانِ جاں گزرتے ہیں
بہت سی دعاؤں بھری داد
بےحد شکریہ نایاب بھائی۔
غ۔ن۔غ — فروری 16، 2014 7:50 صبح
محبتوں کے جہاں کارواں گزرتے ہیں
قیامتوں کے وہاں امتحاں گزرتے ہیں
اسی فراق کے لحظے میں رک گیا جیون
تمہارے ہجر کے لمحے کہاں گزرتے ہیں
بھرا ہے چشم کا کشکول آبِ گریہ سے
فراق و ہجر کے موسم گراں گزرتے ہیں
وہیں ہے عاؔطفِ بےخانماں کی قبر جہاں
تمہارے پاؤں کے مہکے نشاں گزرتے ہیں
(عاؔطف خالد بٹ)

ارے واہ عاطف بھائی آپ شاعری بھی کرتے ہیں؟
بہت خوش گوار سی حیرت ہوئی ۔ ۔ ۔ ۔ :):applause:
یہ نہیں کہ جو شعر میں نے یہاں کوٹ نہیں کیے وہ اچھے نہیں، لیکن جو کوٹ کیے ہیں وہ بہت ہی زیادہ پسند آئے
آپ کو اتنی پیاری تخلیق پر بہت ساری داد پیش کرتی ہوں:applause::great:
عاطف بٹ — فروری 16، 2014 7:53 صبح
ارے واہ عاطف بھائی آپ شاعری بھی کرتے ہیں؟
بہت خوش گوار سی حیرت ہوئی ۔ ۔ ۔ ۔ :):applause:
یہ نہیں کہ جو شعر میں نے یہاں کوٹ نہیں کیے وہ اچھے نہیں، لیکن جو کوٹ کیے ہیں وہ بہت ہی زیادہ پسند آئے
آپ کو اتنی پیاری تخلیق پر بہت ساری داد پیش کرتی ہوں:applause::great:
بہت نوازش! مجھے تو آپ سے داد پا کر بہت خوشی ہوئی۔ :)
ہمیشہ شاد اور آباد رہیے۔ :)
غ۔ن۔غ — فروری 16، 2014 8:07 صبح
بہت نوازش! مجھے تو آپ سے داد پا کر بہت خوشی ہوئی۔ :)
ہمیشہ شاد اور آباد رہیے۔ :)

آپ کی تخلیق ہے ہی قابلِ داد و تحسین۔ ۔ ۔ ۔:)
آمین، آپ بھی سدا خوش رہیں اور یونہی اپنی پیاری پیاری شاعری سے نوازتے رہیں
پیلے تو علم نہیں تھا ،اب انتظار رہے گا:waiting:
:)
عاطف بٹ — فروری 16، 2014 8:13 صبح
آپ کی تخلیق ہے ہی قابلِ داد و تحسین۔ ۔ ۔ ۔:)
آمین، آپ بھی سدا خوش رہیں اور یونہی اپنی پیاری پیاری شاعری سے نوازتے رہیں
پیلے تو علم نہیں تھا ،اب انتظار رہے گا:waiting:
:)
جزاک اللہ خیراً
جی اللہ نے توفیق دی تو یہ سلسلہ جاری رہے گا اور آپ لوگوں کی اصلاح اور تنقید اس سلسلے بہت راہنما ثابت ہوگی۔
عینی مروت — فروری 16، 2014 8:29 صبح
بدن کے ساتھ مری روح بھی دمک اٹھی
حریمِ جان سے وہ جانِ جاں گزرتے ہیں
بھرا ہے چشم کا کشکول آبِ گریہ سے
فراق و ہجر کے موسم گراں گزرتے ہیں
خوووب! بہت اچھی غزل لکھی ہے جی، اور یہ اشعار بےحد عمدہ ہیں!۔
داد حاضر ہے
ناعمہ عزیز — فروری 16، 2014 8:34 صبح
آہاں یہ میں نے کیا دیکھ لیا ہمممم ؟؟؟ :)
بہت خوب ڈھیروووں ساری داد آپ کی غزل کی نذر لالہ اور وہ جو براہ راست سن کے شاعر حضرات کہا کرتے ہیں کہ
میری طرف سے بھی واہ واہ واہ :)
عاطف بٹ — فروری 16، 2014 8:52 صبح
بدن کے ساتھ مری روح بھی دمک اٹھی
حریمِ جان سے وہ جانِ جاں گزرتے ہیں
بھرا ہے چشم کا کشکول آبِ گریہ سے
فراق و ہجر کے موسم گراں گزرتے ہیں
خوووب! بہت اچھی غزل لکھی ہے جی، اور یہ اشعار بےحد عمدہ ہیں!۔
داد حاضر ہے
بےحد شکریہ!
عاطف بٹ — فروری 16، 2014 8:52 صبح
آہاں یہ میں نے کیا دیکھ لیا ہممم م ؟؟؟ :)
بہت خوب ڈھیروووں ساری داد آپ کی غزل کی نذر لالہ اور وہ جو براہ راست سن کے شاعر حضرات کہا کرتے ہیں کہ
میری طرف سے بھی واہ واہ واہ :)
اور میں سر جھکا کے اور ہاتھ ہلا ہلا کے آداب، آداب کررہا ہوں۔ :)
بہت شکریہ
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 16، 2014 9:00 صبح

یقیں کی منزلِ مقصود عشق کا مطلوب
ہوس کی راہ سے تو بس گماں گزرتے ہیں
اسی فراق کے لحظے میں رک گیا جیون
تمہارے ہجر کے لمحے کہاں گزرتے ہیں

بہت خوبصورت غزل۔ بہت بہت داد قبول فرمائیے جناب
عاطف بٹ — فروری 16، 2014 9:03 صبح
بہت خوبصورت غزل۔ بہت بہت داد قبول فرمائیے جناب
بہت بہت شکریہ سر!
غدیر زھرا — فروری 16، 2014 9:22 صبح
واہ بہت خوب :)
عاطف بٹ — فروری 16، 2014 3:09 شام
بہت شکریہ :)
طارق شاہ — فروری 16، 2014 5:11 شام
عاطف بٹ صاحب !
غزل مجموعی طور پر بہت اچھی ہے ، تخیل اور زیر بم خوب ہے
انشااللہ چھوٹی چھوٹی باتیں از خود وقت کے ساتھ دُور ہو جائیں گی
ایک چیز جس کا ہمیشہ خیال رہے ، وہ مصرعوں کا باہمی ربط
ہے ، جس قدر یہ صاف اور واضح ہوگا ، خیال اور بیان اس قدر پُر
اثر ہوگا ایک آدھ اشعار اپنی اس بات کی وضاحت میں ، : دیکھ لیں :
محبتوں کے جہاں کارواں گزرتے ہیں
قیامتوں کے وہاں امتحاں گزرتے ہیں
محبتوں سے تو قیامتوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے ،
"محبتوں" کوآپ "حسِیں بُتوں" سے بدل کر دیکھیں ،
کیا ہی معنی خیزی مصرعوں کے باہمی ربط سے نظر آ جا تی ہے
پھر اسی تناظر میں دوسرے اشعار بھی :
حسِیں بُتوں کے جہاں کارواں گزرتے ہیں
قیامتوں کے وہاں امتحاں گزرتے ہیں

یقیں کی منزلِ مقصود عشق کا مطلوب !
ہوس کے کب بھلا اِس میں گماں گزرتے ہیں
ٹھہر گئی ہے جُدائی میں وقت کی گردِش
تمھارے ہجر میں لمحے کہاں گزرتے ہیں
دمک اُٹھی ہے مری روح بھی ، بدن کی طرح / مہک اُٹھی ہے مری روح تک، بدن کی طرح
حریمِ جاں سے مِرے جانِ جاں گزرتے ہیں

تمھاری دید کا کشکول پُر ہے اشکوں سے
فراق و ہجر کے موسم گراں گزرتے ہیں

سرِ فرات ہے پہرا ستم شعاروں کا
عطش میں ڈوب کے تشنہ لباں گزرتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زمانہ حال میں، کچھ اس طرح کا ٹھیک نہیں لگ رہا
دوبارہ سوچیں
وہیں ہے عاؔطفِ بےخانماں کی قبر جہاں
تمہارے پاؤں کے مہکے نشاں گزرتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔ مرنے کے بعد سب ہی بے خانما اک نئے خانہ میں جانے سے ہوتے ہیں
اسے بھی دوبارہ دیکھ لیں، عاطف صاحب ۔
آپ کی غزل بہت ہی اچھی ہے اسے مزید بہتر کے لئے لکھا
اتفاق ضروری نہیں
بہت خوش رہیں اور لکھتے رہیں :):)
عاطف بٹ — فروری 16، 2014 5:28 شام
عاطف بٹ صاحب !
غزل مجموعی طور پر بہت اچھی ہے ، تخیل اور زیر بم خوب ہے
انشااللہ چھوٹی چھوٹی باتیں از خود وقت کے ساتھ دُور ہو جائیں گی
ایک چیز جس کا ہمیشہ خیال رہے ، وہ مصرعوں کا باہمی ربط
ہے ، جس قدر یہ صاف اور واضح ہوگا ، خیال اور بیان اس قدر پُر
اثر ہوگا ایک آدھ اشعار اپنی اس بات کی وضاحت میں ، : دیکھ لیں :
محبتوں کے جہاں کارواں گزرتے ہیں
قیامتوں کے وہاں امتحاں گزرتے ہیں
محبتوں سے تو قیامتوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے ،
"محبتوں" کوآپ "حسِیں بُتوں" سے بدل کر دیکھیں ،
کیا ہی معنی خیزی مصرعوں کے باہمی ربط سے نظر آ جا تی ہے
پھر اسی تناظر میں دوسرے اشعار بھی :
حسِیں بُتوں کے جہاں کارواں گزرتے ہیں
قیامتوں کے وہاں امتحاں گزرتے ہیں

یقیں کی منزلِ مقصود عشق کا مطلوب !
ہوس کے کب بھلا اِس میں گماں گزرتے ہیں
ٹھہر گئی ہے جُدائی میں وقت کی گردِش
تمھارے ہجر میں لمحے کہاں گزرتے ہیں
دمک اُٹھی ہے مری روح بھی ، بدن کی طرح / مہک اُٹھی ہے مری روح تک، بدن کی طرح
حریمِ جاں سے مِرے جانِ جاں گزرتے ہیں

تمھاری دید کا کشکول پُر ہے اشکوں سے
فراق و ہجر کے موسم گراں گزرتے ہیں

سرِ فرات ہے پہرا ستم شعاروں کا
عطش میں ڈوب کے تشنہ لباں گزرتے ہیں
۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔ زمانہ حال میں، کچھ اس طرح کا ٹھیک نہیں لگ رہا
دوبارہ سوچیں
وہیں ہے عاؔطفِ بےخانماں کی قبر جہاں
تمہارے پاؤں کے مہکے نشاں گزرتے ہیں
۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ مرنے کے بعد سب ہی بے خانما اک نئے خانہ میں جانے سے ہوتے ہیں
اسے بھی دوبارہ دیکھ لیں، عاطف صاحب ۔
آپ کی غزل بہت ہی اچھی ہے اسے مزید بہتر کے لئے لکھا
اتفاق ضروری نہیں
بہت خوش رہیں اور لکھتے رہیں :):)
سر، بےحد شکریہ کے آپ نے میری راہنمائی کی۔ میں ان سب تجاویز کو سامنے رکھ کر دیکھتا ہوں۔ مجھے واقعی بہت خوشی ہورہی ہے کہ آپ نے اتنی توجہ دی میرے الفاظ پر! :)
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%92-%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA-%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A7%DA%BA-%DA%AF%D8%B2%D8%B1%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA.72141/