سید عاطف علی — اپریل 19، 2014 1:21 شام
ہوگئے گو شکستہ مرے بال و پر
آسماں کو ملی ان سے رفعت مگر
حاصل ِکاوش ِ اہل ِعلم و ہنر
جو ہوا بے خبر وہ ہوا با خبر
راز سینے میں ایسا ہے میرے جسے
ڈھونڈتے ہیں شب و روز شمس و قمر
زہد ِ زاہد رہا قیدِ دستار میں
قیس و فرہاد و وامق ہوے در بدر
آبلوں سے جنوں کو ملا حوصلہ
کتنی ہی منزلیں بن گئیں رہگزر
گفتگو تھی تصور میں تجھ سے فقط
ہمنوا ہوگئے کیوں یہ برگ و شجر
فرصتِ زندگی کا تماشا یہی
غور سے دیکھ لے کو ئی رقص ِشرر
ہو صدائے سگا ں گو وفا کاشعار
ہے فقیری کا مشرب مگر درگزر
نایاب — اپریل 19، 2014 2:55 شام
واہہہہہہہہہہہ
بہت خوب
گفتگو تھی تصور میں تجھ سے فقط
ہمنوا ہوگئے کیوں یہ برگ و شجر
سید عاطف علی — اپریل 19، 2014 3:25 شام
واہہہہہہہہہہہ
بہت خوب
گفتگو تھی تصور میں تجھ سے فقط
ہمنوا ہوگئے کیوں یہ برگ و شجر
بہت آداب ۔ممنون ہوں نایاب بھائی ۔
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 19، 2014 4:32 شام
حاصل ِکاوش ِ اہل ِعلم و ہنر
جو ہوا بے خبر وہ ہوا با خبر
بہت ہی عمدہ غزل ہے ماشاءاللہ ، ہر شعر لاجواب ، بہت سی داد قبول فرمائیے۔
ابن رضا — اپریل 23، 2014 8:51 شام
کمال است.بہت سی داد
الف عین — اپریل 24، 2014 2:15 صبح
واہ، اچھی غزل ہے
سید عاطف علی — اپریل 24، 2014 7:20 صبح
پذیرائی پر بہت ممنون ہوں اعجاز بھائی اور رضا بھائی۔
سید عاطف علی — اپریل 24، 2014 4:35 شام
حاصل ِکاوش ِ اہل ِعلم و ہنر
جو ہوا بے خبر وہ ہوا با خبر
بہت ہی عمدہ غزل ہے ماشاءاللہ ، ہر شعر لاجواب ، بہت سی داد قبول فرمائیے۔
بہت شکریہ وآداب ۔سرسری بھیا ۔
ثامر شعور — اپریل 29، 2014 9:02 شام
بہت خوب عاطف صاحب۔بہت سی داد
سید عاطف علی — مئی 6، 2014 8:49 صبح
بہت خوب عاطف صاحب۔بہت سی داد
بہت شکریہ و آداب ثامر صاحب۔
محمد علم اللہ — مئی 6، 2014 9:02 صبح
واہ سبحان اللہ کیا بات ہے بھائی جان
زبردست ۔۔۔۔
زہد ِ زاہد رہا قیدِ دستار میں
قیس و فرہاد و وامق ہوے در بدر
سید عاطف علی — مئی 13، 2014 12:10 شام
واہ سبحان اللہ کیا بات ہے بھائی جان
زبردست ۔۔۔ ۔
زہد ِ زاہد رہا قیدِ دستار میں
قیس و فرہاد و وامق ہوے در بدر
آداب جناب۔
نوید خان — جولائی 20، 2016 11:20 صبح
واہ واہ بھائی سبحان اللہ۔ کیا ہی خوب غزل ہے۔ ڈھیروں داد۔
محمد وارث — جولائی 20، 2016 1:32 شام
لاجواب، کیا خوبصورت غزل ہے، واہ واہ واہ
محمد تابش صدیقی — جولائی 20، 2016 1:35 شام
بہت خوب عاطف بھائی
حاصل ِکاوش ِ اہل ِعلم و ہنر
جو ہوا بے خبر وہ ہوا با خبر
آبلوں سے جنوں کو ملا حوصلہ
کتنی ہی منزلیں بن گئیں رہگزر
گفتگو تھی تصور میں تجھ سے فقط
ہمنوا ہوگئے کیوں یہ برگ و شجر
کیا کہنے۔ بہت عمدہ
سید عاطف علی — جولائی 20، 2016 8:59 شام
واہ واہ بھائی سبحان اللہ۔ کیا ہی خوب غزل ہے۔ ڈھیروں داد۔
آداب و شکریہ نوید صاحب ،۔
ظہیراحمدظہیر — جولائی 26، 2016 12:31 صبح
واہ واہ !! بہت خوب
عاطف بھائی ! کیا بات ہے ! یہ آپ ہی کے مضامین ہیں ! بہت داد آپ کیلئے!!
یہ غزل پڑھوانے کیلئے نوید خان صاحب کا بہت شکریہ !
سید عاطف علی — جولائی 26، 2016 11:03 صبح
سپاس گزار ہوں ظہیر صاحب ۔ آپ کی حوصلہ افزائی سرمایہ ہے ۔۔۔
محمدابوعبداللہ — جولائی 26، 2016 11:48 صبح
بہت سی داد
نوید خان — جولائی 26، 2016 1:04 شام
یہ غزل پڑھوانے کیلئے نوید خان صاحب کا بہت شکریہ !
میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا محترم ظہیر صاحب!!
