میری ایک غزل ۔ہوگئے گو شکستہ مرے بال و پر

ظہیراحمدظہیر — جولائی 27، 2016 2:19 شام
میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا محترم ظہیر صاحب!! :)
بھئی آپ اپریل ۲۰۱۴ کی اس غزل کو ڈھونڈ کر سرِ فہرست لے آئے اور اس طرح ہمیں بھی پڑھنے کا موقع دیا ۔ اس لئے آپ کا شکریہ واجب ہوا ۔ :):):)
نوید خان
نوید خان — جولائی 27، 2016 2:35 شام
بھئی آپ اپریل ۲۰۱۴ کی اس غزل کو ڈھونڈ کر سرِ فہرست لے آئے اور اس طرح ہمیں بھی پڑھنے کا موقع دیا ۔ اس لئے آپ کا شکریہ واجب ہوا ۔ :):):)
نوید خان
آپ کے اس شکریہ کا بھی بہت شکریہ۔ اللہ پاک آپ کو صحت و سلامتی عطا کریں اور شاد و آباد رکھیں۔ آپ سب محترم اساتذہ کی وجہ سے ہی تو یہ محفل آباد ہے۔
ظہیراحمدظہیر — جولائی 27، 2016 2:45 شام
آپ کے اس شکریہ کا بھی بہت شکریہ۔ اللہ پاک آپ کو صحت و سلامتی عطا کریں اور شاد و آباد رکھیں۔ آپ سب محترم اساتذہ کی وجہ سے ہی تو یہ محفل آباد ہے۔
آپ بھی بہت استاد ہیں حضرت! :) شکریہ اور دعا کے فوراً بعد مجھ پر استاد ہونے کا الزام بھی لگادیا ۔ بھائی میں تو آپ ہی کی طرح شعر و ادب کا شائق ہوں ۔ بس عمر میں ذرا بڑا ہوں تو کیا ہوا ۔ انکل وغیرہ بیشک کہہ لیجئے مجھے لیکن اور کچھ نہ کہیئے ۔ :D
نوید خان — جولائی 27، 2016 2:54 شام
آپ بھی بہت استاد ہیں حضرت! :) شکریہ اور دعا کے فوراً بعد مجھ پر استاد ہونے کا الزام بھی لگادیا ۔ بھائی میں تو آپ ہی کی طرح شعر و ادب کا شائق ہوں ۔ بس عمر میں ذرا بڑا ہوں تو کیا ہوا ۔ انکل وغیرہ بیشک کہہ لیجئے مجھے لیکن اور کچھ نہ کہیئے ۔ :D
ایک قاری اور ادب کا مشتاق ہونے کے ناطے آپ جیسے محترم شاعروں کے اشعار سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ اسی ناطے آپ ہمارے ہر لحاظ سے استاد ہوئے اور استاد ہی رہیں گے۔ انکل تو اور بھی بہت ہیں لیکن استاد کی عزت و احترام کا ایک اپنا مقام ہے جس سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ :):):)
سید عاطف علی — جولائی 27، 2016 8:10 شام
لاجواب، کیا خوبصورت غزل ہے، واہ واہ واہ
انتہائی ممنون ہوں وارث بھائی۔
سید عاطف علی — اکتوبر 26، 2016 11:26 صبح
واہ واہ !! بہت خوب عاطف بھائی ! کیا بات ہے ! یہ آپ ہی کے مضامین ہیں ! بہت داد آپ کیلئے!!
یہ غزل پڑھوانے کیلئے نوید خان صاحب کا بہت شکریہ !
ظہیر بھائی آپ کی محبت و شفقت کا کوئی جواب نہیں۔
محمداحمد — اکتوبر 26، 2016 1:41 شام
واہ واہ خوبصورت اشعار !
حیرت ہے کہ یہ غزل ہم نے اب دیکھی!
لاریب مرزا — اکتوبر 26، 2016 2:05 شام
بہت عمدہ!!
سید عاطف علی — اکتوبر 29، 2016 7:49 صبح
واہ واہ خوبصورت اشعار !
حیرت ہے کہ یہ غزل ہم نے اب دیکھی!
آداب محمد احمد بھائی ۔ آپ کو پسند آئی ۔ سو کاوش وصول ہائی ۔ہمیشہ شاد رہیں ۔
علی امان — اکتوبر 30، 2016 11:31 صبح
واہ! واہ!
میں آپ کی صلاحیت سے متاثر ہوا۔
سید عاطف علی — نومبر 2، 2016 12:37 شام
واہ! واہ!
میں آپ کی صلاحیت سے متاثر ہوا۔
بہت شکریہ و آداب علی امان صاحب۔
ام عبدالوھاب — اپریل 13، 2020 2:54 صبح
ہوگئے گو شکستہ مرے بال و پر
آسماں کو ملی ان سے رفعت مگر
حاصل ِکاوش ِ اہل ِعلم و ہنر
جو ہوا بے خبر وہ ہوا با خبر
راز سینے میں ایسا ہے میرے جسے
ڈھونڈتے ہیں شب و روز شمس و قمر
زہد ِ زاہد رہا قیدِ دستار میں
قیس و فرہاد و وامق ہوے در بدر
آبلوں سے جنوں کو ملا حوصلہ
کتنی ہی منزلیں بن گئیں رہگزر
گفتگو تھی تصور میں تجھ سے فقط
ہمنوا ہوگئے کیوں یہ برگ و شجر
فرصتِ زندگی کا تماشا یہی
غور سے دیکھ لے کو ئی رقص ِشرر
ہو صدائے سگا ں گو وفا کاشعار
ہے فقیری کا مشرب مگر درگزر
ام عبدالوھاب — اپریل 13، 2020 2:55 صبح
راز سینے میں ایسا ہے میرے جسے
ڈھونڈتے ہیں شب و روز شمس و قمر
واہ واہ،،،،،،، پوری غزل کا ہر شعر لاجواب
فاخر رضا — اپریل 13، 2020 3:08 صبح
ظہیراحمدظہیر
ایک دفعہ اور شکریہ بنتا ہے
بہت عمدہ
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 13، 2020 8:34 صبح
سبحان اللہ، بہت خوب۔ ایک لمحے کو ایسا لگا کہ اقبالؔ کا کلام پڑھ رہا ہوں :)
دعاگو،
راحلؔ۔
سید عاطف علی — اپریل 13، 2020 9:16 صبح
ظہیراحمدظہیر
ایک دفعہ اور شکریہ بنتا ہے
بہت عمدہ
شکریہ فاخر رضا بھائی ۔آداب ۔سلامت رہیں ۔
سید عاطف علی — اپریل 13، 2020 9:24 صبح
سبحان اللہ، بہت خوب۔ ایک لمحے کو ایسا لگا کہ اقبالؔ کا کلام پڑھ رہا ہوں :)
دعاگو،
راحلؔ۔
بہت شکریہ محمّد احسن سمیع :راحل: بھائی ممنون ہوں فیاضانہ پذیرائی پہ ۔سلامت رہیں ۔
نیرنگ خیال — اپریل 13، 2020 10:07 صبح
زہد ِ زاہد رہا قیدِ دستار میں
قیس و فرہاد و وامق ہوے در بدر
واہ۔۔۔ کیا خوب غزل ہے۔
میں کہنے آیا تھا کہ صرف ایک غزل۔۔۔۔ لیکن پھر اندازہ ہوا کہ اس دور میں شامل کی گئی ہے جب ایک غزل کا ہی رواج تھا۔ چاہے سنانے والی ہو یا سنائے جانے والی ۔۔۔۔۔
پس نوشت: کچھ اشعار کے بارے میں راقم کو یہ گماں ہے کہ عام قاری کی ان کے مفہوم تک رسائی ممکن نہ ہوسکے گی۔ اگر ایسا ہے تو یہ خاکسار عام زبان میں مفہوم سب تک پہنچانے کا ذمہ اپنے کاندھوں پر لینے کو تیار ہے۔
نیرنگ خیال — اپریل 13، 2020 10:12 صبح
حیرت ہے کہ یہ غزل ہم نے اب دیکھی!
حالانکہ "غزل" پر آپ کی گہری نگاہ ہے۔
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 13، 2020 10:13 صبح
پس نوشت: کچھ اشعار کے بارے میں راقم کو یہ گماں ہے کہ عام قاری کی ان کے مفہوم تک رسائی ممکن نہ ہوسکے گی۔ اگر ایسا ہے تو یہ خاکسار عام زبان میں مفہوم سب تک پہنچانے کا ذمہ اپنے کاندھوں پر لینے کو تیار ہے۔

شاعر کی جانب سے اجازت ملے نہ ملے، آپ اپنا کام کر گزرئیے۔ نیک کام میں صلے کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ ویسے بھی ایک زمانہ ہوا اردو محفل پر کسی شاعر کی غزل کی تشریح نہیں کی گئی۔ اس روایت کو زندہ کردیجیے، للہ!!!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%94%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A6%DB%92-%DA%AF%D9%88-%D8%B4%DA%A9%D8%B3%D8%AA%DB%81-%D9%85%D8%B1%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D9%84-%D9%88-%D9%BE%D8%B1.73652/page-2