میں تجھے یار باندازِ دگر چاہتا ہوں (الزبتھ بیرٹ براؤننگ سے ماخوذ) ۔ فاتح الدین فاتح

لئیق احمد — مارچ 18، 2014 7:20 صبح
کلام سراہنے پر شکریہ جناب۔۔۔
ویسے اتنے عرصے میں ہماری اردو پر "گرفت" آپ کی نظروں سے کیسے پوشیدہ رہی؟ :laughing:
آپ کو اتنا پڑھنے کا موقع نہیں ملا اس لئے۔
فاتح — مارچ 18، 2014 7:22 صبح
آپ کو اتنا پڑھنے کا موقع نہیں ملا اس لئے۔
برادرم، ہماری "نثر" تو پڑھتے ہی رہے ہیں آپ لیکن نظم سے تعارف نہیں ہوا۔ :laughing:
لئیق احمد — مارچ 18، 2014 7:22 صبح
سب کچھ بتا دیں کیا؟ ;)
کچھ باتیں پردے میں رہنے کا بھی اپنا ہی مزا ہے۔ :)
ساقی۔ — مارچ 18، 2014 7:25 صبح

ارے آپ تو روحانیت بھی جانتے ہیں ۔یا ہمزاد قابو کیا ہوا ہے؟:)
لئیق احمد — مارچ 18، 2014 7:29 صبح
برادرم، ہماری "نثر" تو پڑھتے ہی رہے ہیں آپ لیکن نظم سے تعارف نہیں ہوا۔ :laughing:
آپنے اپنی " نثر " میں اپنی اردو دانی کی قوت کا اتنا اظہار نہیں کیا تھا۔
فاتح — مارچ 18، 2014 7:49 صبح
ارے آپ تو روحانیت بھی جانتے ہیں ۔یا ہمزاد قابو کیا ہوا ہے؟:)
کون جانے۔۔۔ ہمزاد ہم نے قابو کیا ہوا ہے یا ہمزاد نے ہمیں۔۔۔ ہاہاہاہاہاہا
لئیق احمد — مارچ 18، 2014 7:57 صبح
کون جانے۔۔۔ ہمزاد ہم نے قابو کیا ہوا ہے یا ہمزاد نے ہمیں۔۔۔ ہاہاہاہاہاہا
آپنے نے مذاق مذاق میں ایک بہت تلخ حقیقت بیان کردی۔
اکثر لوگ اپنے ہمزاد کےہی قابو میں رہتے ہیں۔ :(
جیہ — مارچ 18، 2014 8:14 صبح
میں تجھے یار باندازِ دگر چاہتا ہوں
(الزبتھ بیرٹ براؤننگ سے ماخوذ)
میں تجھے یار باندازِ دگر چاہتا ہوں
تیری دیوارِ حرم میں کوئی در چاہتا ہوں
نالۂ شعر میں آثارِ اثر چاہتا ہوں
گو ہوں درماندہ مگر دستِ ہنر چاہتا ہوں
بے کراں ایک سمندر ہے محبت میری
چار اطراف میں اعجازِ اثر چاہتا ہوں
جسم کی حد سے پرے روح کی منزل سے بعید
تیری ہی ذات میں تا حد نظر چاہتا ہوں
روز مرّہ کی ضرورت کی طرح صبح و مسا
میں تجھے مثلِ چراغ اور سحر چاہتا ہوں
عالمِ تیرگی میں تیرے بدن کی شمعیں
مثلِ تابانیِ خورشید و سحر چاہتا ہوں
زیست کی تیرگی میں اے کہ مری مشعلِ جاں
شبِ پر نور و جہاں تاب سحر چاہتا ہوں
کسی کھوئی ہوئی معصوم محبت کی طرح
ہر اک انجام سے بے خوف و خطر چاہتا ہوں
جبر کی قید میں پامردی و بیباکی سے
اپنی معصوم دعاؤں کا ثمر چاہتا ہوں
چاہتا ہوں کہ ہر اک ڈال پہ ہوں برگ و ثمر
اور پرندوں سے بھی آباد شجر چاہتا ہوں
گر خدا چاہے تو چاہوں میں تجھے بعد الموت
یوں نہیں ہے کہ فقط زندگی بھر چاہتا ہوں
(فاتح الدین فاتح)​
واہ بھئی واہ۔ کیا خوب غزل ہے ۔ لا جواب
ویسے مصرعہ اولیٰ کو پڑھ کر اس غزل کی تشریح کرنے کو جی للچا رہا ہے :)
فاتح — مارچ 18، 2014 8:47 صبح
واہ بھئی واہ۔ کیا خوب غزل ہے ۔ لا جواب
ویسے مصرعہ اولیٰ کو پڑھ کر اس غزل کی تشریح کرنے کو جی للچا رہا ہے :)
شکریہ بہن جی۔۔۔
آپ بصد شوق "تشریح" فرمائیں۔۔۔ ہم منتظر ہیں۔ :)
خالد محمود چوہدری — مارچ 18، 2014 8:50 صبح
میں تجھے یار باندازِ دگر چاہتا ہوں
(الزبتھ بیرٹ براؤننگ سے ماخوذ)
میں تجھے یار باندازِ دگر چاہتا ہوں
تیری دیوارِ حرم میں کوئی در چاہتا ہوں
نالۂ شعر میں آثارِ اثر چاہتا ہوں
گو ہوں درماندہ مگر دستِ ہنر چاہتا ہوں
بے کراں ایک سمندر ہے محبت میری
چار اطراف میں اعجازِ اثر چاہتا ہوں
جسم کی حد سے پرے روح کی منزل سے بعید
تیری ہی ذات میں تا حد نظر چاہتا ہوں
روز مرّہ کی ضرورت کی طرح صبح و مسا
میں تجھے مثلِ چراغ اور سحر چاہتا ہوں
عالمِ تیرگی میں تیرے بدن کی شمعیں
مثلِ تابانیِ خورشید و سحر چاہتا ہوں
زیست کی تیرگی میں اے کہ مری مشعلِ جاں
شبِ پر نور و جہاں تاب سحر چاہتا ہوں
کسی کھوئی ہوئی معصوم محبت کی طرح
ہر اک انجام سے بے خوف و خطر چاہتا ہوں
جبر کی قید میں پامردی و بیباکی سے
اپنی معصوم دعاؤں کا ثمر چاہتا ہوں
چاہتا ہوں کہ ہر اک ڈال پہ ہوں برگ و ثمر
اور پرندوں سے بھی آباد شجر چاہتا ہوں
گر خدا چاہے تو چاہوں میں تجھے بعد الموت
یوں نہیں ہے کہ فقط زندگی بھر چاہتا ہوں
(فاتح الدین فاتح)​

شاندار، بہت شاندار
فاتح — مارچ 18، 2014 9:03 صبح
شاندار، بہت شاندار
بہت شکریہ جناب
عائشہ عزیز — مارچ 18، 2014 9:40 صبح
واہ واہ! کیا غزل ہے ممنون بھیا :p
فاتح — مارچ 18، 2014 10:33 صبح
واہ واہ! کیا غزل ہے ممنون بھیا :p
شکریہ شکریہ۔۔۔ تم تو بہت پہنچی ہوئی ہستی ہو بیٹا۔۔۔ یہ راز تو اب کھلا ہے مجھ پر۔۔ ۔ہاہاہا
کہیں صدرِ پاکستان نے سن لیا تو اس نے پکڑوا دینا ہے مجھے کہ میرے نام کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ :laughing:
عائشہ عزیز — مارچ 18، 2014 10:45 صبح
شکریہ شکریہ۔۔۔ تم تو بہت پہنچی ہوئی ہستی ہو بیٹا۔۔۔ یہ راز تو اب کھلا ہے مجھ پر۔۔ ۔ہاہاہا
کہیں صدرِ پاکستان نے سن لیا تو اس نے پکڑوا دینا ہے مجھے کہ میرے نام کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ :laughing:
میں پہنچی ہوئی ہستی ہوں یہ راز تو مجھ پر بھی ابھی کھلا ہے بھیا :rollingonthefloor:
آپ خود ہی تو سب کو کہے جا رہے ہیں کہ "میں ممنون ہوں " تو میں نے سوچا اس سے پہلے کہ آپ ممنون بنیں میں خود ہی آپ کو ممنون بنا دیتی ہوں :p
فاتح — مارچ 18، 2014 10:49 صبح
میں پہنچی ہوئی ہستی ہوں یہ راز تو مجھ پر بھی ابھی کھلا ہے بھیا :rollingonthefloor:
آپ خود ہی تو سب کو کہے جا رہے ہیں کہ "میں ممنون ہوں " تو میں نے سوچا اس سے پہلے کہ آپ ممنون بنیں میں خود ہی آپ کو ممنون بنا دیتی ہوں :p
ممنون "ہوں" کا واؤ مجہول بھی تو ہو سکتا ہے۔۔۔ تم اسے معروف پڑھ رہی ہواور ہو سکتا ہے ہم نے ما قبل ضمہ خالص نہ لکھی ہو اور یوں یہ فعل امر بن گیا ہو۔
یعنی ہم دوسروں سے کہہ رہے ہوں کہ آپ ممنون ہوں (ہو جائیں)۔ :rollingonthefloor:
عائشہ عزیز — مارچ 18، 2014 10:53 صبح
ممنون "ہوں" کا واؤ مجہول بھی تو ہو سکتا ہے۔۔۔ تم اسے معروف پڑھ رہی ہواور ہو سکتا ہے ہم نے ما قبل ضمہ خالص نہ لکھی ہو اور یوں یہ فعل امر بن گیا ہو۔
یعنی ہم دوسروں سے کہہ رہے ہوں کہ آپ ممنون ہوں (ہو جائیں)۔ :rollingonthefloor:
جی جی ۔۔یہ ساری مشکل مشکل باتیں تو آپ کو میں نے ہی سکھائی تھیں ناں بھیا۔۔ یاد ہے؟:rollingonthefloor:
فاتح — مارچ 18، 2014 10:57 صبح
جی جی ۔۔یہ ساری مشکل مشکل باتیں تو آپ کو میں نے ہی سکھائی تھیں ناں بھیا۔۔ یاد ہے؟:rollingonthefloor:
بالکل بالکل سو فیصد متفق :rollingonthefloor:
اور مجھے سکھا کر تم خود بھول گئیں :rollingonthefloor:
عائشہ عزیز — مارچ 18، 2014 10:58 صبح
بالکل بالکل سو فیصد متفق :rollingonthefloor:
اور مجھے سکھا کر تم خود بھول گئیں :rollingonthefloor:
بس کیا کریں اب بوڑھے ہوں گئے ہیں ہم۔۔۔آخر کو استاد کس کے ہیں :rollingonthefloor:
فاتح — مارچ 18، 2014 11:08 صبح
بس کیا کریں اب بوڑھے ہوں گئے ہیں ہم۔۔۔ آخر کو استاد کس کے ہیں :rollingonthefloor:
نہیں نہیں نہیں تم اگر بوڑھی ہو گئیں تو میں تو مہا بوڑھاہوں :rollingonthefloor:
عائشہ عزیز — مارچ 18، 2014 11:12 صبح
نہیں نہیں نہیں تم اگر بوڑھی ہو گئیں تو میں تو مہا بوڑھاہوں :rollingonthefloor:
لیکن استانی تو میں ہوں ناں بھیا
اور ویسے بھی اب "بھول جانے" کا کوئی نہ کوئی بہانہ تو بنانا ہی ہے :rollingonthefloor:

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92-%DB%8C%D8%A7%D8%B1-%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2%D9%90-%D8%AF%DA%AF%D8%B1-%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA-%D8%A7%D9%84%D8%B2%D8%A8%D8%AA%DA%BE-%D8%A8%DB%8C%D8%B1%D9%B9-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A4%D9%86%D9%86%DA%AF-%D8%B3%DB%92-%D9%85%D8%A7%D8%AE%D9%88%D8%B0-%DB%94-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD-%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD.72888/page-3