نظم ۔ منزل تمھاری ہے ۔ محمد احمد

ظہیراحمدظہیر — دسمبر 21، 2015 2:35 شام
یقیں سے عاری ہو کر
منزلوں کی سمت چلنے سے
کبھی منزل نہیں ملتی
کبھی کنکر کے جتنے حوصلے والوں
سے بھاری سل نہیں ہلتی

بہت خوب احمد بھائی ! اچھا ترجمہ ہے ۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ ۔ شاد و آباد رہیئے ۔
محمداحمد — جنوری 6، 2016 10:54 صبح
بہت خوب احمد بھائی ! اچھا ترجمہ ہے ۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ ۔ شاد و آباد رہیئے ۔

بہت شکریہ ظہیر بھائی !
شاد آباد رہیے۔ :)
فرحت کیانی — جنوری 6، 2016 1:35 شام
واہ۔
یہ نظم تو کافی عرصہ پہلے پوسٹ ہوئی تھی اور میں پڑھنے سے محروم رہی۔
حسب روایت ایک اور خوبصورت کلام۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ!
محمداحمد — جنوری 7، 2016 5:59 صبح
واہ۔
یہ نظم تو کافی عرصہ پہلے پوسٹ ہوئی تھی اور میں پڑھنے سے محروم رہی۔
حسب روایت ایک اور خوبصورت کلام۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ!

اچھا!
ہم تو اسے آپ کی چستی پر محمول کر رہے تھے کہ آپ نے اتنی جلدی یہ نظم دیکھ لی۔ :) :) :)
شکریہ۔ :) :) :)
فرحت کیانی — جنوری 12، 2016 1:58 شام
اچھا!
ہم تو اسے آپ کی چستی پر محمول کر رہے تھے کہ آپ نے اتنی جلدی یہ نظم دیکھ لی۔ :) :) :)
شکریہ۔ :) :) :)
آپ نے ایسا کیسے سوچ لیا احمد؟ میں اس معاملے میں اصول و ضوابط کی خلاف ورزی کیسے کر سکتی ہوں بھلا۔
سارہ خان — جنوری 12، 2016 2:27 شام
بہت اچھی ۔۔ لاجواب ۔۔۔ :thumbsup2:
محمداحمد — جنوری 13، 2016 7:56 صبح
بہت اچھی ۔۔ لاجواب ۔۔۔ :thumbsup2:

شکریہ۔ :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D8%B8%D9%85-%DB%94-%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84-%D8%AA%D9%85%DA%BE%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%DB%81%DB%92-%DB%94-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF.59029/page-4