منزل تمھاری ہے
(مرکزی خیال ماخوذ)
اگر تم دل گرفتہ ہو
کہ تم کو ہار جانا ہے
تو پھر تم ہار جاؤ گے
اگر خاطر شکستہ ہو
کہ تم کچھ کر نہیں سکتے
یقیناً کر نہ پاؤ گے
یقیں سے عاری ہو کر
منزلوں کی سمت چلنے سے
کبھی منزل نہیں ملتی
کبھی کنکر کے جتنے حوصلے والوں
سے بھاری سل نہیں ہلتی
زمانے میں ہمیشہ کامیابی
اُن کے حصے میں ہی آتی ہے
جو اول دن سے اپنے ساتھ
اک عزمِ مصمّم لے کے چلتے ہیں
کہ جن کے دل میں عزم و حوصلہ اک ساتھ پلتے ہیں
اگر تم چاہتے ہو کامیاب و کامراں ہونا
تو بس رختِ سفر میں
تم یقین و عزم کی مشعل جلا رکھنا
سفر دشوار تر ہو
تب بھی ہمت، حوصلہ رکھنا
سفر آغاز جب کرنا
تو بس اتنا سمجھ لینا
جہاں میں کامیابی کی یقیں والوں سے یاری ہے
اگر تم بھی یقیں رکھو
تو پھر منزل تمھاری ہے۔
محمد احمدؔ
اس نظم کا مرکزی خیال انگریزی زبان کی ایک نظم (The Man Who Thinks He Can) سے لیا گیا ہے۔ یہ نظم مجھے بہت پسند ہے اور میں نے کوشش کی کہ اس کا ترجمہ کروں، لیکن مجھے لگا کہ شاید میں ترجمے کا حق ادا نہیں کر سکوں گا۔ اور شاید میں اس نظم کا من و عن منظوم ترجمہ کر بھی دیتا تو وہ شاید اردو زبان کے مزاج سے لگا نہیں کھاتا، سو میں نے اس نظم کا مرکزی خیال لے کر اپنی سی ایک کوشش کی ہے۔ انگریزی نظم بھی آپ کے مطالعے کے لئے پیش ہے۔