حسبِ معمول بہت عمدہ!
غزل کے بیچ میں اگر مطلع کی طرز کا شعر آئے تو اسے کیا کہیں گے؟
تقابلِ ردیفین کا سقم یہاں تو نہیں لاگو ہو گا؟
حرفِ تحسین کے لیے ممنون ہوں ، لا المیٰ صاحبہ!
تقابلِ ردیفین کا سقم تب واقع ہوتا ہے جب مصرعِ اول کے آخر میں صرف ردیف آجائے ۔ اگر مصرع اول میں ردیف کے ساتھ قافیہ بھی آئے تو وہ مطلع کہلائے گا ۔ کسی بھی غزل کے شروع میں آپ جتنے مطالع چاہیں لاسکتے ہیں ۔
میری یہ غزل دراصل دو غزلہ ہے۔ غزل اور دو غزلے میں کتنے کتنے اشعار ہونے چاہئیں اس بارے میں کوئی مطلق اصول موجود نہیں ہے ۔ عام روایتی خیال یہ ہے کہ غزل میں کم از کم پانچ یا سات اشعار ہونے چاہئیں لیکن ہم سب نے پانچ سے کم اشعار کی غزلیں بھی دیکھی ہیں۔ اسے طرح دو غزلے کے لیے روایتی طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ کم از کم سترہ اٹھارہ اشعار ہوں ورنہ دونوں مطلعے غزل کے شروع میں بطور مطلع اور مطلعِ ثانی رکھ کر تمام اشعار کو ایک ہی غزل کی صورت دینا چاہیئے ۔ لیکن یہ بھی کوئی مطلق اصول نہیں ۔ میں نے اپنی صوابدید پر ان گیارہ اشعار کو دوغزلے کی صورت میں ترتیب دیا ہے اور اس میں کوئی قباحت نہیں ۔