ظہیر بھائی!
انتہائی لطیف و حساس جذبوں ترجمانی اور زبان میں روانی تو آپ کی وہ خاص بات جو ذہن کو مسحور کرتی ۔سچ ظہیر بھائی ہم کو بالکل اچھا لکھنا نہیں آتا پھر دل چاہتا ہے دل بھر کے داد دی جائے۔سلامت رہیے۔۔۔۔
ظہیر بھائی!
آجکل جلدی بوڑھے ہونے کا ٹرینڈ ہے!!!
سیما علی
ارے بٹیا ہماری تو کوشش رہتی ہے تازہ دم رہیں چاہے گوڈے گٹے رہ ہی کیوں نہ جائیں آپ تو ہماری بیٹی شہزادی ہیں۔۔۔
اور ہم ہیں ابھی سے دن گنتے ہیں۔۔۔ وہ کیا شعر ہے
میری کوئی اوقات تو مشورہ دینے کی نہیں وُہ بھی محترم ظہیر صاحب کو لیکن پھر بھی جان کی امان مانگ کر ایک گھسا پٹا مشورے دینے کی ہمت کر رہا ہوں۔
بالکل درست کہا ۔ بیس سال پرانی ہے تو جوان ہی کہلائے گی ۔
آپ سے یہ دوسری دفعہ داد وصول رہا ہوں ۔
اور وہ جو میں نے اتنا سارا زرِ کثیر دے کر یہ سب کچھ ذوالقرنین سے لکھوایا ہے اس کا کیا ہو گا ۔ اگر اس کی وصولی کا کچھ انتظام ہوجائے تو میں بھجوادیتا ہوں ۔
جاسمن دِیدی ! یہ نظم آپ کی ہوئی ۔ میری طرف سے پوری اجازت ہے جہاں چاہیں اپنے نام سے سنادیں ۔
مقبول ، آپ نے حد کراس نہیں کی بلکہ اپنی شامت کو آواز دی ہے ۔ میں کل ہی اٹھارہ غزلیں ترنم سے ریکارڈ کرواکے آپ کو سننے کے لئے بھجوارہا ہوں ۔ غزلیں تو بحرِ متشامت مدقوق مضاعف میں ہیں لیکن ترنم خالص میری اپنی ایجاد ہے ۔ میں نے مالکونس میں بھیم پلاس اور جے جے ونتی کی آمیزش کرکے اس میں ایمن کلیان کا تڑکا لگایا ہے ۔ بس کہیں کہیں مالکونس کو جھنجھوٹی اور راگیشری سے بدل دیا ہے ۔ امید ہے کہ یہ ترنم آپ کو نہ صرف مست کردے گا بلکہ "مست" بنادے گا ۔
مقبول بھائی ، مزاح برطرف ۔ آپ کی محبت بھری مخلصانہ تجویز پر بہت ممنو ن ہوں ۔ اللہ کریم آپ کو خوش رکھے ، فلاحِ دارین عطا فرمائے ۔ آمین ۔ آپ محبتی آدمی ہیں ۔
یہ تو ہو گئی صاحب مراسلہ کی سزا۔۔۔ ہمیں بس لکھی ہوئی شکل میں ربط وغیرہ ہی دے دیں

بہت بہت شکریہ سیما آپا ! خوشی ہوئی کہ آپ کو نظم پسند آئی ۔ یہ ان دنوں کی شاعری ہے کہ تقریباً ہر روز ہی شعر لکھے جاتے تھے ۔ اب تو شاعری سے نیم ریٹائر ہوگئے ۔
اللہ کا شکر ہے کہ میں فیشن اور ٹرینڈ وغیرہ کو فالو نہیں کرتا ۔