"کل کی طرح" غزل

امجد علی راجا — مارچ 5، 2013 11:01 صبح
وقتِ رخصت ہمیں پھر روک ذرا کل کی طرح​
آج پھر مانگ تو بارش کی دعا کل کی طرح​
آج پھر ہو نہ سکے کل کی طرح محوِ سفر​
آج پھر یار کی آئی ہے صدا کل کی طرح​
قیدِ ہستی سے رہائی نہ ملی آج ہمیں​
آج پھر ہم نے ہے کاٹی یہ سزا کل کی طرح​
کل کا وعدہ تھا سو ٹلتا ہی گیا کل کل پر​
کل نے کل سے مجھے بے کل ہے کیا کل کی طرح​
آج پھر رو کے خدا سے تجھے مانگوں گا مگر​
جانِ راجا تُو مجھے یاد تو آ کل کی طرح​
افلاطون الشفاء الف عین الف نظامی @امجدمیانداد
@امرشہزاد باباجی ذوالقرنین شمشاد شیزان مقدس محمد احمد مہ جبین نیرنگ خیال نیلم کاشف عمران یوسف-2 @سیداِجلاؔلحسین @سیدزبیر @شوکتپرویز @شہزاداحمد عمراعظم @عینیشاہ @محسنوقارعلی @محمداسامہسَرسَری @محمدبلالاعظم @محمدحفیظالرحمٰن @محمدوارث @محمدیعقوبآسی
محمد بلال اعظم — مارچ 5، 2013 11:21 صبح
کل کا وعدہ تھا سو ٹلتا ہی گیا کل کل پر
کل نے کل سے مجھے بے کل ہے کیا کل کی طرح
کل کل کی تکرار بہت مزہ دے رہی ہے۔
بہت خوب غزل ہے۔
داد قبول کریں۔
امجد علی راجا — مارچ 5، 2013 11:21 صبح
خوب غزل کہی امجد علی راجا صاحب۔ مجھے اگر شعر کہنے کے لیے بلایا ہے تو یہ رہی میری غزل، آپ کی زمین میں:
آج بھی در سے ہی وہ لوٹ گیا، کل کی طرح​
آج میں پھر نہ اسے روک سکا، کل کی طرح​
آج کی رات پھر اک بار اندھیرے ہوں گے​
بجھ گیا پھر مرا مٹی کا دیا، کل کی طرح​

چاند نکلا بھی، چڑھا بھی، نہ مگر وہ آیا​
چاند پھر لوٹ گیا، ڈوب گیا، کل کی طرح​
آج پھر وعدہ کیا ملنے کا، اور توڑ دیا​
یہ دیا میری وفاؤں کا صلہ، کل کی طرح​
کاشفِ خستہ جگر، کس لیے یوں رو رو کر​
پھر کیا تو نے نیا حشر بپا، کل کی طرح​
امجد علی راجا — مارچ 5، 2013 11:23 صبح
کل کا وعدہ تھا سو ٹلتا ہی گیا کل کل پر
کل نے کل سے مجھے بے کل ہے کیا کل کی طرح
کل کل کی تکرار بہت مزہ دے رہی ہے۔
بہت خوب غزل ہے۔
داد قبول کریں۔
شکریہ محمد بلال بھیا!
امجد علی راجا — مارچ 5، 2013 11:33 صبح
خوب غزل کہی امجد علی راجا صاحب۔ مجھے اگر شعر کہنے کے لیے بلایا ہے تو یہ رہی میری غزل، آپ کی زمین میں:
آج بھی در سے ہی وہ لوٹ گیا، کل کی طرح​
آج میں پھر نہ اسے روک سکا، کل کی طرح​
آج کی رات پھر اک بار اندھیرے ہوں گے​
بجھ گیا پھر مرا مٹی کا دیا، کل کی طرح​

چاند نکلا بھی، چڑھا بھی، نہ مگر وہ آیا​
چاند پھر لوٹ گیا، ڈوب گیا، کل کی طرح​
آج پھر وعدہ کیا ملنے کا، اور توڑ دیا​
یہ دیا میری وفاؤں کا صلہ، کل کی طرح​
کاشفِ خستہ جگر، کس لیے یوں رو رو کر​
پھر کیا تو نے نیا حشر بپا، کل کی طرح​
کاشفِ خستہ جگر پھر سے مقابل ٹھہرے
آج پھر ان کو نہ میں روک سکا کل کی طرح
آپ خاموش رہیں، شعر نہ کوئی جھاڑیں
تنگ آکر میں کہیں دوں نا اٹھا، کل کی طرح :angry:
:LOL: :LOL: :LOL: :LOL:
(کاشف بھیا! اگر مزاق پسند نہ ہو تو پلیز بتا دیں)
نامعلوم اول — مارچ 5، 2013 11:40 صبح
کاشفِ خستہ جگر پھر سے مقابل ٹھہرے
آج پھر ان کو نہ میں روک سکا کل کی طرح
آپ خاموش رہیں، شعر نہ کوئی جھاڑیں
تنگ آکر میں کہیں دوں نا اٹھا، کل کی طرح :angry:
:LOL: :LOL: :LOL: :LOL:
(کاشف بھیا! اگر مزاق پسند نہ ہو تو پلیز بتا دیں)
بہت خوب۔ بہت خوب۔ مزاح ایسا نرم نرم رہے تو بڑا مزہ آتا ہے۔ یہی مزے لینے تو آپ اور چند دوسرے احباب کے دھاگوں میں آتا ہوں۔ ورنہ دھاگے تو اور بھی بڑے ہیں!
محسن وقار علی — مارچ 5، 2013 11:41 صبح
نسخ میں پڑھنا مشکل ہے۔اس لیے نستعلیق میں پوسٹ کر رہا ہوں
وقتِ رخصت ہمیں پھر روک ذرا کل کی طرح
آج پھر مانگ تو بارش کی دعا کل کی طرح
آج پھر ہو نہ سکے کل کی طرح محوِ سفر
آج پھر یار کی آئی ہے صدا کل کی طرح
قیدِ ہستی سے رہائی نہ ملی آج ہمیں
آج پھر ہم نے ہے کاٹی یہ سزا کل کی طرح
کل کا وعدہ تھا سو ٹلتا ہی گیا کل کل پر
کل نے کل سے مجھے بے کل ہے کیا کل کی طرح
آج پھر رو کے خدا سے تجھے مانگوں گا مگر
جانِ راجا تُو مجھے یاد تو آ کل کی طرح
سید شہزاد ناصر — مارچ 5، 2013 11:42 صبح
راجا جی بہت خوب غزل کہی :)
قیدِ ہستی سے رہائی نہ ملی آج ہمیں
آج پھر ہم نے ہے کاٹی یہ سزا کل کی طرح
درج ذیل شعر بہت پسند آیا​
اللہ کرے زورِ قلم زیادہ​
محسن وقار علی — مارچ 5، 2013 11:45 صبح
آج پھر ہو نہ سکے کل کی طرح محوِ سفر
آج پھر یار کی آئی ہے صدا کل کی طرح
قیدِ ہستی سے رہائی نہ ملی آج ہمیں
آج پھر ہم نے ہے کاٹی یہ سزا کل کی طرح
کل کا وعدہ تھا سو ٹلتا ہی گیا کل کل پر
کل نے کل سے مجھے بے کل ہے کیا کل کی طرح
آج پھر رو کے خدا سے تجھے مانگوں گا مگر
جانِ راجا تُو مجھے یاد تو آ کل کی طرح
واہ کیا بات ہے راجا بھیا آپ کی۔:applause:
محسن وقار علی — مارچ 5، 2013 11:49 صبح
آج بھی در سے ہی وہ لوٹ گیا، کل کی طرح
آج میں پھر نہ اسے روک سکا، کل کی طرح
آج کی رات پھر اک بار اندھیرے ہوں گے
بجھ گیا پھر مرا مٹی کا دیا، کل کی طرح
چاند نکلا بھی، چڑھا بھی، نہ مگر وہ آیا
چاند پھر لوٹ گیا، ڈوب گیا، کل کی طرح
آج پھر وعدہ کیا ملنے کا، اور توڑ دیا
یہ دیا میری وفاؤں کا صلہ، کل کی طرح
کاشفِ خستہ جگر، کس لیے یوں رو رو کر
پھر کیا تو نے نیا حشر بپا، کل کی طرح
بہت خوب۔ کاشف عمران بھائی:applause:
جیتے رہیئے:love:
امجد علی راجا — مارچ 5، 2013 11:50 صبح
بہت خوب۔ بہت خوب۔ مزاح ایسا نرم نرم رہے تو بڑا مزہ آتا ہے۔ یہی مزے لینے تو آپ اور چند دوسرے احباب کے دھاگوں میں آتا ہوں۔ ورنہ دھاگے تو اور بھی بڑے ہیں!
شکریہ برداشت کرنے کا
امجد علی راجا — مارچ 5، 2013 11:52 صبح
نسخ میں پڑھنا مشکل ہے۔اس لیے نستعلیق میں
شکریہ محسن وقار بھیا! ویسے فونٹ کہاں سے تبدیل کرتے ہیں؟
محسن وقار علی — مارچ 5، 2013 11:57 صبح
شکریہ محسن وقار بھیا! ویسے فونٹ کہاں سے تبدیل کرتے ہیں؟
دو طریقے ہیں
  1. مطلوبہ تحریر منتخب کرکے فونٹ کی ڈراپ ڈاؤن لسٹ میں سے نیا فونٹ منتخب کریں
  2. مطلوبہ تحریر منتخب کرکے سب سے اوپر دائیں جانب موجود "اریزر" کے بٹن پر کلک کریں۔اس سے تمام فارمیٹنگ ختم ہو جائے گی اور تحریر ڈیفالٹ فونٹ میں آ جائے گی
شوکت پرویز — مارچ 5، 2013 12:00 شام
قیدِ ہستی سے رہائی نہ ملی آج ہمیں
آج پھر ہم نے ہے کاٹی یہ سزا کل کی طرح
واہ امجد بھائی، کیا کہنے۔۔۔ سبحان اللہ
امجد علی راجا — مارچ 5، 2013 12:05 شام
واہ امجد بھائی، کیا کہنے۔۔۔ سبحان اللہ
شکریہ شوکت بھیا
شوکت پرویز — مارچ 5، 2013 12:05 شام
راجا جی بہت خوب غزل کہی :)
قیدِ ہستی سے رہائی نہ ملی آج ہمیں
آج پھر ہم نے ہے کاٹی یہ سزا کل کی طرح
درج ذیل شعر بہت پسند آیا​
اللہ کرے زورِ قلم زیادہ​
محترم سید شہزاد ناصر صاحب!
اگر آپ کو درج "ذیل" شعر پسند آیا ہے تو استاد داغ دہلوی کی تعریف کیجئے، یہ دھاگہ امجد بھائی کے لئے مخصوص ہے۔ آپ یہاں امجد بھائی کی غزل کی تعریف کریں، یوں دامن نہ چھڑائیں۔۔۔ ;)
سید شہزاد ناصر — مارچ 5، 2013 12:16 شام
محترم سید شہزاد ناصر صاحب!
اگر آپ کو درج "ذیل" شعر پسند آیا ہے تو استاد داغ دہلوی کی تعریف کیجئے، یہ دھاگہ امجد بھائی کے لئے مخصوص ہے۔ آپ یہاں امجد بھائی کی غزل کی تعریف کریں، یوں دامن نہ چھڑائیں۔۔۔ ;)
اللہ اللہ :)
آپ نے یہ صوفیوں والی باتیں کب سے شروع کر دیں
رمز اور کنائے کی دبیز دھند میں لپٹی ہوئی آپ کی بات اس کوتاہِ عقل کی سمجھ میں نہ آئی
کچھ وضاحت فرما دیں بندہ ممنون ہو گا
شوکت پرویز — مارچ 5، 2013 12:30 شام
اللہ اللہ :)
آپ نے یہ صوفیوں والی باتیں کب سے شروع کر دیں
رمز اور کنائے کی دبیز دھند میں لپٹی ہوئی آپ کی بات اس کوتاہِ عقل کی سمجھ میں نہ آئی
کچھ وضاحت فرما دیں بندہ ممنون ہو گا
سید شہزاد ناصر صاحب!
آپ نے "ذیل" شعر پسند آنے کی بات کہی، اور جبکہ امجد بھائی کا شعر تو "بالا" تھا۔ "ذیل" میں تو استاد داغ دہلوی کا مصرعہ "اللہ کرے زورِ کرم اور زیادہ" لکھا تھا آپ نے۔
تو آپ کی تعریف تو استاد داغ کے شعر کے لئے ہوئی نا۔۔۔ ;););););)
سید شہزاد ناصر — مارچ 5، 2013 12:48 شام
سید شہزاد ناصر صاحب!
آپ نے "ذیل" شعر پسند آنے کی بات کہی، اور جبکہ امجد بھائی کا شعر تو "بالا" تھا۔ "ذیل" میں تو استاد داغ دہلوی کا مصرعہ "اللہ کرے زورِ کرم اور زیادہ" لکھا تھا آپ نے۔
تو آپ کی تعریف تو استاد داغ کے شعر کے لئے ہوئی نا۔۔۔ ;););););)
بال کی کھال نکالنا تو کوئی آپ سے سیکھے :laughing3:
اصل میں فونٹ کی گڑ بڑ ہو گئی
کاپی کر کے نیچے پیسٹ کر دیا
اور آپ نے دُم پکڑ لی :laughing3:
مہ جبین — مارچ 5، 2013 12:56 شام
قیدِ ہستی سے رہائی نہ ملی آج ہمیں​
آج پھر ہم نے ہے کاٹی یہ سزا کل کی طرح​

واہ واہ بہت خوب امجد علی راجا
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D8%B7%D8%B1%D8%AD-%D8%BA%D8%B2%D9%84.60686/