ہر شے سے بڑھ کے جس کی وفاؤں کی چاہ کی

امجد علی راجا — اپریل 10، 2013 8:17 صبح
ہر شے سے بڑھ کے جس کی وفاؤں کی چاہ کی
آخر اسی نے زندگی میری تباہ کی
چاہت بھری ادا نہ سہی، بے رخی سہی
صد شکر اس نے ہم پہ بھی اپنی نگاہ کی
جب بھی گزر ہوا ترے دلشاد شہر سے
آنکھوں سے خاک چوم لی ہر ایک راہ کی
بے مثل شاہکار پہ کٹوا دیئے ہیں ہاتھ
ہائے یہ شان منصفی عالم پناہ کی
انسانیت کے جسم پہ ہر روز زخم نو
ہر روز گونجتی ہے صدا آہ آہ کی
آتی نہیں ہے راس ہمیں جانتے ہیں ہم
پھر بھی وفا سبھی سے کی اور بے پناہ کی
راجا مری ادا پہ تو مقتل بھی جھوم اٹھا
بے اختیار موت نے بھی واہ واہ کی
الف عین محمد یعقوب آسی امجد میانداد باباجی ذوالقرنین سید زبیر سید شہزاد ناصر شوکت پرویز شیزان عمراعظم متلاشی محسن وقار علی محمد اسامہ سَرسَری محمد بلال اعظم محمد خلیل الرحمٰن محمداحمد مزمل شیخ بسمل مقدس مہ جبین نایاب نیرنگ خیال نیلم یوسف-2 محمد وارث افلاطون فارقلیط رحمانی شہزاد احمد عینی شاہ نگار ف ساجد
مہ جبین — اپریل 10، 2013 8:22 صبح
بے مثل شاہکار پہ کٹوا دیئے ہیں ہاتھ
ہائے یہ شان منصفی عالم پناہ کی
انسانیت کے جسم پہ ہر روز زخم نو
ہر روز گونجتی ہے صدا آہ آہ کی
آتی نہیں ہے راس ہمیں جانتے ہیں ہم
پھر بھی وفا سبھی سے کی اور بے پناہ کی
بہت خوب ہے واہ امجد علی راجا
سید زبیر — اپریل 10، 2013 8:45 صبح
بہت خوب فن ہے راجا صاحب ، کبھی ہنسائیں کبھی رلائیں
بہت خوب
ہر شے سے بڑھ کے جس کی وفاوں کی چاہ کی
آخر اسی نے زندگی میری تباہ کی
شوکت پرویز — اپریل 10، 2013 8:45 صبح
بہت عمدہ راجا صاحب!
درج ذیل اشعار تو بہت ہی اچّھے ہیں۔
ہر شے سے بڑھ کے جس کی وفائوں کی چاہ کی
آخر اسی نے زندگی میری تباہ کی
جب بھی گزر ہوا ترے دلشاد شہر سے
آنکھوں سے خاک چوم لی ہر ایک راہ کی
بے مثل شاہکار پہ کٹوا دیئے ہیں ہاتھ
ہائے یہ شان منصفی عالم پناہ کی
راجا مری ادا پہ تو مقتل بھی جھوم اٹھا
بے اختیار موت نے بھی واہ اہ کی
ایک "و" رہ گیا ہے آخری شعر کے آخری مصرعہ میں، اس کی تدوین کر لیں۔
شکریہ۔۔۔
یوسف-2 — اپریل 10، 2013 9:25 صبح
انسانیت کے جسم پہ ہر روز زخم نو
ہر روز گونجتی ہے صدا آہ آہ کی
واہ واہ کیا خوب شعر ہے:great:
محمد یعقوب آسی — اپریل 10، 2013 9:48 صبح
ہر شے سے بڑھ کے جس کی وفائوں کی چاہ کی

بہت عمدہ! جناب امجد علی راجا صاحب۔
رسماً ’’ہمزہ + واو‘‘ کو یوں لکھتے ہیں: ’’ ؤ ‘‘ ۔۔۔ وفاؤں، آؤ، سناؤں، وغیرہ۔
نایاب — اپریل 10، 2013 2:11 شام
بہت اعلی راجہ صاحب
آتی نہیں ہے راس ہمیں جانتے ہیں ہم
پھر بھی وفا سبھی سے کی اور بے پناہ کی
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 10، 2013 2:24 شام
بہت عمدہ! جناب امجد علی راجا صاحب۔
رسماً ’’ہمزہ + واو‘‘ کو یوں لکھتے ہیں: ’’ ؤ ‘‘ ۔۔۔ وفاؤں، آؤ، سناؤں، وغیرہ۔

ایک "و" رہ گیا ہے آخری شعر کے آخری مصرعہ میں، اس کی تدوین کر لیں۔
شکریہ۔۔۔
جی تدوین کردی ہے
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 10، 2013 2:26 شام
بہت خوبصورت غزل ہے امجد علی راجا بھائی ، بہت داد قبول فرمائیے
فارقلیط رحمانی — اپریل 10، 2013 2:27 شام
ہائے میرے راجا!
آج بجا دیا باجا!
واقعی بہت خوب!دل کو چھو لینے والی، رونگٹےکھڑے کر دینے والی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محسن وقار علی — اپریل 10، 2013 4:06 شام
بہت خوب راجا بھائی:applause:
خاص کر یہ اشعار
ہر شے سے بڑھ کے جس کی وفائوں کی چاہ کی
آخر اسی نے زندگی میری تباہ کی
جب بھی گزر ہوا ترے دلشاد شہر سے
آنکھوں سے خاک چوم لی ہر ایک راہ کی
بے مثل شاہکار پہ کٹوا دیئے ہیں ہاتھ
ہائے یہ شان منصفی عالم پناہ کی
انسانیت کے جسم پہ ہر روز زخم نو
ہر روز گونجتی ہے صدا آہ آہ کی
آتی نہیں ہے راس ہمیں جانتے ہیں ہم
پھر بھی وفا سبھی سے کی اور بے پناہ کی
محسن وقار علی — اپریل 10، 2013 4:07 شام
مانو بچے
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 10، 2013 5:42 شام
بہت ہی خوب راجا بھائی!
الف عین — اپریل 11، 2013 7:03 صبح
بہت خوب امجد علی راجا کئی شعر پسند آئے۔
عمراعظم — اپریل 11، 2013 11:37 شام
راجا مری ادا پہ تو مقتل بھی جھوم اٹھا
بے اختیار موت نے بھی واہ اہ کی
واہ۔ امجد علی راجا صاحب
ایسے جاں نکالو ہو تم، تم سا ماہر کوئی نہیں
گردن کاٹ کے رکھ دینا تو ہر اک قاتل جانے ہے۔
ماہا عطا — اپریل 12، 2013 12:43 صبح
بہت خوب۔۔۔۔زبردست۔۔۔۔۔
بے مثل شاہکار پہ کٹوا دیئے ہیں ہاتھ
ہائے یہ شان منصفی عالم پناہ کی
انسانیت کے جسم پہ ہر روز زخم نو
ہر روز گونجتی ہے صدا آہ آہ کی
آتی نہیں ہے راس ہمیں جانتے ہیں ہم
پھر بھی وفا سبھی سے کی اور بے پناہ کی
سید شہزاد ناصر — اپریل 12، 2013 9:41 صبح
امجد علی راجا جی​
کچھ دن سے دل و دماغ یکسو نہیں تھا ایسے میں فوری طور پر تبصرہ نہ کر سکا کہ انصاف بھی کر پاؤں گا کہ نہیں خیر جگر لخت لخت کو مجتمع کر کے جو کچھ محسوس کیا حاضر ہے​
ہر شے سے بڑھ کے جس کی وفاؤں کی چاہ کی
آخر اسی نے زندگی میری تباہ کی
واہ واہ گویا جو بھی دشمن جاں ملا پختہ کار جفا ملا
چاہت بھری ادا نہ سہی، بے رخی سہی
صد شکر اس نے ہم پہ بھی اپنی نگاہ کی
کیا قناعت پسندی ہے کیا کہنے
جب بھی گزر ہوا ترے دلشاد شہر سے
آنکھوں سے خاک چوم لی ہر ایک راہ کی
گویا قیس کو دشت بھی راس ہے خوب ہے جناب
بے مثل شاہکار پہ کٹوا دیئے ہیں ہاتھ
ہائے یہ شان منصفی عالم پناہ کی
کیا کہنے واہ واہ الفاظ نہین اس کی تعریف کے لئے
انسانیت کے جسم پہ ہر روز زخم نو
ہر روز گونجتی ہے صدا آہ آہ کی
آہ آہ کی تکرار مزہ دے گئی جیو بھائی جیو
آتی نہیں ہے راس ہمیں جانتے ہیں ہم
پھر بھی وفا سبھی سے کی اور بے پناہ کی
کیا کہنے جناب گویا وفا کے ایوان سجا دئے
راجا مری ادا پہ تو مقتل بھی جھوم اٹھا
بے اختیار موت نے بھی واہ واہ کی
واہ جناب کیا بات ہےدست قاتل بھی جھوم اٹھا ہو گا
محمد بلال اعظم — اپریل 12، 2013 6:20 شام
نجانے کیوں مگر نوٹی فی کیشن ہی نہیں ملا ٹیگ کا۔
امجد علی راجہ بھائی کمال لکھا ہے اور آپ کی باقی غزلوں سے کچھ منفرد لگی ہے۔
بلاشبہ ایک بہت ہی حسین کاوش، جو دل کو لگی ہے۔
لاجواب
ڈھیرں داد
محمد علم اللہ — اپریل 12، 2013 6:39 شام
بدلا ہوا انداز اچھا لگا ۔
مبارکباد
امجد علی راجا — اپریل 15، 2013 10:13 صبح
بے مثل شاہکار پہ کٹوا دیئے ہیں ہاتھ
ہائے یہ شان منصفی عالم پناہ کی
انسانیت کے جسم پہ ہر روز زخم نو
ہر روز گونجتی ہے صدا آہ آہ کی
آتی نہیں ہے راس ہمیں جانتے ہیں ہم
پھر بھی وفا سبھی سے کی اور بے پناہ کی
بہت خوب ہے واہ امجد علی راجا
بہت بہت شکریہ مہ جبین باجی
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%D8%B1-%D8%B4%DB%92-%D8%B3%DB%92-%D8%A8%DA%91%DA%BE-%DA%A9%DB%92-%D8%AC%D8%B3-%DA%A9%DB%8C-%D9%88%D9%81%D8%A7%D8%A4%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%DA%86%D8%A7%DB%81-%DA%A9%DB%8C.62403/