ہر شے سے بڑھ کے جس کی وفاؤں کی چاہ کی

محمد یعقوب آسی — اپریل 15، 2013 2:49 شام
دعا کیجئے کے اللہ رب العزت میری تحریر میں اتنی برکت عطا فرما دیں کہ ہر شعر پسند کرنے کے لائق ہو جائے۔ اور استادِ محترم​
الف عین​
اور استادِ محترم​
محمد یعقوب آسی​
خوشی سے سب کو بتا سکیں کہ یہ لڑکا ہمارا شاگر ہے۔​

اس فقیر کو تو پورے طور پر شاگردی کا بھی دعویٰ نہیں جناب امجد علی راجا صاحب!
استادی تو بہت دور کی بات ہے! یار لوگ اپنا دل رکھنے کو استاد کہہ دیں تو یہ فقیر ان کا دل رکھنے کو خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ ورنہ بھائی، یہ بہت بھاری پگڑی ہے! اس فقیر کے خمیدہ سر پر ٹک ہی نہیں پائے گی۔
سید شہزاد ناصر — اپریل 15، 2013 2:57 شام
اس فقیر کو تو پورے طور پر شاگردی کا بھی دعویٰ نہیں جناب امجد علی راجا صاحب!
استادی تو بہت دور کی بات ہے! یار لوگ اپنا دل رکھنے کو استاد کہہ دیں تو یہ فقیر ان کا دل رکھنے کو خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ ورنہ بھائی، یہ بہت بھاری پگڑی ہے! اس فقیر کے خمیدہ سر پر ٹک ہی نہیں پائے گی۔
آپ لاکھ دامن چھڑائیں ہم آپ کی جان چھوڑنے والے نہیں استاد جی:)
جبل گردد، جبلی نہ گردد :wink2:
محمد یعقوب آسی — اپریل 15، 2013 3:16 شام
جبل گردد، جبلی نہ گردد :wink2:
ککھ سمجھ نہیں جے آئی، سچیں!
سید شہزاد ناصر
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 15، 2013 5:13 شام
آپ لاکھ دامن چھڑائیں ہم آپ کی جان چھوڑنے والے نہیں استاد جی:)
جبل گردد، جبلی نہ گردد :wink2:
غالبا یہ جملہ درست یوں ہے:
”جبل گردد جبلت نہ گردد“
یعنی پہاڑ تو اپنی جگہ سے ہٹ سکتا ہے ، مگر فطرت کبھی نہیں تبدیل ہوسکتی ہے۔
اسی کی ہم معنی ایک اور مثل ہے:
”زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد“
یعنی زمین تو اپنی جگہ سے ہل سکتی ہے، مگر گل محمد اپنے ارادے سے منہ نہیں موڑ سکتا ہے۔
اصرار اور ضد سے کنایہ ہے۔
جیسے نحو کی اصطلاح ”مبنی“ اور”معرب“ کی تعریف میں کہا جاتا ہے:
معرب آں باشد کہ گردد باربار ،مبنی آں باشد کہ ماند برقرار۔
سید شہزاد ناصر — اپریل 16، 2013 3:48 صبح
استاد جی ہمارے واضاحت کرنے سے پہلے ہی محمد اسامہ سَرسَری صاحب نے بہت معقول طریقے سے وضاحت کر دی :)
امجد علی راجا — اپریل 16، 2013 5:02 صبح
اس فقیر کو تو پورے طور پر شاگردی کا بھی دعویٰ نہیں جناب امجد علی راجا صاحب!
استادی تو بہت دور کی بات ہے! یار لوگ اپنا دل رکھنے کو استاد کہہ دیں تو یہ فقیر ان کا دل رکھنے کو خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ ورنہ بھائی، یہ بہت بھاری پگڑی ہے! اس فقیر کے خمیدہ سر پر ٹک ہی نہیں پائے گی۔
تو یار لوگوں کے ساتھ ساتھ میرا بھی دل رکھنے کے لئے اس بھاری پگڑی کا بوجھ اٹھائے رکھیں۔ میرا بھی آپ سے نسبت کا بھرم قائم رہ جائے گا۔
ویسے میں نے زندگی میں دیکھا ہے کہ عزت کی پگڑی صرف خمیدہ سروں پر ہی ٹک پاتی ہے۔ سلامت رہیں، ہمارے سروں پر قائم دائم رہیں۔
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 16، 2013 6:30 شام
استاد جی ہمارے واضاحت کرنے سے پہلے ہی محمد اسامہ سَرسَری صاحب نے بہت معقول طریقے سے وضاحت کر دی :)
اس نیت کے ساتھ کہ غلطی ہو تو اصلاح ہوجائے، یہی تو ہماری اس درس گاہ کا فائدہ ہے۔
امجد علی راجا — اپریل 17، 2013 5:02 صبح
اس نیت کے ساتھ کہ غلطی ہو تو اصلاح ہوجائے، یہی تو ہماری اس درس گاہ کا فائدہ ہے۔
واہ۔ اسامہ بھیا اس فورم کے لئے "درس گاہ" سے زیادہ موزوں خطاب ہو ہی نہیں سکتا۔ بہت خوب
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 17، 2013 5:13 صبح
اس فقیر کو تو پورے طور پر شاگردی کا بھی دعویٰ نہیں جناب امجد علی راجا صاحب!
استادی تو بہت دور کی بات ہے! یار لوگ اپنا دل رکھنے کو استاد کہہ دیں تو یہ فقیر ان کا دل رکھنے کو خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ ورنہ بھائی، یہ بہت بھاری پگڑی ہے! اس فقیر کے خمیدہ سر پر ٹک ہی نہیں پائے گی۔
آپ کے بڑے پن کو یہی زیبا ہے۔ لمبی عمر پائیے اور ہم کندگانِ ناتراش کی تراش خراش کرتے رہیے ۔ کیا اچھا ہے کہ ہمارے اساتذہ فقیر منش لوگ ہیں۔ ہم سب کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں استادِ محترم!
محمد یعقوب آسی — اپریل 17، 2013 5:18 صبح
۔۔۔۔۔۔
ہم فقیروں سے دوستی کر لو​
گر سکھا دیں گے بادشاہی کے​
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ حسبِ حال قطعاً نہیں ہے! :)
جاسمن — جولائی 7، 2020 7:32 شام
بہت خوب۔ اچھے اشعار ہیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%D8%B1-%D8%B4%DB%92-%D8%B3%DB%92-%D8%A8%DA%91%DA%BE-%DA%A9%DB%92-%D8%AC%D8%B3-%DA%A9%DB%8C-%D9%88%D9%81%D8%A7%D8%A4%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%DA%86%D8%A7%DB%81-%DA%A9%DB%8C.62403/page-3